قومی زبان

مرے جنوں کا نتیجہ ضرور نکلے گا

مرے جنوں کا نتیجہ ضرور نکلے گا اسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گا گرا دیا ہے تو ساحل پہ انتظار نہ کر اگر وہ ڈوب گیا ہے تو دور نکلے گا اسی کا شہر وہی مدعی وہی منصف ہمیں یقیں تھا ہمارا قصور نکلے گا یقیں نہ آئے تو اک بات پوچھ کر دیکھو جو ہنس رہا ہے وہ زخموں سے چور نکلے گا اس آستین سے ...

مزید پڑھیے

اپنے ہم راہ خود چلا کرنا

اپنے ہم راہ خود چلا کرنا کون آئے گا مت رکا کرنا خود کو پہچاننے کی کوشش میں دیر تک آئنہ تکا کرنا رخ اگر بستیوں کی جانب ہے ہر طرف دیکھ کر چلا کرنا وہ پیمبر تھا، بھول جاتا تھا صرف اپنے لیے دعا کرنا یار کیا زندگی ہے سورج کی صبح سے شام تک جلا کرنا کچھ تو اپنی خبر ملے مجھ کو میرے ...

مزید پڑھیے

پائیں ہر ایک راہگزر پر اداسیاں

پائیں ہر ایک راہگزر پر اداسیاں نکلی ہوئی ہیں کب سے سفر پر اداسیاں خوابیدہ شہر جاگنے والا ہے لوٹ آؤ بیٹھی ہوئی ہیں شام سے گھر پر اداسیاں میں خوف سے لرزتا رہا پڑھ نہیں سکا پھیلی ہوئی تھیں ایک خبر پر اداسیاں سورج کے ہاتھ سبز قباؤں تک آ گئے اب ہیں یہاں ہر ایک شجر پر اداسیاں اپنے ...

مزید پڑھیے

وہ اک لفظ جو بے صدا جائے گا

وہ اک لفظ جو بے صدا جائے گا وہی مدتوں تک سنا جائے گا کوئی ہے جو میرے تعاقب میں ہے مجھے میرا چہرہ دکھا جائے گا وہ اک شخص جو دشمن جاں سہی مگر پھر بھی اپنا کہا جائے گا جلے گی کوئی مشعل جاں ابھی مگر پھر اندھیرا سا چھا جائے گا نفی جرأت حق نمائی سہی مگر کب کسی سے کہا جائے گا یہاں اک ...

مزید پڑھیے

آج کی رات بھی گزری ہے مری کل کی طرح

آج کی رات بھی گزری ہے مری کل کی طرح ہاتھ آئے نہ ستارے ترے آنچل کی طرح حادثہ کوئی تو گزرا ہے یقیناً یارو ایک سناٹا ہے مجھ میں کسی مقتل کی طرح پھر نہ نکلا کوئی گھر سے کہ ہوا پھرتی تھی سنگ ہاتھوں میں اٹھائے کسی پاگل کی طرح تو کہ دریا ہے مگر میری طرح پیاسا ہے میں تیرے پاس چلا آؤں گا ...

مزید پڑھیے

ان سرابوں سے گزرنے دے مجھے

ان سرابوں سے گزرنے دے مجھے انگلیاں ریت میں بھرنے دے مجھے جس ندی پار نہ اترا کوئی اس ندی پار اترنے دے مجھے کوئی سیاح مجھے ڈھونڈھے گا اک جزیرہ ہوں ابھرنے دے مجھے یوں نہ بے زار ہو اتنا خود سے تیرا چہرہ ہوں سنورنے دے مجھے دیکھ بے منظریٔ منظر کو کم سے کم رنگ تو بھرنے دے مجھے رو بہ ...

مزید پڑھیے

صبح تک میں سوچتا ہوں شام سے

صبح تک میں سوچتا ہوں شام سے جی رہا ہے کون میرے نام سے شہر میں سچ بولتا پھرتا ہوں میں لوگ خائف ہیں مرے انجام سے رات بھر جاگے گا چوکی دار ایک اور سب سو جائیں گے آرام سے سو برس کا ہو گیا میرا مزار اب نوازا جاؤں گا انعام سے ساتھ لاؤں گا تھکن بیکار کی گھر سے باہر جا رہا ہوں کام ...

مزید پڑھیے

نظر میں ہر دشواری رکھ

نظر میں ہر دشواری رکھ خوابوں میں بیداری رکھ دنیا سے جھک کر مت مل رشتوں میں ہمواری رکھ سوچ سمجھ کر باتیں کر لفظوں میں تہہ داری رکھ فٹ پاتھوں پر چین سے سو گھر میں شب بیداری رکھ تو بھی سب جیسا بن جا بیچ میں دنیاداری رکھ ایک خبر ہے تیرے لیے دل پر پتھر بھاری رکھ خالی ہاتھ نکل گھر ...

مزید پڑھیے

ہر ایک ہاتھ میں پتھر دکھائی دیتا ہے

ہر ایک ہاتھ میں پتھر دکھائی دیتا ہے یہ زخم گھر سے نکل کر دکھائی دیتا ہے سنا ہے اب بھی مرے ہاتھ کی لکیروں میں نجومیوں کو مقدر دکھائی دیتا ہے اب انکسار بھی شامل ہے وضع میں اس کی اسے بھی اب کوئی ہمسر دکھائی دیتا ہے گرا نہ مجھ کو مرے خواب کی بلندی سے یہاں سے مجھ کو مرا گھر دکھائی ...

مزید پڑھیے

اسے بے چین کر جاؤں گا میں بھی

اسے بے چین کر جاؤں گا میں بھی خموشی سے گزر جاؤں گا میں بھی مجھے چھونے کی خواہش کون کرتا ہے کہ پل بھر میں بکھر جاؤں گا میں بھی بہت پچھتائے گا وہ بچھڑ کر خدا جانے کدھر جاؤں گا میں بھی ذرا بدلوں گا اس بے منظری کو پھر اس کے بعد مر جاؤں گا میں بھی کسی دیوار کا خاموش سایہ پکارے تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5223 سے 6203