قومی زبان

دل مرا رقصاں ہے جب سے عقل اس شورش میں ہے

دل مرا رقصاں ہے جب سے عقل اس شورش میں ہے لرزش پا آسماں یا یہ جہاں لرزش میں ہے آج سے پہلے زمیں کی چال تو ایسی نہ تھی تم ذرا رفتار دیکھو کس قدر گردش میں ہے ٹھیک ہے تجھ کو ملا ہے مجھ کو بھٹکانے کا کام یہ مگر کیا تو تو ہر دم دعوت لغزش میں ہے کس قدر پھر ایک ہو جاویں زمین و آسماں ہم زمین ...

مزید پڑھیے

جانے کیوں برباد ہونا چاہتا ہے

جانے کیوں برباد ہونا چاہتا ہے صورت فرہاد ہونا چاہتا ہے ذہن سے آخر میں اب تھک ہار کر میرا دل آباد ہونا چاہتا ہے آسماں والے یہ سن کر ہنس پڑے آدمی آزاد ہونا چاہتا ہے ہر جگہ تعمیر کر کے اک ارم ہر کوئی شداد ہونا چاہتا ہے سانحہ یہ ہے کہ اک بلبل کا دل دامن صیاد ہونا چاہتا ہے ہو کے ...

مزید پڑھیے

کہہ رہا ابلیس اب شیطان سے

کہہ رہا ابلیس اب شیطان سے فکر فردا چھین اس انسان سے کیا ہمارا نام اس میں درج ہے آپ نے پوچھا کبھی رضوان سے میل کا پتھر کوئی لا دے کہ میں تھک گیا یاقوت اور مرجان سے جان پاتے کیسے ہم راز حیات راز کن نکلا نہیں جزدان سے جانے کب اس رات کی ہوگی سحر کب کوئی اٹھے گا اس ایوان سے

مزید پڑھیے

شور کیسا ہے مرے دل کے خرابے سے اٹھا

شور کیسا ہے مرے دل کے خرابے سے اٹھا شہر جیسے کہ کوئی اپنے ہی ملبے سے اٹھا یا اٹھا دشت میں دیوانے سے بار فرقت یا ترے شہر میں اک چاہنے والے سے اٹھا یا مری خاک کو مل جانے دے اس مٹی میں یا مجھے خون کی للکار پہ کوچے سے اٹھا تو مرے پاس نہیں ہوتا یہ سچ ہے لیکن تری آواز پر ہر صبح میں سوتے ...

مزید پڑھیے

کیا قدر انا ہوگی جبیں جان رہی ہے

کیا قدر انا ہوگی جبیں جان رہی ہے جس شہر میں سجدوں کی ہی پہچان رہی ہے کچھ ہم نے بھی دنیا کو ستایا ہے بہر حال کچھ اپنی طبیعت سے بھی ہلکان رہی ہے مضبوط رہا حسن نظر سے مرا رشتہ جب تک وہ مرے شہر میں مہمان رہی ہے مئے نے بھی دیا ہے مری وحشت کو بڑھاوا دو چار دنوں وہ بھی نگہبان رہی ہے اس ...

مزید پڑھیے

شہر میں چھائی ہوئی دیوار تا دیوار تھی

شہر میں چھائی ہوئی دیوار تا دیوار تھی ایک پتھریلی خموشی پیکر گفتار تھی بادلوں کی چٹھیاں کیا آئیں دریاؤں کے نام ہر طرف پانی کی اک چلتی ہوئی دیوار تھی انکشاف شہر نامعلوم تھا ہر شعر میں تجربے کی تازہ کاری صورت اشعار تھی آرزو تھی سامنے بیٹھے رہیں باتیں کریں آرزو لیکن بچاری کس ...

مزید پڑھیے

ہے کون جس سے کہ وعدہ خطا نہیں ہوتا

ہے کون جس سے کہ وعدہ خطا نہیں ہوتا مگر کسی کا ارادہ خطا نہیں ہوتا جہاں بساط پہ گھر جائے شاہ نرغے میں وہاں کبھی بھی پیادہ خطا نہیں ہوتا وہ دشمنوں میں اگر ہو تو بچ بھی جاؤں میں اسی کا وار مبادا خطا نہیں ہوتا جو سر بچے بھی تو دستار بچ نہیں سکتی نشانہ اس کا زیادہ خطا نہیں ہوتا کسی ...

مزید پڑھیے

اک شہر ضیا بار یہاں بھی ہے وہاں بھی

اک شہر ضیا بار یہاں بھی ہے وہاں بھی لیکن مرا آزار یہاں بھی وہاں بھی روشن مرے اندر کے اندھیروں میں برابر اک آتش پندار یہاں بھی ہے وہاں بھی احباب مرے ایک ہی جیسے ہیں جہاں ہیں اک جذبۂ ایثار یہاں بھی ہے وہاں بھی اک صبح ترے ساتھ کئی میل چلے تھے اس صبح کا اسرار یہاں بھی ہے وہاں ...

مزید پڑھیے

اجنبیت تھی مگر خاموش استفسار پر

اجنبیت تھی مگر خاموش استفسار پر نام اس نے اک علامت میں لکھا دیوار پر رائیگاں جاتی ہوئی عمر رواں کی اک جھلک تازیانہ ہے قناعت آشنا کردار پر دشمنوں کے درمیاں میرا محافظ ہے قلم میں نے ہر تلوار روکی ہے اسی تلوار پر دن ہو جیسا بھی گزر جاتا ہے اپنے طور سے رات ہوتی ہے مگر بھاری ترے ...

مزید پڑھیے

گلشن گلشن شعلۂ گل کی زلف صبا کی بات چلی

گلشن گلشن شعلۂ گل کی زلف صبا کی بات چلی حرف جنوں کی بند گراں کی جرم و سزا کی بات چلی زنداں زنداں شور جنوں ہے موسم گل کے آنے سے محفل محفل اب کے برس ارباب وفا کی بات چلی عہد ستم ہے دیکھیں ہم آشفتہ سروں پر کیا گزرے شہر میں اس کے بند قبا کی رنگ حنا کی بات چلی ایک ہو دیوانہ اک نے سر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4964 سے 6203