نہ کل تک تھے وہ منہ لگانے کے قابل
نہ کل تک تھے وہ منہ لگانے کے قابل ہوئے آج باتیں بنانے کے قابل تری بندگی اور سیہ کار مجھ سا یہ سر اور ترے آستانے کے قابل لب زخم دل پر یہ ہے شور قاتل تری تیغ کا پھل ہے کھانے کے قابل نکالے صنم پیٹ سے پاؤں تم نے ہوئے جب کہیں آنے جانے کے قابل دل بوالہوس لائق داغ الفت یہ درہم نہ تھے اس ...