قومی زبان

ویراں ویراں بام و در میں اور مری تنہائی

ویراں ویراں بام و در میں اور مری تنہائی تاریکی میں ڈوبا گھر میں اور مری تنہائی اس کے قد کی خال و خد کی صورت کی سیرت کی باتیں کرتے ہیں شب بھر میں اور مری تنہائی جانے کس دن وہ آ جائے بانٹے پیار اثاثے دروازہ کشکول نظر میں اور مری تنہائی ہجر رتوں کے خاموشی کے دل کی بیتابی کے ہیں اک ...

مزید پڑھیے

مخالفوں کے جلو میں وہ آج شامل تھا

مخالفوں کے جلو میں وہ آج شامل تھا وفا پرست رتوں کا جو شخص حاصل تھا وہ میری ذات کی پہچان بھی تعارف بھی مرے لہو میں بہ رنگ حیات شامل تھا حسین رات تھی ہاتھوں میں ہاتھ تھے ہم تھے کنار آب خموشی تھی ماہ کامل تھا تغیرات زمانہ بھی کیا عجب شے ہیں جو جاں نثار تھا پہلے وہ آج قاتل تھا مجھے ...

مزید پڑھیے

کیا کہوں کتنا فزوں ہے تیرے دیوانے کا دکھ

کیا کہوں کتنا فزوں ہے تیرے دیوانے کا دکھ اک طرف جانے کا غم ہے اک طرف آنے کا دکھ ہے عجب بے رنگیٔ احوال مجھ میں موجزن نے ہی جینے کی طلب ہے نے ہی مر جانے کا دکھ توڑ ڈالا تھا سبھی کو درد کے آزار نے سہہ نہ پایا تھا کوئی کردار افسانے کا دکھ خون رو اٹھتی ہیں سب آنکھیں نگار صبح کی بانٹتی ...

مزید پڑھیے

کشت احساس میں تھوڑا سا ملا لیں گے تجھے

کشت احساس میں تھوڑا سا ملا لیں گے تجھے پھر نئی پود کی صورت میں اگا لیں گے تجھے کیا خبر کام کا لمحہ کوئی ہاتھ آ جائے کاسۂ وقت کسی روز کھنگالیں گے تجھے اک فقط تیری توجہ سے ترے پیار تلک رفتہ رفتہ ہی سہی اپنا بنا لیں گے تجھے سرحد وقت کے اس پار تو جانے دے مجھے اے غم یار! وہاں پر بھی ...

مزید پڑھیے

دکھاتی ہے جو یہ دنیا وہ بیٹھا دیکھتا ہوں میں

دکھاتی ہے جو یہ دنیا وہ بیٹھا دیکھتا ہوں میں ہے تف مجھ پر تماشہ بین ہو کر رہ گیا ہوں میں بس اتنا ربط کافی ہے مجھے اے بھولنے والے تری سوئی ہوئی آنکھوں میں اکثر جاگتا ہوں میں نہ کیوں ہوگی مری بار آوری پھر دیکھنے لائق محبت کی مہکتی خاک میں بویا گیا ہوں میں مری آبادیوں میں چار سو ...

مزید پڑھیے

پیاس ہر ذرۂ صحرا کی بجھائی گئی ہے

پیاس ہر ذرۂ صحرا کی بجھائی گئی ہے تب کہیں جا کے مری آبلہ پائی گئی ہے قید میں رکھی گئی ہے کہیں تتلی کوئی کوئی خوشبو کہیں بازار میں لائی گئی ہے کیا بھلا اپنی سماعت میں گھلے کوئی مٹھاس وقت کے ہونٹوں سے کب تلخ نوائی گئی ہے کس کی تنویر سے جل اٹھے بصیرت کے چراغ کس کی تصویر یہ آنکھوں ...

مزید پڑھیے

بس کہ اک لمس کی امید پہ وارے ہوئے ہیں

بس کہ اک لمس کی امید پہ وارے ہوئے ہیں سو ترے سامنے یہ خاک پسارے ہوئے ہیں جانے کب ان کو بجھا بیٹھے کوئی باد الم سر مژگان تمنا جو ستارے ہوئے ہیں زندگی تو بھی ہمیں ویسے ہی اک روز گزار جس طرح ہم تجھے برسوں سے گزارے ہوئے ہیں نت نئے نقش کریں اس پہ اذیت کے رقم آ کہ ہم تختیٔ دل اپنی ...

مزید پڑھیے

بے اماں ہوں ان دنوں میں در بدر پھرتا ہوں میں

بے اماں ہوں ان دنوں میں در بدر پھرتا ہوں میں میں مودت ہوں وفا ہوں خیر کا جذبہ ہوں میں دل کی موجوں میں بپا کر کے تلاطم خیزیاں اپنے اندر کی زمینیں کاٹتا رہتا ہوں میں کھیل ہے سرکش ہواؤں کے لئے میرا وجود کم طنابی جس کی قسمت ہے وہ اک خیمہ ہوں میں ہے مکمل وقت کے سورج پہ میرا ...

مزید پڑھیے

پلٹ کر دیکھنے کا مجھ میں یارا ہی نہیں تھا

پلٹ کر دیکھنے کا مجھ میں یارا ہی نہیں تھا نہیں ایسا کہ پھر اس نے پکارا ہی نہیں تھا سمندر کی ہر اک شے پر ہماری دسترس تھی کہ طغیانی بھی اپنی تھی کنارہ ہی نہیں تھا وہ اک لمحہ سزا کاٹی گئی تھی جس کی خاطر وہ لمحہ تو ابھی ہم نے گزارہ ہی نہیں تھا وہ بن کر چاند تب اترا تھا اس دل کی زمیں ...

مزید پڑھیے

جڑے ہوئے ہیں پری خانے میرے کاغذ سے

جڑے ہوئے ہیں پری خانے میرے کاغذ سے جو اٹھ رہے ہیں یہ افسانے میرے کاغذ سے کترتا رہتا ہے مقراض چشم سے مجھ کو بنانا کیا ہے اسے جانے میرے کاغذ سے قلم نے نوک الم کیا رکھی بہ چشم دل چھلکنے لگ گئے پیمانے میرے کاغذ سے رقم کروں بھی تو کیسے میں داستان وفا حروف پھرتے ہیں بیگانے میرے کاغذ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5051 سے 6203