قومی زبان

اس نے مجھے کیوں روکنا چاہا

مجھے اس سے تعلق تھا تو بس اتنا کہ میری چند سانسیں کھو گئی تھیں اس کی بستی میں مگر میں نے اسے اپنی محبت کا امیں جانا نہ اس نے ہی کبھی گلیوں میں چھپ چھپ کر مجھے دیکھا کبھی ہم راہ میں اک دوسرے کے سامنے آئے تو یوں جیسے کسی خاموش اسٹیشن پہ دو سادہ مسافر ریل کی آمد پر اک دم چونک کر اک ...

مزید پڑھیے

جینا ہے ایک شغل سو کرتے رہے ہیں ہم

جینا ہے ایک شغل سو کرتے رہے ہیں ہم ہے زندگی گواہ کہ مرتے رہے ہیں ہم سہتے رہے ہیں ظلم ہم اہل زمین کے الزام آسمان پہ دھرتے رہے ہیں ہم ملتے رہے ہیں راز ہمیں اہل زہد کے ناز اپنے شغل جام پہ کرتے رہے ہیں ہم احباب کی نگاہ پہ چڑھتے رہے مگر اغیار کے دلوں میں اترتے رہے ہیں ہم جیسے کہ ان ...

مزید پڑھیے

ہم گھر ہی میں رہتے تو تماشا تو نہ ہوتے

ہم گھر ہی میں رہتے تو تماشا تو نہ ہوتے یوں کشتۂ بیداد زمانہ تو نہ ہوتے غم دل پہ شکست طلب جاں کا ہے بھاری مٹ جاتے تگ و تاز میں پسپا تو نہ ہوتے کھو جاتے کسی بادیۂ ہفت بلا میں خلقت میں مگر راندۂ دنیا تو نہ ہوتے دنیا سے جو رکھتے کبھی دنیا سے روابط اپنے ہی زمانے میں یوں تنہا تو نہ ...

مزید پڑھیے

حصار دل سے ادھر بھی حقیقتیں ہیں بہت

حصار دل سے ادھر بھی حقیقتیں ہیں بہت ترے بغیر بھی جینے کی صورتیں ہیں ہیں ترے غرور کو ہم سے شکایتیں ہیں بجا ہم آدمی ہیں ہمیں پست عادتیں ہیں بہت جو تیری طرز جفا سے ہمارا حال ہوا زباں پہ لائیں یہ اس میں قباحتیں ہیں بہت اگر ہے باعث وحشت تجھے ہمارا جنوں ہمیں بھی تیری ادا سے شکایتیں ...

مزید پڑھیے

کیا ساتھ ترا دوں کہ میں اک موج ہوا ہوں

کیا ساتھ ترا دوں کہ میں اک موج ہوا ہوں بس ایک نفس عرض تمنا کو رکا ہوں رہتا ہوں بگولوں کی طرح رقص میں بے تاب اے ہم نفسو میں دل صحرا سے اٹھا ہوں قطرہ ہوں میں دریا میں مجھے کچھ نہیں معلوم ہمراہ مرے کون ہے میں کس سے جدا ہوں اک لمحہ ٹھہر مجھ کو بھی ہمراہ لیے چل اے لیلیٰ ہستی ترا نقش کف ...

مزید پڑھیے

اتنی ہوا نہ واعظ دیں دار باندھئے

اتنی ہوا نہ واعظ دیں دار باندھئے عزت سنبھالئے سر دستار باندھئے گم کیجیے حواس کو تفسیر ہوش میں دانش کو جہل جہل کو پندار باندھئے محروم ہوش سوئیے پر دیجے داد ہوش گل کو گیاہ دشت کو گلزار باندھئے بو چھینیے گلوں سے کہ دیتے ہیں ذوق فن یوں خوش نوا طیور کی چہکار باندھئے اب جز ہوا ...

مزید پڑھیے

اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا

اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا اے سنگ دل تجھے بھی خبر ہے کہ کیا ہوا دریوزہ گر سمجھ کے تو تھی ملتفت حیات وہ یوں کہو کہ دامن دل ہی نہ وا ہوا ڈوبا کچھ اس طرح سے مرا آفتاب دل سب کچھ ہوا یہ پھر نہ سحر آشنا ہوا یوں اس کے در پہ بیٹھے ہیں جیسے یہیں کے ہوں ہائے یہ درد عشق جو زنجیر پا ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں کہیں اس کی بھی طوفاں تو نہیں تھا

آنکھوں میں کہیں اس کی بھی طوفاں تو نہیں تھا وہ مجھ سے جدا ہو کے پشیماں تو نہیں تھا کیوں اس نے نہ کی مجھ سے سر بزم کوئی بات میں سنگ ملامت سے گریزاں تو نہیں تھا کیوں راستہ دیکھا کیا اس کا میں سر شام بے درد کا مجھ سے کوئی پیماں تو نہیں تھا تھی آگ بھی تیری ہی طرح ہوش کی دشمن ورنہ مجھے ...

مزید پڑھیے

منزل مرگ میں جینے کی ادا رکھتا ہوں

منزل مرگ میں جینے کی ادا رکھتا ہوں یعنی ہر حال میں انداز جدا رکھتا ہوں جز ہوا کوئی نہیں مونس و غم خوار مگر رات بھر کمرے کا دروازہ کھلا رکھتا ہوں اپنی فطرت کو سکھاتا ہوں غلامی تیری موج آزاد کو زنجیر بہ پا رکھتا ہوں گم ہوں قطرے کی طرح وقت کے دریا میں مگر اپنی ہستی کا طلسمات جدا ...

مزید پڑھیے

دیدنی اب سفر زیست کا منظر ہوگا

دیدنی اب سفر زیست کا منظر ہوگا جس نے لوٹا سر بازار وہ رہبر ہوگا حال دل کہہ کے ہوئے اور گرفتار الم ہم نہ کہتے تھے کہ یوں درد فزوں تر ہوگا جیتے جی ہم سے کبھی حرف وفا کہہ ڈالو پھر یہ ہوگا بھی جو احسان تو کس پر ہوگا تو مری جرأت گفتار پر حیراں کیوں ہے یہ تماشا تری سرکار میں اکثر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5041 سے 6203