قومی زبان

مری ہر سانس کو سب نغمۂ محفل سمجھتے ہیں

مری ہر سانس کو سب نغمۂ محفل سمجھتے ہیں مگر اہل دل آواز شکست دل سمجھتے ہیں گماں کاشانۂ رنگیں کا ہے جس پر نگاہوں کو اسے اہل نظر گرد رہ منزل سمجھتے ہیں الٰہی کشتئ دل بہہ رہی ہے کس سمندر میں نکل آتی ہیں موجیں ہم جسے ساحل سمجھتے ہیں طرب انگیز ہیں رنگینیاں فصل بہاری کی مگر بلبل ...

مزید پڑھیے

تمہاری فرقت میں میری آنکھوں سے خوں کے آنسو ٹپک رہے ہیں

تمہاری فرقت میں میری آنکھوں سے خوں کے آنسو ٹپک رہے ہیں سپہر الفت کے ہیں ستارے کہ شام غم میں چمک رہے ہیں عجیب ہے سوز و ساز الفت طرب فزا ہے گداز الفت یہ دل میں شعلے بھڑک رہے ہیں کہ لالہ و گل مہک رہے ہیں بہار ہے یا شراب رنگیں نشاط افروز کیف آگیں گلوں کے ساغر چھلک رہے ہیں گلوں پہ بلبل ...

مزید پڑھیے

رموز محبت

1 جب آنکھ کھول کے دیکھا تو ہو گیا مستور یہ میرا دیدۂ بینا ہی اک حجاب ہوا تو چھپ گیا مہ و انجم میں لالہ و گل میں ہر ایک جلوۂ رنگیں ترا نقاب ہوا جب آنکھ بند ہوئی تو ہی جلوہ آرا تھا 2 مری زبان کھلی شرح عاشقی کے لیے مرا بیاں تھا مرقع مری خجالت کا ہر ایک حرف میں تھا غیریت کا افسانہ مری ...

مزید پڑھیے

وہ نغمہ بلبل رنگیں نوا اک بار ہو جائے

وہ نغمہ بلبل رنگیں نوا اک بار ہو جائے کلی کی آنکھ کھل جائے چمن بیدار ہو جائے نظر وہ ہے جو اس کون و مکاں سے پار ہو جائے مگر جب روئے تاباں پر پڑے بے کار ہو جائے تبسم کی ادا سے زندگی بیدار ہو جائے نظر سے چھیڑ دے رگ رگ مری ہشیار ہو جائے تجلی چہرۂ زیبا کی ہو کچھ جام رنگیں کی زمیں سے ...

مزید پڑھیے

کوئی محمل نشیں کیوں شاد یا ناشاد ہوتا ہے

کوئی محمل نشیں کیوں شاد یا ناشاد ہوتا ہے غبار قیس خود اٹھتا ہے خود برباد ہوتا ہے قفس کیا حلقہ ہائے دام کیا رنج اسیری کیا چمن پر مٹ گیا جو ہر طرح آزاد ہوتا ہے یہ سب نا آشنائے لذت پرواز ہیں شاید اسیروں میں ابھی تک شکوۂ صیاد ہوتا ہے بہار سبزہ و گل ہے کرم ہوتا ہے ساقی کا جواں ہوتی ...

مزید پڑھیے

مستی میں فروغ رخ جاناں نہیں دیکھا

مستی میں فروغ رخ جاناں نہیں دیکھا سنتے ہیں بہار آئی گلستاں نہیں دیکھا زاہد نے مرا حاصل ایماں نہیں دیکھا رخ پر تری زلفوں کو پریشاں نہیں دیکھا آئے تھے سبھی طرح کے جلوے مرے آگے میں نے مگر اے دیدۂ حیراں نہیں دیکھا اس طرح زمانہ کبھی ہوتا نہ پر آشوب فتنوں نے ترا گوشۂ داماں نہیں ...

مزید پڑھیے

آشوب حسن کی بھی کوئی داستاں رہے

آشوب حسن کی بھی کوئی داستاں رہے مٹنے کو یوں مٹیں کہ ابد تک نشاں رہے طوف حرم میں یا سر کوئے بتاں رہے اک برق اضطراب رہے ہم جہاں رہے ان کی تجلیوں کا بھی کوئی نشاں رہے ہر ذرہ میری خاک کا آتش بجاں رہے کیا کیا ہیں درد عشق کی فتنہ طرازیاں ہم التفات خاص سے بھی بدگماں رہے میرے سرشک خوں ...

مزید پڑھیے

تو ایک نام ہے مگر صدائے خواب کی طرح

تو ایک نام ہے مگر صدائے خواب کی طرح میں ایک حرف ہوں مگر نشان آب کی طرح مجھے سمجھ کہ میں ہی اصل راز کائنات ہوں دھرا ہوں تیرے سامنے کھلی کتاب کی طرح میں کوئی گیت ہوں مگر صدا کی بندشوں میں ہوں مرے لہو میں راگ ہے سم عذاب کی طرح مری پناہ گاہ تھی انہی خلاؤں میں کہیں میں سطح آب پر رہا ...

مزید پڑھیے

لکیر سنگ کو عنقا مثال ہم نے کیا

لکیر سنگ کو عنقا مثال ہم نے کیا بھلا دیا اسے دل سے کمال ہم نے کیا شروع اس نے کیا تھا تماشہ قربت کا پھر اس کے بعد تو سارا دھمال ہم نے کیا الٹ کے رکھ دیے ہم نے جنوں کے سارے اصول جنوب دشت کو شہر شمال ہم نے کیا فروغ زخم سے روشن رکھا سیاہی کو عطائے ہجر کو نجم وصال ہم نے کیا بسا لیا تری ...

مزید پڑھیے

مہر و مہتاب کو میرے ہی نشاں جانتی ہے

مہر و مہتاب کو میرے ہی نشاں جانتی ہے میں کہاں ہوں وہ مری سرو رواں جانتی ہے تم سے ہو کر ہی تو آئی ہے لہو تک میرے تم کو یہ سرخیٔ جاں شعلہ رخاں جانتی ہے کون اپنا ہے سمجھتی ہے خموشی شب کی اجنبی کون ہے آواز سگاں جانتی ہے دل کو معلوم ہے کیا بات بتانی ہے اسے اس سے کیا بات چھپانی ہے زباں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4984 سے 6203