خموش جادۂ انکار بھی ہے صحرا بھی
خموش جادۂ انکار بھی ہے صحرا بھی عزا میں پائے جنوں بار بھی ہے صحرا بھی کہیں بھی جائیں لہو کو تو صرف ہونا ہے کہ تشنہ کوچۂ دل دار بھی ہے صحرا بھی متاع زیست خریدیں کہ تیری سمت بڑھیں ہمارے سامنے بازار بھی ہے صحرا بھی مجھے تو ساری حدوں سے گریز کرنا ہے مرا حریف تو گھر بار بھی ہے صحرا ...