موت سے کب نجات ہے پیارے
موت سے کب نجات ہے پیارے زندگی کو یہ مات ہے پیارے جس نے سمجھا وہ میر ہو گیا ہے آئنہ کائنات ہے پیارے روز چہرے بدل کے خوش ہے تو یہ تو خود سے ہی گھات ہے پیارے تو جنہیں شورویر سمجھے ہے بزدلوں کی یہ ذات ہے پیارے اتنا آساں نہیں غزل کہنا میرؔ غالبؔ کی ذات ہے پیارے تیرا کردار آئنہ ہو ...