قومی زبان

ہم تو ہوں دل سے دور رہیں پاس اور لوگ

ہم تو ہوں دل سے دور رہیں پاس اور لوگ سونگھیں گل عذار کی بو باس اور لوگ واعظ ہمیں ڈرا نہ وفور گناہ سے اس کے کرم سے ہوتے ہیں بے آس اور لوگ سودائے عشق یاں تو ہے سر میں بھرا ہوا نام جنوں سے کرتے ہیں وسواس اور لوگ آزاد گان عشق ہر اک حال میں ہیں شاد ہوں گے اسیر رنج و غم و یاس اور ...

مزید پڑھیے

ہجر کے موسم میں یادیں وصل کی راتوں میں ہیں

ہجر کے موسم میں یادیں وصل کی راتوں میں ہیں کچھ گلے شکوے یقیناً سب مناجاتوں میں ہیں دھوپ کے موسم میں تھے پایاب دریا سب مگر کیسے کیسے خشک منظر اب کے برساتوں میں ہیں ہیں معطر اب بھی شامیں تیری خوشبو کے طفیل ضو فشاں جگنو ترے اب بھی مری راتوں میں ہیں تشنگی صدیوں کی قربت سے نہ بجھ ...

مزید پڑھیے

کچھ لوگ جی رہے ہیں خدا کے بغیر بھی

کچھ لوگ جی رہے ہیں خدا کے بغیر بھی سناٹے گونجتے ہیں صدا کے بغیر بھی مٹی کی مملکت میں نمو کی زکوٰۃ پر زندہ ہیں پیڑ آب و ہوا کے بغیر بھی یہ نفرتوں کے زرد الاؤ نہ ہوں گے سرد پھیلے گی آگ تیز ہوا کے بغیر بھی ربط و تعلقات کا موسم نہیں کوئی بارش ہوئی ہے کالی گھٹا کے بغیر بھی دنیا کے ...

مزید پڑھیے

شب سیاہ سے جو استفادہ کرتے ہیں

شب سیاہ سے جو استفادہ کرتے ہیں وہی چراغوں کا ماتم زیادہ کرتے ہیں دلوں کا درد کہاں جام میں اترتا ہے حریف وقت کو ہم غرق بادہ کرتے ہیں پرانی تلخیاں دامن بہت پکڑتی ہیں کبھی نیا جو کوئی ہم ارادہ کرتے ہیں پڑی تھی دل کی زمیں جانے کب سے بے مصرف اب اس میں یادوں کے بت ایستادہ کرتے ...

مزید پڑھیے

بارش کی نظم

یہ منحوس بارش جواں سال گیہوں کے دانوں کو کیچڑ کا حصہ بنانے مرے گاؤں میں ہر برس کی طرح آج پھر آ گئی ہے وہ گیہوں کے خوشے جو کھلیان میں دھوپ کے دیوتا کی عبادت میں مصروف تھے ان کو بارش نے آغوش میں لے لیا ہے ہر اک کھیت میں کتنا پانی بھرا ہے بھوک اپنی مٹا کر یہ بارش چلی جائے گی اور سب کھیت ...

مزید پڑھیے

تلخیاں

چھوٹے چھوٹے ہوٹلوں میں شہر کے مضطرب دل کی تسلی کے لیے آنے والے کل کے منصوبوں میں گم چند انساں چائے سپ کرتے ہوئے پی رہے ہیں سارے دن کی تلخیاں

مزید پڑھیے

ہم اہل خوف

یہی تھکن کہ جو ان بستیوں پہ چھائی ہے اتر نہ جائے پرندوں کے شہپروں میں بھی یہ ٹوٹے پھوٹے مکانات اونگھتے چھپر چراغ شام کی دھندلی سی روشنی کے امیں نہ ان کا یار کوئی ہے نہ کوئی نکتہ چیں نہ جانے کب کوئی دست ستم ادھر آ جائے اور اس ذرا سی بچی روشنی کو کھا جائے یہ کھلکھلاتے ہوئے ہنستے ...

مزید پڑھیے

جو لوگ راتوں کو جاگتے تھے

ستارے جتنے بھی آسماں پر مری تمنا کے ضوفشاں تھے زمیں کے اندر اتر گئے ہیں جو لوگ راتوں کو جاگتے تھے وہ مر گئے ہیں وہ پھول وہ تتلیاں کہ جن سے بہار کی دل کشی سوا تھی وہ رزق خاشاک بن چکے تھے تمام منظر تمام چہرے جو دھیرے دھیرے سلگ رہے تھے سو اب وہ سب راکھ بن چکے ہیں میں رفتگاں کی اداس ...

مزید پڑھیے

یہ جو شام زر نگار ہے

ایک اداس چاند سے لگاؤ کے دنوں کی یادگار ہے میں منظروں سے سرسری گزرنے والا شخص تھا یوں ہی سی ایک شام تھی اور ایک جھیل تھی کہ جس میں اس کا عکس تھا سو میں وہیں ٹھہر گیا وہ چاند میرے سارے جسم میں اتر گیا یہ ایک ہجر جو ازل سے میرے اس کے درمیان تھا مگر عجب جنون تھا جو چاہتا تھا دوریوں کو ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

کون سوچے کہ سورج کے ہاتھوں میں کیا ہے ہواؤں کی تحریر پڑھنے کی فرصت کسی کو نہیں کون ڈھونڈے فضاؤں میں تحلیل رستہ کون گزرے سوچ کے ساحلوں سے خواہشوں کی سلگتی ہوئی ریت کو کون ہاتھوں میں لے کون اترے سمندر کی گہرائیوں میں چاندنی کی جواں انگلیوں میں انگلیاں کون ڈالے کون سمجھے مرے فلسفے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5005 سے 6203