قومی زبان

نہ کل تک تھے وہ منہ لگانے کے قابل

نہ کل تک تھے وہ منہ لگانے کے قابل ہوئے آج باتیں بنانے کے قابل تری بندگی اور سیہ کار مجھ سا یہ سر اور ترے آستانے کے قابل لب زخم دل پر یہ ہے شور قاتل تری تیغ کا پھل ہے کھانے کے قابل نکالے صنم پیٹ سے پاؤں تم نے ہوئے جب کہیں آنے جانے کے قابل دل بوالہوس لائق داغ الفت یہ درہم نہ تھے اس ...

مزید پڑھیے

لٹ رہی ہے دولت دیدار قیصر باغ میں

لٹ رہی ہے دولت دیدار قیصر باغ میں مثل گل سب ہو گئے زردار قیصر‌ باغ میں دیکھتے ہیں یار کا پڑھتا ہے کلمہ کون کون جمع ہیں سب کافر و دیندار قیصر باغ میں ہم سے آنکھ اس نے لڑائی تیوری بدلی غیر نے چلتے چلتے رہ گئی تلوار قیصر باغ میں اس کمان ابرو نے کیں دل پر نظر اندازیاں ہم پہ تیروں کی ...

مزید پڑھیے

ہم نے احسان اسیری کا نہ برباد کیا

ہم نے احسان اسیری کا نہ برباد کیا مرتے دم منہ طرف خانۂ صیاد کیا اب کی صیاد نے طرفہ ستم ایجاد کیا بے پر و بال سمجھ کر ہمیں آزاد کیا کیا تری یاد کریں گے فلک ناانصاف دل ناشاد ہمارا نہ کبھی شاد کیا دل پہ صدمے لیے جور و ستم خوباں کے ضبط دیکھو نہ کبھی وا لب فریاد کیا آسماں کی نہ ...

مزید پڑھیے

ادا سے دیکھ لو جاتا رہے گلہ دل کا

ادا سے دیکھ لو جاتا رہے گلہ دل کا بس اک نگاہ پہ ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا ستم وہ تم نے کیے بھولے ہم گلہ دل کا ہوا تمہارے بگڑنے سے فیصلہ دل کا بہار آتے ہی کنج قفس نصیب ہوا ہزار حیف کہ نکلا نہ جو صلہ دل کا جو یہ نشانہ اڑا دو تو سمجھیں تیر فگن بہت ہے ناوک مژگاں سے فاصلہ دل کا الٰہی خیر ہو ...

مزید پڑھیے

یہ باریک ان کی کمر ہو گئی

یہ باریک ان کی کمر ہو گئی کہ نظروں میں تار نظر ہو گئی پڑا دونوں زلفوں کا ان کی جو عکس نزاکت سے دوہری کمر ہو گئی گلے چڑھنے مستی میں مستوں کے منہ بڑی دختر رز یہ نڈر ہو گئی وہ اب کاٹ تیغ نگہ کا نہیں کچھ آنکھوں پر ان کی نظر ہو گئی مرا نقد دل مار بیٹھے حسیں یہ دولت ادھر سے ادھر ہو ...

مزید پڑھیے

یگانہ ان کا بیگانہ ہے بیگانہ یگانہ ہے

یگانہ ان کا بیگانہ ہے بیگانہ یگانہ ہے خدائی سے نرالا ان بتوں کا کارخانہ ہے نگاہ ناز سے صید اپنا مرغ دل نہیں ہوتا کبھی اڑتا نہیں ناوک سے جو وہ یہ نشانہ ہے ادھر کلیاں چٹکتی ہیں ادھر شور عنادل ہے چمن میں کس کی آمد ہے یہ کیسا شادیانہ ہے جنوں نے کی ہے قبر قیس کی اس طرح آرائش چراغ غول ...

مزید پڑھیے

لوٹے مزے جو ہم نے تمہارے اگال کے

لوٹے مزے جو ہم نے تمہارے اگال کے مر مر گئے رقیب لہو ڈال ڈال کے بے یار دود و لکا مرے آسماں بنا ساقی بنا دے ماہ پیالہ اچھال کے بگڑے ہوئے ہو آج بناوٹ نہ کیجیے اے جان چھپتے ہیں کہیں تیور ملال کے پہنچا دیا ہے دم میں لب بام یار تک قائل ہیں ہم تو اپنی کمند خیال کے دنیائے دوں کو آنکھ ...

مزید پڑھیے

ہیں تیغ ناز یار کے بسمل الگ الگ

ہیں تیغ ناز یار کے بسمل الگ الگ سینے میں ہیں تپاں جگر و دل الگ الگ قاتل تو رشک دیکھ ذرا اپنے کشتوں کا مقتل میں بھی تڑپتے ہیں بسمل الگ الگ کیا انتظام ہے مرے لیلیٰ جمال کا مجنوں رواں ہیں سب پس محفل الگ الگ دیکھو بشر میں صنعت خلاق روزگار سب ایک ہیں مگر ہے شمائل الگ الگ فرماتے ہیں ...

مزید پڑھیے

دفتر جو گلوں کے وہ صنم کھول رہا ہے

دفتر جو گلوں کے وہ صنم کھول رہا ہے اغیار تو کیا دل بھی ادھر بول رہا ہے آثار رہائی ہیں یہ دل بول رہا ہے صیاد ستم گر مرے پر کھول رہا ہے غیروں سے مرے واسطے جو بول رہا ہے آب درد ندا نہیں وہ سم گھول رہا ہے کس کس کا نہیں طائر دل دام میں اس کے طوطی خط عارض کا ترے بول رہا ہے جامے سے ہوا ...

مزید پڑھیے

حضور غیر تم عشاق کی تحقیر کرتے ہو

حضور غیر تم عشاق کی تحقیر کرتے ہو محبت کرنے والوں کی یہی توقیر کرتے ہو عبث تم خواہش‌ وصل بت بے پیر کرتے ہو جو قسمت میں نہیں ہے اس کی کیا تدبیر کرتے ہو زمین و آسماں کا فرق ہے خورشید و ذرہ میں مقابل چاند سے کیا یار کی تصویر کرتے ہو دم آخر لڑے وحشی کے زنداں میں یہ غل ہوگا ستم کرتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5002 سے 6203