ویراں ویراں بام و در میں اور مری تنہائی
ویراں ویراں بام و در میں اور مری تنہائی تاریکی میں ڈوبا گھر میں اور مری تنہائی اس کے قد کی خال و خد کی صورت کی سیرت کی باتیں کرتے ہیں شب بھر میں اور مری تنہائی جانے کس دن وہ آ جائے بانٹے پیار اثاثے دروازہ کشکول نظر میں اور مری تنہائی ہجر رتوں کے خاموشی کے دل کی بیتابی کے ہیں اک ...