کوئی منجدھار نہ دھارا ہے خدا خیر کرے
کوئی منجدھار نہ دھارا ہے خدا خیر کرے آج کیوں پاس کنارا ہے خدا خیر کرے پھر نشیمن کو سنوارا ہے خدا خیر کرے برق کی آنکھ کا تارا ہے خدا خیر کرے دیکھیں لوٹ آتی ہے آواز کہ ملتا ہے جواب دل نے پھر تجھ کو پکارا ہے خدا خیر کرے ہوش پانے کا نہیں دل کہ جو پانی مانگے زلف شب رنگ کا مارا ہے خدا ...