قومی زبان

ہاں یہ توفیق کبھی مجھ کو خدا دیتا تھا

ہاں یہ توفیق کبھی مجھ کو خدا دیتا تھا نیکیاں کر کے میں دریا میں بہا دیتا تھا تھا اسی بھیڑ میں وہ میرا شناسا تھا بہت جو مجھے مجھ سے بچھڑنے کی دعا دیتا تھا اس کی نظروں میں تھا جلتا ہوا منظر کیسا خود جلائی ہوئی شمعوں کو بجھا دیتا تھا آگ میں لپٹا ہوا حد نظر تک ساحل حوصلہ ڈوبنے ...

مزید پڑھیے

اگر مسجد سے واعظ آ رہے ہیں

اگر مسجد سے واعظ آ رہے ہیں قدم کیوں ڈگمگائے جا رہے ہیں کسی کی بے وفائی کا گلہ تھا نہ جانے آپ کیوں شرما رہے ہیں یہ دیوانہ کسی کی کیا سنے گا یہ دیوانے کسے سمجھا رہے ہیں منانے کے لیے جشن بہاراں نشیمن بھی جلائے جا رہے ہیں امیرؔ ان کو ہے فکر چشم نم بھی وہ دامن بھی بچائے جا رہے ہیں

مزید پڑھیے

دل میں بے نام سی خوشی ہے ابھی

دل میں بے نام سی خوشی ہے ابھی زندگی میرے کام کی ہے ابھی میں بھی تجھ سے بچھڑ کے سرگرداں تیری آنکھوں میں بھی نمی ہے ابھی دل کی سنسان رہ گزاروں پر میں نے اک چیخ سی سنی ہے ابھی میں نے مانا بہت اندھیرا ہے پھر بھی تھوڑی سی روشنی ہے ابھی اپنے آنسو امیرؔ کیوں پونچھوں ان چراغوں میں ...

مزید پڑھیے

بند آنکھوں سے وہ منظر دیکھوں

بند آنکھوں سے وہ منظر دیکھوں ریگ صحرا کو سمندر دیکھوں کیا گزرتی ہے مرے بعد اس پر آج میں اس سے بچھڑ کر دیکھوں شہر کا شہر ہوا پتھر کا میں نے چاہا تھا کہ مڑ کر دیکھوں خوف تنہائی گھٹن سناٹا کیا نہیں مجھ میں جو باہر دیکھوں ہے ہر اک شخص کا دل پتھر کا میں جدھر جاؤں یہ پتھر دیکھوں کچھ ...

مزید پڑھیے

چلو کہ خود ہی کریں رو نمائیاں اپنی

چلو کہ خود ہی کریں رو نمائیاں اپنی سروں پہ لے کے چلیں کج کلاہیاں اپنی سبھی کو پار اترنے کی جستجو لیکن نہ بادباں نہ سمندر نہ کشتیاں اپنی وہ کہہ گیا ہے کہ اک دن ضرور آؤں گا ذرا قریب سے دیکھوں گا دوریاں اپنی مرے پڑوس میں ایسے بھی لوگ بستے ہیں جو مجھ میں ڈھونڈ رہے ہیں برائیاں ...

مزید پڑھیے

جانے یہ کس کی بنائی ہوئی تصویریں ہیں

جانے یہ کس کی بنائی ہوئی تصویریں ہیں تاج سر پر ہیں مگر پاؤں میں زنجیریں ہیں کیا مری سوچ تھی کیا سامنے آیا میرے کیا مرے خواب تھے کیا خواب کی تعبیریں ہیں کتنے سر ہیں کہ جو گردن زدنی ہیں اب بھی ہم کہ بزدل ہیں مگر ہاتھ میں شمشیریں ہیں چار جانب ہیں سیہ رات کے سائے لیکن افق دل پہ نئی ...

مزید پڑھیے

جنگ جاری ہے خاندانوں میں

جنگ جاری ہے خاندانوں میں غیر محفوظ ہوں مکانوں میں لفظ پتھرا گئے ہیں ہونٹوں پر لوگ کیا کہہ گئے ہیں کانوں میں رات گھر میں تھی سرپھری آندھی صرف کانٹے ہیں پھول دانوں میں معبدوں کی خبر نہیں مجھ کو خیریت ہے شراب خانوں میں اب سپر ڈھونڈ کوئی اپنے لیے تیر کم رہ گئے کمانوں میں ناخدا ...

مزید پڑھیے

یکم جنوری ہے نیا سال ہے

یکم جنوری ہے نیا سال ہے دسمبر میں پوچھوں گا کیا حال ہے بچائے خدا شر کی زد سے اسے بیچارہ بہت نیک اعمال ہے بتانے لگا رات بوڑھا فقیر یہ دنیا ہمیشہ سے کنگال ہے ہے دریا میں کچا گھڑا سوہنی کنارے پہ گم صم مہیوال ہے میں رہتا ہوں ہر شام شکوہ بہ لب مرے پاس دیوان اقبالؔ ہے

مزید پڑھیے

مرے حال پر مہربانی کرے

مرے حال پر مہربانی کرے خدا سے کہو حکم ثانی کرے میں اک بوند پانی بڑی چیز ہوں سمندر مری پاسبانی کرے پڑھیں لوگ تحریر دیوار و در خلاصہ مری بے زبانی کرے ازل سے میں اس کے تعاقب میں ہوں جو لمحہ مجھے غیر فانی کرے وہ بخشے اجالے کسی صبح کو کوئی شام روشن سہانی کرے مرے سائے میں سب ہیں ...

مزید پڑھیے

لوگ بنتے ہیں ہوشیار بہت

لوگ بنتے ہیں ہوشیار بہت ورنہ ہم بھی تھے خاکسار بہت گھر سے بے تیشہ کیوں نکل آئے راستے میں ہیں کوہسار بہت تجھ سے بچھڑے تو اے نگار حیات مل گئے ہم کو غم گسار بہت ہاتھ شل ہو گئے شناور کے اب یہ دریا ہے بے کنار بہت ہم فقیروں کو کم نظر آئے اس نگر میں تھے شہریار بہت اس نے مجبور کر دیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5221 سے 6203