قومی زبان

یوں ہی عمر بھر ترے رنگ و بو سے مرے لہو کی وفا رہے

یوں ہی عمر بھر ترے رنگ و بو سے مرے لہو کی وفا رہے میں چراغ بن کے جلا کروں تو گلاب بن کے کھلا رہے وہ زمین ہو کہ ہو آسماں یہ دیا ہمیشہ جلا رہے میں کسی سفر میں رہوں مگر مرے ساتھ ماں کی دعا رہے مری کمتری کی بساط ہی تری برتری کی دلیل ہے میں نشیب میں نہ رہوں اگر تو فراز تیرا دبا رہے نئے ...

مزید پڑھیے

شرط دیوار و در و بام اٹھا دی ہے تو کیا

شرط دیوار و در و بام اٹھا دی ہے تو کیا قید پھر قید ہے زنجیر بڑھا دی ہے تو کیا اب بھی تن تیغ سے لڑ جائے تو چھن بولتا ہے وقت نے اس پہ اگر دھول جما دی ہے تو کیا میرے خسرو نے مجھے غم بھی زیادہ بخشا دولت عشق اگر مجھ کو سوا دی ہے تو کیا ہم بھی تیار ہیں پھر جان لٹانے کے لیے سامنے پھر وہی ...

مزید پڑھیے

ہر سانس جو آتی ہے ستم گار قفس میں

ہر سانس جو آتی ہے ستم گار قفس میں کھینچے ہے مری جان سر دار قفس میں دیکھے بھی تو کیا اپنی مسیحائی کا انجام جھانکے بھی تو کیا نرگس بیمار قفس میں اطراف ہیں طاقت کے تکبر کی سلاخیں ظالم ہے خود اپنا ہی گرفتار قفس میں پر کاٹنے والے کو یہ معلوم نہیں ہے رکتے ہیں کہیں عزم کے پر دار قفس ...

مزید پڑھیے

تیرا احساس خودی ہوگا نہ جب تک بیدار

تیرا احساس خودی ہوگا نہ جب تک بیدار غیر ممکن ہے کھلیں تجھ پہ ازل کے اسرار خود مشیت تری ایک ایک ادا پر ہو نثار اپنی صورت کا میسر جو تجھے ہو دیدار کتنے جلوے تجھے لبیک کہیں گے ناداں چیر کر دیکھ ذرا سینۂ ہستی اک بار اپنی قوت سے تو واقف ہی نہیں ہے ورنہ عرش سے بھی کہیں اونچا ہے ترا عز ...

مزید پڑھیے

نہ پوچھ مرتبہ و شان خاکدان مجاز

نہ پوچھ مرتبہ و شان خاکدان مجاز زمین عرش سے اونچا ہے آسمان مجاز یہ خوب جانتے ہیں جو ہیں راز دان مجاز زبان اہل حقیقت کی ہے زبان مجاز حدود عرش و ازل مرحلات حشر و ابد ہیں سب یہ سلسلۂ شرح داستان مجاز یہ راز اہل خرد سے مگر نہیں مخفی کہ خود زبان حقیقت ہے ترجمان مجاز نگاہ اہل نظر کی ...

مزید پڑھیے

میرے اشعار تموج پہ جو آئے ہوئے ہیں

میرے اشعار تموج پہ جو آئے ہوئے ہیں آب حیرت سے یہ مضمون اٹھائے ہوئے ہیں شوخیاں کام نہ آئیں تو حیا دھر لے گی اس نے آنکھوں کو کئی داؤ سکھائے ہوئے ہیں کچھ ستارے مری پلکوں پہ چمکتے ہیں ابھی کچھ ستارے مرے سینے میں سمائے ہوئے ہیں اب وہ انسان کہاں جن سے فرشتے شرمائیں ہم تو انسان کا بس ...

مزید پڑھیے

ہوائے حرص و ہوس سے مفر بھی کرنا ہے

ہوائے حرص و ہوس سے مفر بھی کرنا ہے اسی درخت کے سائے میں گھر بھی کرنا ہے انا ہی دوست انا ہی حریف ہے میری اسی سے جنگ اسی کو سپر بھی کرنا ہے چل آ تجھے کسی محفوظ گھر میں پہنچا دوں پھر اس کے بعد مجھے تو سفر بھی کرنا ہے یہی نہیں کہ پہنچنا ہے آسمانوں پر دعائے وصل تجھے اب اثر بھی کرنا ...

مزید پڑھیے

خاموشی تک تو ایک صدا لے گئی مجھے

خاموشی تک تو ایک صدا لے گئی مجھے پھر اس سے آگے طبع رسا لے گئی مجھے کیا آنکھ تھی کہ موج بقا کی طرح ملی کیا موج تھی کہ مثل فنا لے گئی مجھے مٹی کو چوم لینے کی حسرت ہی رہ گئی ٹوٹا جو شاخ سے تو ہوا لے گئی مجھے دشت جنوں سے آئی تھی بستی میں باد شوق لوٹی تو اپنے ساتھ بہا لے گئی مجھے اے ...

مزید پڑھیے

اسے تیرے غم کی خبر نہ ہو تو ہر ایک غم کو چھپائے رکھ

اسے تیرے غم کی خبر نہ ہو تو ہر ایک غم کو چھپائے رکھ وہ ہری رتوں کا گلاب ہے اسے دھوپ رت سے بچائے رکھ وہ جو ایک بار چلا گیا تو کبھی پلٹ کے نہ آئے گا اسے روٹھ جانے سے روک لے یہ دلوں کا ربط بنائے رکھ یہی چاہتوں کا اصول ہے کہ ہتھیلیوں پہ لہو سجا اسے یاد رکھنے کی آرزو ہے تو اپنے دل کو ...

مزید پڑھیے

بہ ہر طریق اسے مسمار کرتے رہنا ہے

بہ ہر طریق اسے مسمار کرتے رہنا ہے کبھی سخن تو کبھی وار کرتے رہنا ہے دروں کے واسطے دیوار چاہیے جاناں سو فرش خواب کو دیوار کرتے رہنا ہے سحر کے معرکۂ نیک و بد سے کیا مطلب ہمارا کام تو بیدار کرتے رہنا ہے وہ ایک درد جو صیقل نہیں ہوا اب تک اسی کو آئنۂ یار کرتے رہنا ہے یہی ہے ورثۂ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4986 سے 6203