قومی زبان

میں نے اسی سے ہاتھ ملایا تھا اور بس

میں نے اسی سے ہاتھ ملایا تھا اور بس وہ شخص جو ازل سے پرایا تھا اور بس لمبا سفر تھا آبلہ پائی تھی دھوپ تھی میں تھا تمہاری یاد کا سایہ تھا اور بس حد نگاہ چار سو کرنوں کا رقص تھا پہلو میں چاند جھیل کے آیا تھا اور بس اک بھیڑیا تھا دوستی کی کھال میں چھپا اس نے مرے وجود کو کھایا تھا ...

مزید پڑھیے

ملے گا اس کا مجھے کیا اٹھا کے لایا ہوں

ملے گا اس کا مجھے کیا اٹھا کے لایا ہوں پرانے وقت کا سکہ اٹھا کے لایا ہوں تمہاری تشنگی دیکھی نہیں گئی مجھ سے میں اپنی اوک میں دریا اٹھا کے لایا ہوں شب سیاہ میں کچھ تو مجھے سہولت ہو کسی کی یاد کا تارا اٹھا کے لایا ہوں جو ہو سکے تو ذرا مختلف بنا اب کے میں قصر ذات کا ملبہ اٹھا کے ...

مزید پڑھیے

زاد رہ لے کے یادوں کی تنویر میں

زاد رہ لے کے یادوں کی تنویر میں گمشدہ راستوں کا ہوں راہگیر میں اس سے کہہ دو کہ لے جائے آنکھیں مری اس کی دل میں سنبھالوں گا تصویر میں گاؤں اجڑا ہوا پھر سے آباد ہو اک حویلی کروں ایسی تعمیر میں کوئی بتلائے بھی کیا خطا ہے مری کس لیے سہہ رہا ہوں یوں تعزیر میں مجھ کو دی ہے امانت میاں ...

مزید پڑھیے

تو بھی حیران و پریشاں ہے تھکا ہوں میں بھی

تو بھی حیران و پریشاں ہے تھکا ہوں میں بھی تیرے ہم راہ بہت دور چلا ہوں میں بھی تو بھی اس بت کی زیارت کا شرف حاصل کر اس کے قدموں پہ کئی بار جھکا ہوں میں بھی تو بھی مصروف کھلونوں میں ہے یادوں سے پرے جی کے بہلانے کو کچھ ڈھونڈ رہا ہوں میں بھی تیرا ہی چرچا نہیں شہر میں بازاروں میں کتنے ...

مزید پڑھیے

کانپتے ہونٹوں پہ الفاظ پرانے رکھ لے

کانپتے ہونٹوں پہ الفاظ پرانے رکھ لے کوئی افسانہ بنا کچھ تو بہانے رکھ لے اگلے موسم کے تو کچھ اور ہی قصے ہوں گے اپنے حصے میں وہی بیتے زمانے رکھ لے خواب کے شہر میں بھٹکے گا خیالوں کا سفیر میری تصویر مرا خط بھی سرہانے رکھ لے شبنمی دھوپ کے آنچل میں ستارے ہیں بہت چاندنی آنکھوں میں ...

مزید پڑھیے

وہ دل کشی وہ تصور کسی نظر میں نہیں

وہ دل کشی وہ تصور کسی نظر میں نہیں تمہارے جیسی کوئی شے ہمارے گھر میں نہیں یہ زندگی بھی عجب چیز ہے خدا کی پناہ اسے سنبھال کے رکھنا مرے ہنر میں نہیں یہ کس کی آہ کی پھنکار ہے کہ اب کے برس تمہارے ہونٹوں کی کوئی دعا اثر میں نہیں میں ایک عمر سے ہوں شامل سفر لوگو مگر یہ کیا کہ مرے پاؤں ...

مزید پڑھیے

شفق کا نور بھی رہ رنگ آفتاب میں آ

شفق کا نور بھی رہ رنگ آفتاب میں آ نظر بچا کے کبھی وادیٔ گلاب میں آ ورق ورق نہ پریشان رہ ہواؤں میں حروف عرض تمنا ہے تو کتاب میں آ چمکتے ذروں میں بہتا ہوا سمندر ہے ہے تجھ کو شوق تجسس تو پھر سراب میں آ خطوط ہی کے وسیلے سے میں پڑھوں تجھ کو کبھی سوال کی صورت کبھی جواب میں آ مرے گناہ ...

مزید پڑھیے

چمن سے گل سے وہ رشتہ پرانا ڈھونڈتے رہنا

چمن سے گل سے وہ رشتہ پرانا ڈھونڈتے رہنا اندھیروں میں بھی اپنا آشیانہ ڈھونڈتے رہنا کبھی آلام دوراں سے نہ تھک کر بیٹھ جانا تم محبت کا اخوت کا زمانہ ڈھونڈتے رہنا کسی اک پر نہیں رکتی نظر اپنی طبیعت ہے حسیں چہروں پہ ذوق دلبرانہ ڈھونڈتے رہنا مری نیندوں میں خوابوں میں ہے یہ خواہش ...

مزید پڑھیے

زخم دل ہو گئے ناسور تمہیں کیا معلوم

زخم دل ہو گئے ناسور تمہیں کیا معلوم تم تو ہو مجھ سے بہت دور تمہیں کیا معلوم میرے ہونٹوں کے تبسم پہ نہ جانا ہرگز حال بربادیٔ مجبور تمہیں کیا معلوم کب ستاروں کا جہاں ہو گیا تاریک نظر چاندنی کب ہوئی بے نور تمہیں کیا معلوم روز و شب کس پہ برستے ہیں ستم کے پتھر درد سے کون ہوا چور ...

مزید پڑھیے

اب مسیحا ترے آنے کے بہانے نکلے

اب مسیحا ترے آنے کے بہانے نکلے دل کے گوشے میں کئی زخم پرانے نکلے سوکھ جانے کے ہیں دریاؤں کے امکان بہت برف کے پھول کھلے دھوپ کے دانے نکلے دیکھنا کتنے ہی سیلاب امنڈ آئیں گے آنکھ میں اشک لیے ٹوٹے گھرانے نکلے شام ہوتے ہی جو دہلیز پہ آہٹ سی ہوئی میرے آنگن سے کئی خواب سہانے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5021 سے 6203