اوڑھ لیتا ہے کوئی تیرگی شب سے پہلے
اوڑھ لیتا ہے کوئی تیرگی شب سے پہلے رونما ہوتے ہیں اثرات سبب سے پہلے سب سے اونچا تھا زمانے میں تخیل میرا حادثے مجھ پہ گرا کرتے تھے سب سے پہلے ایک دوجے سے نمو پاتی ہیں چیزیں اکثر پیاس کا نام کہاں ہوتا تھا لب سے پہلے شعر نے حسن کی ترویج کا سامان کیا رائیگاں جاتی تھی ہر آنکھ ادب سے ...