پہاڑے
دو ایکا دو ہو ہو ہو دو دونی چار آؤ کھیلیں یار دو تیا چھ ہے ہے ہے دو چوکے آٹھ کر لو بھیا ٹھاٹھ دو پنجے دس کہہ دو بس دو چھکے بارہ چاند ستارا دو ست چودہ رہ سیدھا سادہ دو اٹھے سولہ تو نہیں بھولا دو نواں اٹھارہ کھل گیا چہرہ دو دہائی بیس نہ ہوئے ٹیس
دو ایکا دو ہو ہو ہو دو دونی چار آؤ کھیلیں یار دو تیا چھ ہے ہے ہے دو چوکے آٹھ کر لو بھیا ٹھاٹھ دو پنجے دس کہہ دو بس دو چھکے بارہ چاند ستارا دو ست چودہ رہ سیدھا سادہ دو اٹھے سولہ تو نہیں بھولا دو نواں اٹھارہ کھل گیا چہرہ دو دہائی بیس نہ ہوئے ٹیس
زندگی اپنا سفر طے تو کرے گی لیکن ہم سفر آپ جو ہوتے تو مزا اور ہی تھا کعبہ و دیر میں اب ڈھونڈ رہی ہے دنیا جو دل و جان میں بستا تھا خدا اور ہی تھا اب یہ عالم ہے کہ دولت کا نشہ طاری ہے جو کبھی عشق نے بخشا تھا نشہ اور ہی تھا دور سے یوں ہی لگا تھا کہ بہت دوری ہے جب قریب آئے تو جانا کہ گلا ...
وفا کی شان وہ لیکن کبھی مرے نہ ہوئے ہے میری جان وہ لیکن کبھی مرے نہ ہوئے انہیں کا ذکر غزل بھی وہی فسانہ بھی سخن کی آن وہ لیکن کبھی مرے نہ ہوئے نشہ ہے ان کی صدا کا کہ دھڑکنیں میری رہا گمان وہ لیکن کبھی مرے نہ ہوئے گلوں میں رنگ انہیں سے مہک مہک ان سے چمن کی شان وہ لیکن کبھی مرے نہ ...
محبت عمر بھر کی رائیگاں کرنا نہیں اچھا سنبھل اے دل انا کو آسماں کرنا نہیں اچھا کچھ ایسے راز ہوتے ہیں بیاں کرنا نہیں اچھا ہر اک چہرے کی سچائی عیاں کرنا نہیں اچھا کسی ناکام حسرت کی جو سلگے آگ سینہ میں ہوا یادوں کی مت دینا دھیاں کرنا نہیں اچھا چمن میں ہوں تو پھر میں بھی چمن کا ایک ...
رقیب جاں نظر کا نور ہو جائے تو کیا کیجے زیاں دل کو اگر منظور ہو جائے تو کیا کیجے وفا کرنے سے وہ مجبور ہو جائے تو کیا کیجے محبت روح کا ناسور ہو جائے تو کیا کیجے وہی چرچے وہی قصے ملی رسوائیاں ہم کو انہی قصوں سے وہ مشہور ہو جائے تو کیا کیجے زمانے سے گلا کیسا جب اپنے جسم کا ...
کیا میں اک حرف تھا لکھا یوں ہی میرا ہونا بھی بس ہوا یوں ہی جانتی ہوں کہ تم کو پیار نہیں یوں ہی مجھ کو لگا لگا یوں ہی اک خدا کی وہ بات کرتا تھا اور پھر ہو گیا خدا یوں ہی کیا پتا کب قبول ہو جائے تو بھی تو مانگ لیں دعا یوں ہی ایک خدشہ ہے بہکے قدموں سے ڈھونڈ ہی لیں نہ راستہ یوں ہی وہ ...
میری تلاش مجھے لے چلی ہے ماضی میں تمہیں بتاؤ میں خود کو کہاں تلاش کروں پگھل پگھل کے صدا امتحاں کی آتش میں وجود ڈھل گیا میرا عجیب سانچوں میں وہ اک وجود جو رشتوں میں کھو گیا ہے کہیں اسی وجود کو پھر سے کہاں تلاش کروں تراشنا ہے نیا اک مجسمہ یا پھر میں اپنے گمشدہ حصوں کو پھر تلاش ...
کرب در پردۂ طرب ہے ابھی مسکراہٹ بھی زیر لب ہے ابھی ہیں پریشاں حیات کے گیسو نہ کرو ذکر صبح شب ہے ابھی مل تو سکتا ہے آدمی میں خدا آدمی آدمی ہی کب ہے ابھی لاکھ سمجھوتے حال سے کیجئے تھی غضب یاد اک غضب ہے ابھی کس قدر کامیاب ہے انساں بھوک ہی موت کا سبب ہے ابھی زندگی تشنگی میں تھی ...
دن کو کہہ دیں رات ہم سمجھے نہیں آپ کی یہ بات ہم سمجھے نہیں ہم کہ اک رہن قفس بسمل نفس آسماں ہیں سات ہم سمجھے نہیں کیا سمجھ میں آئے ذات ماسوا ما سوائے ذات ہم سمجھے نہیں عشق سے باز آتے ہم دیوانے کیا تھی سمجھ کی بات ہم سمجھے نہیں الغرض ہے زیست مرہون اجل غایت غایات ہم سمجھے ...
لٹ جائے چمن گل کا تبسم نہیں بکتا سو دام ہوں بلبل کا ترنم نہیں بکتا بک جاتا ہے زردار کی الفت کا تیقن نادار کی چاہت کا توہم نہیں بکتا بڑھتی ہے بڑھے گرمئ بازار ہوس کی لب بکتے ہیں اے دوست تبسم نہیں بکتا لب سی دو زباں کھینچ دو سولی پہ چڑھا دو حق گو کا زمانے میں تکلم نہیں بکتا حالات ...