باقی نہ حجت اک دم اثبات رہ گئی
باقی نہ حجت اک دم اثبات رہ گئی ثابت کیا جو اس کا دہن بات رہ گئی کیا جلد وصل یار کی کم رات رہ گئی جو بات چاہتے تھے وہی رات رہ گئی بد نامیوں کے ڈر سے وہ ملتے ہیں گاہ گاہ چوری چھپے کی ان سے ملاقات رہ گئی گریاں وہ ہوں جو ابر مژہ کی جھڑی لگی منہ میرا دیکھ دیکھ کے برسات رہ گئی ہر وقت ...