قومی زبان

کوئی منجدھار نہ دھارا ہے خدا خیر کرے

کوئی منجدھار نہ دھارا ہے خدا خیر کرے آج کیوں پاس کنارا ہے خدا خیر کرے پھر نشیمن کو سنوارا ہے خدا خیر کرے برق کی آنکھ کا تارا ہے خدا خیر کرے دیکھیں لوٹ آتی ہے آواز کہ ملتا ہے جواب دل نے پھر تجھ کو پکارا ہے خدا خیر کرے ہوش پانے کا نہیں دل کہ جو پانی مانگے زلف شب رنگ کا مارا ہے خدا ...

مزید پڑھیے

ہم کنارا کئے کناروں سے

ہم کنارا کئے کناروں سے کھیلا کرتے ہیں منجدھاروں سے ہم گزرتے ہیں کھیلتے ہنستے شعلہ زاروں سے خارزاروں سے نام پاتے ہیں ناصح بے نام ہم سے بدنام بادہ خواروں سے تف بہ مطلب براری یاراں اف یہ اطوار خاکساروں سے جن کے دل میں گلوں کی چاہت ہے پہلے وہ سرخ رو ہوں خاروں سے دل کی راہوں میں ...

مزید پڑھیے

اعتبار شوق اک دھوکا سہی

اعتبار شوق اک دھوکا سہی اعتبار شوق پر ہے زندگی سونی یادو تم سے پہلو ہے بسا سونی یادو تم سے کیا پہلو تہی دل ہوا چھلنی تو نغمے چھن پڑے بانس میں روزن پڑے تو بانسری بے کسی میں بھی بڑا کس بل ہے دوست موت کیا ہے زیست کو ٹھکرا کے جی ہم خدا بھی مان لیں گے آپ کو آپ پہلے ہو تو جائیں ...

مزید پڑھیے

خاکساروں کے فن کرارے ہیں

خاکساروں کے فن کرارے ہیں خاک اوڑھے ہوئے شرارے ہیں آدمی یہ بھی وہ بھی سارے ہیں نت نئے رنگ روپ دھارے ہیں کیوں نہ خودبیں ہوں ماہ پارے ہیں پیار کرتے نہیں جو پیارے ہیں مٹ گئے جو وفا کی راہوں میں کتنے انمٹ نشاں ابھارے ہیں کس سے شکوہ ہو بے وفائی کا ہم تو اپنی وفا کے مارے ہیں یاس ہی ...

مزید پڑھیے

آپ کی نظر عنایت ہو گئی

آپ کی نظر عنایت ہو گئی زندگی مرہون منت ہو گئی مل گئے دو دل محبت ہو گئی بات بس اتنی قیامت ہو گئی کیوں فزوں تر آج وحشت ہو گئی کیا کسی منزل سے قربت ہو گئی آپ ہم پر ملتفت کیا ہو گئے ہم سے دنیا کو عداوت ہو گئی ہو گئے کیا کیا فسانے سر بلند سرنگوں ساری حقیقت ہو گئی آپ نے غم دے دیا کیا ...

مزید پڑھیے

یہ مانا کہ ہستی نہیں جاودانی

یہ مانا کہ ہستی نہیں جاودانی محبت ہے لیکن مری غیر فانی زباں کھل نہ پائی تو دل کی کہانی سناتے رہے آنسوؤں کی زبانی مرے اشک دامن سے اپنے نہ پونچھو تھمے گی نہ اشکوں کی پھر یہ روانی شکایت نہیں ہے بھلا دے اگر تو نہ آ یاد مجھ کو بڑی مہربانی دل زار کی تو نے فریاد آخر نہ مانی مری بات تو ...

مزید پڑھیے

امیدیں تو وابستہ ہیں ابر تر سے

امیدیں تو وابستہ ہیں ابر تر سے جو برسے تو برسے نہ برسے نہ برسے جہاں کیا ہے اور اس کی رنگینیاں کیا یہ پوچھو کسی دیدۂ حق نگر سے زبان و دہن سے جو کھلتے نہیں ہیں وہ کھل جاتے ہیں راز اکثر نظر سے مرا راستہ کارواں سے الگ ہے گزرنا ہے اک منزل پر خطر سے یہ ہے امنؔ انساں کی پستی سی ...

مزید پڑھیے

یہ میکش کون باصد لغزش مستانہ آتا ہے

یہ میکش کون باصد لغزش مستانہ آتا ہے اشارے ہوتے ہیں وہ رونق مے خانہ آتا ہے تمہاری بزم بھی کیا بزم ہے آداب ہیں کیسے وہی مقبول ہوتا ہے جو گستاخانہ آتا ہے کہانی اپنی اپنی اہل محفل جب سناتے ہیں مجھے بھی یاد اک بھولا ہوا افسانہ آتا ہے دعا تیری ترے منتر بھلا مقبول کیا ہوں گے بدی دل ...

مزید پڑھیے

کہا جھنجھلا کے اہل قافلہ سے ایک رہبر نے

کہا جھنجھلا کے اہل قافلہ سے ایک رہبر نے ابھی تو پہلی منزل ہے ابھی سے کیوں لگے ڈرنے مکمل داستاں کا اختصار اتنا ہی کافی ہے سلایا شور دنیا نے جگایا شور محشر نے سر دیوار زنداں چاندنی چھنتی تھی پتوں سے دیا تھا قید میں کیا لطف ایسی شب کے منظر نے زمانہ کی کشاکش کا دیا پیہم پتہ مجھ ...

مزید پڑھیے

کوئی حد بھی ہے آخر امتحاں کی

کوئی حد بھی ہے آخر امتحاں کی الٰہی خیر قلب ناتواں کی یہ ہے اک مہر بے بال و پری پر رہائی بھی رہائی ہے کہاں کی خزاں کا وسوسہ ہے فصل گل میں ضرورت ہے بہار بے خزاں کی زمیں پر ہیں وہ کچھ مٹی کے پتلے کہ جن میں رفعتیں ہیں آسماں کی

مزید پڑھیے
صفحہ 5201 سے 6203