قومی زبان

میرے لب پر اگر کبھی آئی

میرے لب پر اگر کبھی آئی رقص کرتی ہوئی ہنسی آئی ان کے مجھ پر ستم بڑھے جب سے درد دل میں بہت کمی آئی ہنستے ہنستے نکل پڑے آنسو روتے روتے کبھی ہنسی آئی رقص کرنے لگے مرے ارماں یاد جب ان کی جھومتی آئی مشعل راہ بن کے اے تاباںؔ ان کے جلووں کی روشنی آئی

مزید پڑھیے

کہیں چرچا ہمارا ہو نہ جائے

کہیں چرچا ہمارا ہو نہ جائے محبت آشکارہ ہو نہ جائے کہیں اس کا نظارا ہو نہ جائے یہ دل قرباں ہمارا ہو نہ جائے نہ دیکھو ترچھی نظروں سے خدارا مرا دل پارا پارا ہو نہ جائے نہ پڑ جائیں جگر کے اپنے لالے کہیں اس کا اشارا ہو نہ جائے نہ دیکھو پیار کی نظروں سے ڈر ہے ہمارا دل تمہارا ہو نہ ...

مزید پڑھیے

ہوں گے وہ جلوہ گر کبھی نہ کبھی

ہوں گے وہ جلوہ گر کبھی نہ کبھی آئیں گے بام پر کبھی نہ کبھی یہ یقیں ہے کی میری الفت کا ہوگا ان پر اثر کبھی نہ کبھی کھینچ لائے گا میرا جذبۂ دل تجھ کو اے بے خبر کبھی نہ کبھی لاکھ ہم سے چھپا تو پھر کیا ہے ڈھونڈ لے گا نظر کبھی نہ کبھی شعر گوئی کو آپ کی تاباںؔ ہوگا حاصل ثمر کبھی نہ ...

مزید پڑھیے

وفا کا مری کیا سلا دیجئے گا

وفا کا مری کیا سلا دیجئے گا غم دل کی لذت بڑھا دیجئے گا مجھے دیکھ کر مسکرا دیجئے گا یوں ہی میری ہستی مٹا دیجئے گا صلہ دل لگانے کا کیا دیجئے گا ستم دیجئے گا سزا دیجئے گا سکوں کی طلب مجھ کو ہرگز نہیں ہے بس اک درد کا سلسلہ دیجئے گا خوشی بانٹنے کے نہیں آپ قائل تو غم ہی مجھے کچھ سوا ...

مزید پڑھیے

آپ کو اپنا بناتے ہوئے ڈر لگتا ہے

آپ کو اپنا بناتے ہوئے ڈر لگتا ہے دل کی دنیا بھی بساتے ہوئے ڈر لگتا ہے لگ نہ جائے کہیں ان پھولوں کو دنیا کی نظر داغ دل اپنے دکھاتے ہوئے ڈر لگتا ہے ہو نہ جائے کہیں ہنگامۂ محشر برپا اپنی روداد سناتے ہوئے ڈر لگتا ہے تپش حسن نہ پروانہ بنا دے مجھ کو اس کے نزدیک بھی جاتے ہوئے ڈر لگتا ...

مزید پڑھیے

خوشی کی بات اور ہے غموں کی بات اور

خوشی کی بات اور ہے غموں کی بات اور تمہاری بات اور ہے ہماری بات اور کوئی اگر جفا کرے نہیں ہے کچھ گلہ مجھے کسی کی بات اور ہے تمہاری بات اور حضور سن بھی لیجئے چھوڑ کر کے جائیے ذرا سی بات اور ہے ذرا سی بات اور قطعہ رباعی اور نظم خوب تر صحیح مگر غزل کی بات اور ہے غزل کی بات اور زباں ...

مزید پڑھیے

نئے چراغ نئی روشنی عطا کرتے

نئے چراغ نئی روشنی عطا کرتے اگر پرانے دیے ان سے کچھ وفا کرتے میں زندگی تیرے احسان میں دبا ہی رہا اک عمر گزری ترا قرض بھی ادا کرتے تجھے بھی آتے مسافر سلام منزل کے بصد خلوص جو تیرے قدم اٹھا کرتے خودی پسند عناصر حیات کہ خاطر جو احتجاج نہ کرتے تو اور کیا کرتے سمجھ سے کام جو لیتا ...

مزید پڑھیے

ہر ایک شخص مرا شہر میں شناسا تھا

ہر ایک شخص مرا شہر میں شناسا تھا مگر جو غور سے دیکھا تو میں اکیلا تھا وہ خواب عیش طرب کا جو ہم نے دیکھا تھا حقیقتوں سے پرے تھا حسین دھوکا تھا خدا ہمیں بھی دکھا دے وہ دور کیسا تھا خلوص و مہر کا ہر شخص جس میں دریا تھا ستم بھی مجھ پہ وہ کرتا رہا کرم کی طرح وہ مہرباں تو نہ تھا مہربان ...

مزید پڑھیے

رہبرو بولو ماجرا کیا ہے

رہبرو بولو ماجرا کیا ہے یہ فسادوں کا سلسلہ کیا ہے صدق دل سے اگر نہ ہو عابد ان دعاؤں کا آسرا کیا ہے کچھ سمجھ میں مری نہیں آتا دل لگانے سے فائدہ کیا ہے ٹھوکریں گردشیں غم و آلام اور تقدیر میں لکھا کیا ہے جی تو یہ چاہتا ہے مر جائیں زندگی اب تری رضا کیا ہے عشق ایمان ہے مرا ناصح دل ...

مزید پڑھیے

میں سمجھتا تھا در و بام کہاں بولتے ہیں

میں سمجھتا تھا در و بام کہاں بولتے ہیں پھر ترے بعد کھلا مجھ پہ کہ ہاں بولتے ہیں یہ جو دبتی ہے مرے شور میں آواز مری میری ہستی میں کہیں کار زیاں بولتے ہیں اس جہاں کے متوازی بھی جہاں ہے کوئی جو یہاں بول نہیں پاتے وہاں بولتے ہیں متصل اس کے لبوں سے ہے یہ کار آواز وہ اگر ہل نہ سکیں ہم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5083 سے 6203