قومی زبان

جرس مے نے پکارا ہے اٹھو اور سنو

جرس مے نے پکارا ہے اٹھو اور سنو شیخ آئے ہیں سوئے مے کدہ لو اور سنو کس طرح اجڑے سلگتی ہوئی یادوں کے دیے ہمدمو دل کے قریب آؤ رکو اور سنو زخم ہستی ہے کوئی زخم محبت تو نہیں ٹیس اٹھے بھی تو فریاد نہ ہو اور سنو خود ہی ہر گھاؤ پہ کہتے ہو زباں گنگ رہے خود ہی پھر پرسش احوال کرو اور ...

مزید پڑھیے

جو دہائی دے رہا ہے کوئی سودائی نہ ہو

جو دہائی دے رہا ہے کوئی سودائی نہ ہو اپنے ہی گھر میں کسی نے آگ دہکائی نہ ہو راستے میں اس سے پہلے کب تھا اتنا اژدحام جو تماشہ بن رہا ہے وہ تماشائی نہ ہو جو ملا نظریں چرا کر چل دیا اب کیا کہیں شہر میں رہ کر کبھی اتنی شناسائی نہ ہو اپنی ہی آواز پر چونکے ہیں ہم تو بار بار اے رفیقو بزم ...

مزید پڑھیے

منزل‌ شمس و قمر سے گزرے

منزل‌ شمس و قمر سے گزرے جب تری راہ گزر سے گزرے شب کی گاتی ہوئی تنہائی میں کتنے طوفاں تھے جو سر سے گزرے وہیں پت جھڑ نے پڑاؤ ڈالا قافلے گل کے جدھر سے گزرے ہر طرف ثبت ہیں قدموں کے نشاں کوئی کس راہ گزر سے گزرے کس قدر خود پہ ہمیں پیار آیا آج جب اپنی نظر سے گزرے سرخیٔ گل سے بھی چونکے ...

مزید پڑھیے

ہو سکے تو دل صد چاک دکھایا جائے

ہو سکے تو دل صد چاک دکھایا جائے اب بھری بزم میں احوال سنایا جائے ہائے اس جان تمنا سے نبھے گی کیسے ہم سے تو راز نہ اک روز چھپایا جائے اپنا غم ہو تو اسے کہہ کے سکوں مل جائے اس کا غم ہو تو کسے جا کے سنایا جائے رات بھر جن کی ضیا سے رہے روشن کمرے صبح دم ان ہی چراغوں کو بجھایا ...

مزید پڑھیے

کسی مکاں کے دریچے کو وا تو ہونا تھا

کسی مکاں کے دریچے کو وا تو ہونا تھا مجھے کسی نہ کسی دن صدا تو ہونا تھا جسے خمیدہ سروں سے ملے قد و قامت اسے کسی نہ کسی دن خدا تو ہونا تھا میں جانتا تھا جبینوں پہ بل پڑیں گے مگر قلم کا قرض تھا آخر ادا تو ہونا تھا یہ کیا ضرور پتہ پوچھتے پھریں اس کا ملا ہی یوں تھا وہ جیسے جدا تو ہونا ...

مزید پڑھیے

آج وہ پھول بنا حسن دل آرا دیکھا

آج وہ پھول بنا حسن دل آرا دیکھا سچ ہوا پچھلے برس جو بھی کہا تھا دیکھا دھیان میں لائے تصور میں بسایا دیکھا اتنا ہی اجنبی پایا اسے جتنا دیکھا کس وسیلے سے بھلا عرض تمنا کرتے ہم نے جس وقت بھی دیکھا اسے تنہا دیکھا کب سے احساس پہ اک بوجھ لیے پھرتے ہیں کاش پوچھو کہ بھری بزم میں کیا ...

مزید پڑھیے

میں تری دسترس سے بہت دور تھا

میں تری دسترس سے بہت دور تھا پھر بھی نزدیک آنے پہ مجبور تھا آج میں ہی سزاوار جور و ستم کل تری مانگ کا میں ہی سندور تھا کون آتا ہے یوں زیر دام ان دنوں رات تاریک تھی آشیاں دور تھا کچھ خلوص وفا پر بھی نادم تھا میں اور کچھ دل کے زخموں سے بھی چور تھا آئنہ دیکھ کر یوں ندامت ہوئی میں ...

مزید پڑھیے

ہمیں تھے جان بہاراں ہمیں تھے رنگ طرب

ہمیں تھے جان بہاراں ہمیں تھے رنگ طرب ہمیں ہیں بز‌م مے و گل میں آج مہر بہ لب وہی تجھے بھی نظر آئے بے ادب جو لوگ فقیہ شہر سے الجھے تری گلی کے سبب خیال و فکر کے پھر سلسلے سلگ نہ اٹھیں کہ چبھ رہی ہے دلوں میں ہوائے گیسوئے شب بس ایک جام نے رندوں کی آبرو رکھ لی وگرنہ کم نہ تھا واعظ کا ...

مزید پڑھیے

تیرگی ہی تیرگی ہے بام و در میں کون ہے

تیرگی ہی تیرگی ہے بام و در میں کون ہے کچھ دکھائی دے تو بتلائیں نظر میں کون ہے کیوں جلاتا ہے مجھے وہ آتش احساس سے میں کہاں ہوں یہ مرے دیوار و در میں کون ہے ذات کے پردے سے باہر آ کے بھی تنہا رہوں میں اگر ہوں اجنبی تو میرے گھر میں کون ہے چاک کیوں ہوتے ہیں پیراہن گلوں کے کچھ کہو جھک ...

مزید پڑھیے

جب کوئی بھی خاقان سر بام نہ ہوگا

جب کوئی بھی خاقان سر بام نہ ہوگا پھر اہل زمیں پر کوئی الزام نہ ہوگا کل وہ ہمیں پہچان نہ پائے سر راہے شاید انہیں اب ہم سے کوئی کام نہ ہوگا پھر کون سمجھ پائے گا اسرار حقیقت جب فیصلہ کوئی بھی سر عام نہ ہوگا یہ عہد رواں خاک نشاں دھیان میں رکھو پھر ڈھونڈو گے کس کو جو کوئی نام نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5217 سے 6203