قومی زبان

بر سر روزگار تھے ہم تو

بر سر روزگار تھے ہم تو جونؔ یاروں کے یار تھے ہم تو چل دیے دوست تو یہ دھیان آیا صرف اک رہ گزار تھے ہم تو اب غلاموں کے بھی غلام ہوئے صاحب اقتدار تھے ہم تو کھل کے روئے ہیں تو یقین آیا واقعی جان دار تھے ہم تو جب گرے ٹوٹ کر تو یہ دیکھا چار سو بے شمار تھے ہم تو ہمیں ٹھکرا دیا گیا ہے ...

مزید پڑھیے

لگا لیا تھا دل کو ایک سل کے ساتھ

لگا لیا تھا دل کو ایک سل کے ساتھ سو جی رہا ہوں درد مستقل کے ساتھ سب اپنی اپنی جنتوں میں کھو گئے کسے پڑی نبھاتا مجھ خجل کے ساتھ میں جس طرف تھا جان کی اماں نہ تھی وہ ہو گیا ہجوم مشتعل کے ساتھ اڑان بھر رہا تھا وہ خلاؤں کی ہمارا رابطہ تھا آب و گل کے ساتھ بے اطمینان ہو گیا ترا اسیر یہ ...

مزید پڑھیے

جاتی نہیں ہے اس کی مہک تک لحاف سے

جاتی نہیں ہے اس کی مہک تک لحاف سے آئی تھی ایک بار پری کوہ قاف سے آنکھوں میں روشنی کا سمندر امڈ پڑا جیسے ہی اس بدن کو نکالا غلاف سے تجھ کو کبھی بھی میری ضرورت نہیں رہی مایوس ہو گیا ہوں میں اس انکشاف سے تجھ سے ہمیں شدید محبت ہے اس لئے کرتے ہیں اتفاق ترے اختلاف سے یہ سوچ کر بھی چھت ...

مزید پڑھیے

غزل کو گردش ایام سے نکالتے ہیں

غزل کو گردش ایام سے نکالتے ہیں اسے نہ ہونے کے ابہام سے نکالتے ہیں یہ لوگ کیوں تری تکذیب کرتے ہیں جبکہ ہزار کام ترے نام سے نکالتے ہیں یہ شعر ہیں ہمیں خیرات میں نہیں ملتے کبھی دھویں سے کبھی جام سے نکالتے ہیں تجھے خبر ہی نہیں ہے کہ ہم وصال کی فال کبھی سحر سے کبھی شام سے نکالتے ...

مزید پڑھیے

گزارنے کو تو سب زندگی گزارتے ہیں

گزارنے کو تو سب زندگی گزارتے ہیں ہم اہل عشق عجب زندگی گزارتے ہیں فریب کھاتے چلے جا رہے ہیں دنیا سے کوئی سلیقہ نہ ڈھب زندگی گزارتے ہیں وہ چند روز جو اچھے دنوں سے ہیں موسوم نہ تب گزاری نہ اب زندگی گزارتے ہیں جنہیں قبول نہیں لمحہ بھر کی ہم سفری ہمارے ساتھ وہ کب زندگی گزارتے ...

مزید پڑھیے

تو کیا ہوا جو مرے ساتھ آج تو نہیں ہے

تو کیا ہوا جو مرے ساتھ آج تو نہیں ہے فقط یہی کہ ہے ویرانی ہاؤ ہو نہیں ہے تمہارے ساتھ جو اک روز میری بات نہ ہو تو یوں لگے کہ کسی سے بھی گفتگو نہیں ہے یہ زخم دل کی نمائش نہیں تماشا گرو دراصل بات یہ ہے پیرہن رفو نہیں ہے کسی نے دیکھا نہیں ہم نے جیسے دیکھا اسے غلط کہا ہے کسی نے وہ ...

مزید پڑھیے

خفا ہیں اس لیے وہ ہم سے فرمائش نہیں کرتے

خفا ہیں اس لیے وہ ہم سے فرمائش نہیں کرتے سو ہم بھی دھوپ اور سائے کی پیمائش نہیں کرتے زمانہ ہر چمکتی چیز کو سونا سمجھتا ہے ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ آرائش نہیں کرتے ضرورت آشکارا کرتی ہے نام و نسب سب کا وگرنہ جو حسیں ہوتے ہیں زیبائش نہیں کرتے اتر سکتی نہیں دل آئنے میں روشنی جب تک ہم ...

مزید پڑھیے

ادا سے دیکھ لو جاتا رہے گلہ دل کا

ادا سے دیکھ لو جاتا رہے گلہ دل کا بس اک نگاہ پہ ٹھیرا ہے فیصلہ دل کا وہ ظلم کرتے ہیں مجھ پر تو لوگ کہتے ہیں خدا برے سے نہ ڈالے معاملہ دل کا پھرا جو کوچۂ کاکل سے کوئی پوچھیں گے سنا ہے لٹ گیا رستے میں قافلہ دل کا ہزار فصل گل آئے جنوں وہ جوش کہاں گیا شباب کے ہم راہ ولولہ دل کا بہار ...

مزید پڑھیے

گلوں پر صاف دھوکا ہو گیا رنگیں کٹوری کا

گلوں پر صاف دھوکا ہو گیا رنگیں کٹوری کا رگ گل میں جو عالم تھا تری انگیا کی ڈوری کا برابر ایک سے مصرع نظر آتے ہیں ابرو کے توارد کہئے یا ہے ایک میں مضمون چوری کا بہت غم کھاتے کھاتے اک نہ اک دن جان جائے گی ضرر رکھتا ہے اے دلبر نتیجہ سیر خوری کا ہوا ہے ہم کو اک مطرب پسر کی زلف کا ...

مزید پڑھیے

آشنا ہوتے ہی اس عشق نے مارا مجھ کو

آشنا ہوتے ہی اس عشق نے مارا مجھ کو نہ ملا بحر محبت کا کنارا مجھ کو کیوں مرے قتل کو تلوار برہنہ کی ہے تیغ ابرو کا تو کافی ہے اشارا مجھ کو خود ترے دام میں آیا کوئی افسوں نہ چلا اے پری تو نے تو شیشے میں اتارا مجھ کو میرے عیسیٰ کا ذرا دیکھنا اعجاز خرام ایک ٹھوکر سے ملی عمر دوبارا مجھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5004 سے 6203