قومی زبان

ارض وطن

خیالات میں سخت ہے انتشار تخیل پریشاں قلم بے قرار جہاں خون آلود و خوں رنگ ہے وطن پر پڑا سایۂ رنج ہے گل و لالہ ہیں مستعد بے تکاں رفیقوں نے رکھی ہتھیلی پہ جاں ہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخن حسین اور دل کش ہے ارض وطن خلوص آج پامال ہے اور تباہ اصول آج دریوزہ خواہ پناہ گرفتار آزار دنیا ہے ...

مزید پڑھیے

بہ یاد محرومؔ

ہو کر وہ رہا عرش کہ جو تھا مقسوم ہر قلب ہے اس وقت حزیں و مغموم مرحوم کو ڈھونڈتے ہیں دنیا والے مرحوم سے ہو گئی ہے دنیا محروم اب اس سے ہی ہوگا رنج دل سے معدوم کیوں ہوتے ہو اے عرشؔ ملول و مغموم مرحوم کی یاد اور نہیں اس کے سوا مرحوم کی یاد ہے کلام محروم جب تک ہیں زمانے میں مہ و شمس و ...

مزید پڑھیے

بھارت کے ویر سپاہی

ہم ہیں بہادر یودھا انتھک دیش کی سیماؤں کے رکشک جاتے ہیں شترو کے گھر تک بھارت ورش کے سچے سیوک دیتی ہے دنیا یہ گواہی ہم بھارت کے ویر سپاہی تڑ تڑ گولے برسا کر کھٹ کھٹ کھٹ کھٹ ٹینک چلا کر ہتھ گولوں کو کام میں لا کر بندوقوں کی مار دکھا کر لاتے ہیں شترو پہ تباہی ہم بھارت کے ویر ...

مزید پڑھیے

تمہیں بتاؤ تمہارا ہے انتظار کسے

تمہیں بتاؤ تمہارا ہے انتظار کسے تمہاری یاد ستاتی ہے بار بار کسے یہ کس کی آنکھوں سے برسے گا ابر صبح الم شب نشاط بنائے گی غم گسار کسے لہو کا لمس تو خنجر کے لب نے چوس لیا دکھائے رنگ تبسم یہ اشک بار کسے کھلیں گی کس کی تمنائیں صحن‌ گلشن میں نصیب آئے گا وہ موسم بہار کسے یہ دوستوں کی ...

مزید پڑھیے

کیفیت اضطراب کی سی ہے

کیفیت اضطراب کی سی ہے تیرے خط کے جواب کی سی ہے صبح پڑھتا ہوں شام پڑھتا ہوں تو مکمل کتاب کی سی ہے سورۂ شمس ہے نظر تیری شعلگی آفتاب کی سی ہے تیری موجودگی سرور آگیں تیری فرقت عذاب کی سی ہے میری آنکھیں ہیں تتلیوں کی طرح تیری صورت گلاب کی سی ہے کیا کرو گے اسدؔ اسے لے کر جب یہ دنیا ...

مزید پڑھیے

ہنسی ان کی گل اور چمن جانتے ہیں

ہنسی ان کی گل اور چمن جانتے ہیں یہ لب مسکرانے کا فن جانتے ہیں نئے لوگ ہو تم نئی بات جانو مرا حال اہل کہن جانتے ہیں مبارک ہو تم کو حصار خموشی زباں والے طرز سخن جانتے ہیں لہو کے جو قطرے بہائے ہیں میں نے مرے جسم کے پیرہن جانتے ہیں تم ہی صاحب سلطنت تو نہیں ہو حکومت کے ہم بھی چلن ...

مزید پڑھیے

وہ تھک کر بیٹھ جانا چاہتا تھا

وہ تھک کر بیٹھ جانا چاہتا تھا مسافر تھا ٹھکانہ چاہتا تھا کہ اس کی آنکھ بھیگی جا رہی تھی مگر وہ مسکرانا چاہتا تھا میں اس کی دسترس میں آ گیا جب وہ مجھ سے دور جانا چاہتا تھا کہ اکثر شب گئے آنکھوں کا موتی ڈھلک کر ٹوٹ جانا چاہتا تھا نئی جہتیں ہوئیں قائم مگر وہ وہی قصہ پرانا چاہتا ...

مزید پڑھیے

وہ ایک شخص جو منزل بھی رہ گزار بھی ہے

وہ ایک شخص جو منزل بھی رہ گزار بھی ہے نشاط و کیف میں ڈوبا ہے غم گسار بھی ہے مجاز اور حقیقت کا آئنہ بن کر ہماری ذات یہاں لیل بھی نہار بھی ہے تمہارے کمرے میں گلشن کا رنگ روپ ملا یہاں تو میز پہ پھولوں کے ساتھ خار بھی ہے تمہاری ذات سے اس دل کا رابطہ بھی نہیں تمہاری یاد میں دل میرا بے ...

مزید پڑھیے

سکون لٹتا رہے گا فضا ہی ایسی ہے

سکون لٹتا رہے گا فضا ہی ایسی ہے ہمارے شہر کی آب و ہوا ہی ایسی ہے کبھی نہ آئے گی ہونٹوں پر اب ہنسی کی طرح وہ ایک بات کہ جس کی ادا ہی ایسی ہے دہکتی دھوپ میں ساون کی طرح رہتا ہوں مرے بزرگ کے لب کی دعا ہی ایسی ہے کسی کے حسن سماعت پہ ٹھیس کیوں نہ لگے کسی کے ہونٹوں پہ اب کے صدا ہی ایسی ...

مزید پڑھیے

سلگتی آگ تھی نہ جلتے آشیانے تھے

سلگتی آگ تھی نہ جلتے آشیانے تھے بہت حسین وہ گزرے ہوئے زمانے تھے ہماری آنکھوں کو اس کا خیال ہی کب تھا کہ ان لبوں کو بھی کچھ روز مسکرانے تھے شریک بزم اسی واسطے ہوا نہ کوئی شب نشاط کئی غم گلے لگانے تھے یہ اور بات کہ چہرے پہ اجنبیت تھی تعلقات تو ان سے بہت پرانے تھے عجیب شرط تھی اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5023 سے 6203