قومی زبان

موت سے کب نجات ہے پیارے

موت سے کب نجات ہے پیارے زندگی کو یہ مات ہے پیارے جس نے سمجھا وہ میر ہو گیا ہے آئنہ کائنات ہے پیارے روز چہرے بدل کے خوش ہے تو یہ تو خود سے ہی گھات ہے پیارے تو جنہیں شورویر سمجھے ہے بزدلوں کی یہ ذات ہے پیارے اتنا آساں نہیں غزل کہنا میرؔ غالبؔ کی ذات ہے پیارے تیرا کردار آئنہ ہو ...

مزید پڑھیے

عشق کی انتہا نے لوٹ لیا

عشق کی انتہا نے لوٹ لیا کبھی حسن وفا نے لوٹ لیا کل تلک رہزنوں نے لوٹا ہمیں آج اک آشنا نے لوٹ لیا جو بدل دے مقدروں کا لکھا وقت کی اس ادا نے لوٹ لیا کبھی لوٹا جمال نے تیرے کبھی تیری وفا نے لوٹ لیا بچ گیا وقت کی عداوت سے تو مجھے نا خدا نے لوٹ لیا

مزید پڑھیے

کیسی یہ افسردگی ہے آج کل

کیسی یہ افسردگی ہے آج کل زندگی میں کچھ کمی ہے آج کل چاند کی آوارگی سے چاندنی سوگ میں ڈوبی ہوئی ہے آج کل چل بنائیں آشیاں اس پار ہم رات مجھ سے کہہ رہی ہے آج کل کیا سبب ہے دھوپ ہے سہمی ہوئی پتھروں پر بھی نمی ہے آج کل تڑپنوں میں ہیں غضب بے چینیاں دیتا اس حد تشنگی ہے آج کل جی رہا ہوں ...

مزید پڑھیے

بجھتی آنکھوں کی روشنی تو دیکھ

بجھتی آنکھوں کی روشنی تو دیکھ چشم میں تیرتی نمی تو دیکھ آ کبھی تو قریب آ میرے زیست و جاں میں تری کمی تو دیکھ رات بھر جاگتی ہے کیوں یہ شب جاگتی شب کی بیکلی تو دیکھ عمر بھر پانیوں نے لکھی پیاس پانیوں کی یہ تشنگی تو دیکھ ساتھ رہ کر بھی دور دور ہے تو زندگی کی یہ دل لگی تو دیکھ میں ...

مزید پڑھیے

بات کچھ بھی نہ تھی کیوں خفا ہو گیا

بات کچھ بھی نہ تھی کیوں خفا ہو گیا جو تھا اپنا مرا غیر سا ہو گیا دھوپ شدت کی تھی چل پڑا راہ میں ماں کا آنچل مرا آسرا ہو گیا مجھ کو موج بلا سے کوئی ڈر نہیں جب سہارا مرا ناخدا ہو گیا اب تو آنکھوں سے آنسو بھی بہتے نہیں ظلم جب ان کا حد سے سوا ہو گیا دل میں اصغرؔ کے خوشیوں کی برسات ...

مزید پڑھیے

چین مجھ کو ملا کہاں اب تک

چین مجھ کو ملا کہاں اب تک لے رہا ہے وہ امتحاں اب تک حال مجھ سے نہ پوچھیے میرا اشک آنکھوں سے ہے رواں اب تک بجلیاں تو سکوں سے لوٹ گئیں جل رہا ہے یہ آشیاں اب تک گھر سے نکلا تلاش میں جس کی ڈھونڈ پایا نہ وہ مکاں اب تک شہر تو کب کا جل چکا اصغرؔ اٹھ رہا ہے مگر دھواں اب تک

مزید پڑھیے

کہاں کھو گئے میرے غم خوار اب

کہاں کھو گئے میرے غم خوار اب کہ تنہا ہوں چلنے کو تیار اب کہاں سر چھپائیں پتا ہی نہیں کہ گرنے لگی گھر کی دیوار اب تو منصف ہے اپنا قلم روک لے بچا لے گا میرا ہی کردار اب کہ آٹھوں پہر مجھ کو فرصت نہیں کہیں کھو گیا میرا اتوار اب مرے خوں میں رنگ وفا دیکھ لے مجھے لے کے چل تو سر دار ...

مزید پڑھیے

''خشک پتا ہے تو ہوا سے ڈر'' (ردیف .. ر)

''خشک پتا ہے تو ہوا سے ڈر'' زرد موسم کی بد دعا سے ڈر ہر عمل کا محاسبہ کر لے پاس آتی ہوئی قضا سے ڈر نیک کاروں میں نام ہو تیرا اپنے ہر کاج میں ریا سے ڈر سر پہ دستار جب سلامت ہے دل میں آتی ہوئی انا سے ڈر شہر ویران ہو گیا اصغرؔ سنسناتی ہوئی ہوا سے ڈر

مزید پڑھیے

زیست کے پیکر میں جب مربوط ہو جاتا ہوں میں

زیست کے پیکر میں جب مربوط ہو جاتا ہوں میں بن کے دشت لا مکاں لاہوت ہو جاتا ہوں میں میرے بننے کا تماشہ دیکھیے کہ کس طرح ٹوٹتا ہوں ٹوٹ کر مضبوط ہو جاتا ہوں میں جانے کیا پڑھ کر وہ مجھ پر پھونکتا ہے زور سے دیکھتے ہی دیکھتے یاقوت ہو جاتا ہوں میں آسماں سے جب اترتا ہوں میں بن کے ...

مزید پڑھیے

فلک سے چاندنی پھر جھانکتی ہے

فلک سے چاندنی پھر جھانکتی ہے زمیں پر تیرگی جب ناچتی ہے ستارا جب بھی ٹوٹا آسماں سے وہی خواہش دوبارا جاگتی ہے بنا لیتی ہے زنجیروں سے پائل محبت رقص کرنا جانتی ہے پتہ ہے کہ وہاں پانی نہیں ہے مگر امید صحرا چھانتی ہے قضا پوری ہو کرنی پھر کسی کی زمیں محور پہ ایسے بھاگتی ہے میں راز ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4963 سے 6203