جرس مے نے پکارا ہے اٹھو اور سنو
جرس مے نے پکارا ہے اٹھو اور سنو شیخ آئے ہیں سوئے مے کدہ لو اور سنو کس طرح اجڑے سلگتی ہوئی یادوں کے دیے ہمدمو دل کے قریب آؤ رکو اور سنو زخم ہستی ہے کوئی زخم محبت تو نہیں ٹیس اٹھے بھی تو فریاد نہ ہو اور سنو خود ہی ہر گھاؤ پہ کہتے ہو زباں گنگ رہے خود ہی پھر پرسش احوال کرو اور ...