قومی زبان

خموش جادۂ انکار بھی ہے صحرا بھی

خموش جادۂ انکار بھی ہے صحرا بھی عزا میں پائے جنوں بار بھی ہے صحرا بھی کہیں بھی جائیں لہو کو تو صرف ہونا ہے کہ تشنہ کوچۂ دل دار بھی ہے صحرا بھی متاع زیست خریدیں کہ تیری سمت بڑھیں ہمارے سامنے بازار بھی ہے صحرا بھی مجھے تو ساری حدوں سے گریز کرنا ہے مرا حریف تو گھر بار بھی ہے صحرا ...

مزید پڑھیے

حواس و حافظے کا مان رہ گیا ہے بس

حواس و حافظے کا مان رہ گیا ہے بس کہاں کی یاد ترا دھیان رہ گیا ہے بس تمام لشکر عقل و نگاہ کھیت رہا بساط عشق پہ سلطان رہ گیا ہے بس وہ اور ہیں کہ جو غم کو غلط بھی کرتے ہیں یہ دل تو ہجر سے حیران رہ گیا ہے بس خدنگ خواب تجھے دل میں لے کے بیٹھ رہوں مرے لئے یہی آسان رہ گیا ہے بس وراثتوں کے ...

مزید پڑھیے

فصیل صبر میں روزن بنانا چاہتی ہے

فصیل صبر میں روزن بنانا چاہتی ہے سپاہ طیش مرے دل کو ڈھانا چاہتی ہے لپٹ لپٹ کے شجر کو لبھانا چاہتی ہے ہر ایک بیل محبت جتانا چاہتی ہے ریال خواب لٹاتی ہے دونوں ہاتھوں سے امیر شوق مجھے آزمانا چاہتی ہے مرا ہی سینہ کشادہ ہے چاہتوں کے تئیں تفنگ درد مرا ہی نشانا چاہتی ہے میں اپنے آپ ...

مزید پڑھیے

نظر میں صلح بھی سر پر لہو بھی دیکھتا ہے

نظر میں صلح بھی سر پر لہو بھی دیکھتا ہے مجھے تو رشک سے میرا عدو بھی دیکھتا ہے میں شورشوں میں بھی دل کو قریب رکھتا ہوں یہی تو ہے جو پس ہاو ہو بھی دیکھتا ہے چراغ انہیں کی وساطت سے جل رہا ہے مگر کبھی ہواؤں کو یہ تند خو بھی دیکھتا ہے مجھے یہ موتی سمندر یوں ہی نہیں دیتا وہ میرے حوصلے ...

مزید پڑھیے

اشعار میں جو میرے کرن جستجو کی ہے

اشعار میں جو میرے کرن جستجو کی ہے میراث یہ بھی تیرے ہی مہر نمو کی ہے نظروں میں اب بھی ہیں ترے لہجے کے ماہ و نجم اب بھی سماعتوں میں چمک گفتگو کی ہے تیری پکار ہے کہ یہ بوندیں ہیں اوس کی آواز نغمہ ہے کہ صدا آب جو کی ہے دیوار ضبط ٹوٹ بھی سکتی ہے کچھ کروں فوارہ چھوٹ جائے وہ حالت لہو کی ...

مزید پڑھیے

غزل میں جان پڑی گفتگو میں پھول کھلے

غزل میں جان پڑی گفتگو میں پھول کھلے مری نوا سے دیار نمو میں پھول کھلے مرے ہی شعر اچھالے مرے حریفوں نے مرے طفیل زبان عدو میں پھول کھلے انہیں یہ زعم کہ بے سود ہے صدائے سخن ہمیں یہ ضد کہ اسی ہاؤ ہو میں پھول کھلے یہ کس کو یاد کیا روح کی ضرورت نے یہ کس کے نام سے میرے لہو میں پھول ...

مزید پڑھیے

جان کا آزار ہے بیماریٔ دنیا نہیں

جان کا آزار ہے بیماریٔ دنیا نہیں ذات تک محدود ہو جائیں تو کچھ خطرا نہیں اب حفاظت جتنی ہے محبوس ہو جانے میں ہے خود کے باہر گھومنے پھرنے کا اب موقع نہیں اس سے ملنا آبشاروں سے گزرنا تھا مگر خوف کا وہ کون سا طوفاں تھا جو آیا نہیں اب کے بچھڑے کب ملیں گے اب کی بار اک یہ سوال ہم نے بھی ...

مزید پڑھیے

گھٹائیں گھرتی ہیں بجلی کڑک کے گرتی ہے

گھٹائیں گھرتی ہیں بجلی کڑک کے گرتی ہے یہ کس کی پیاس ہے جو بے قرار پھرتی ہے عجیب خوف کی بستی ہے یہ دیا ہی نہیں ہوا بھی خواہش دل کو چھپائے پھرتی ہے نظر نہ پھیر ندامت کو سیر ہونے دے یہ بدلی دل میں کہاں روز روز گھرتی ہے سمیٹ لیتی ہے ہر شے کو اپنے پیکر میں شبیہ کس کی ہے جو پتلیوں میں ...

مزید پڑھیے

نفاذ نظم پر اصرار ہے ایسا نہیں لگتا

نفاذ نظم پر اصرار ہے ایسا نہیں لگتا گلستاں میں کوئی سرکار ہے ایسا نہیں لگتا یہاں ہر جیب میں خوابوں کی زر مہریں کھنکتی ہیں یہ دنیا درد کا بازار ہے ایسا نہیں لگتا ہم اپنی جھونک میں آگے کی جانب بڑھتے جاتے ہیں ہمارے سامنے دیوار ہے ایسا نہیں لگتا سر پندار سے پائے جنوں کا ربط غائب ...

مزید پڑھیے

جنس مخلوط ہیں اور اپنے ہی آزار میں ہیں

جنس مخلوط ہیں اور اپنے ہی آزار میں ہیں ہم کہ سرکار سے باہر ہیں نہ سرکار میں ہیں آب آتے ہی چمک اٹھتے ہیں سب نقش و نگار خاک میں بھی وہی جوہر ہیں جو تلوار میں ہیں سب فروشندۂ حیرت ہوں ضروری تو نہیں ہم سے بے زار بھی اس رونق بازار میں ہیں حلقۂ دل سے نہ نکلو کہ سر کوچۂ خاک عیش جتنے ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4985 سے 6203