دل اک نئی دنیائے معانی سے ملا ہے
دل اک نئی دنیائے معانی سے ملا ہے یہ پھل بھی ہمیں نقل مکانی سے ملا ہے جو نام کبھی نقش تھا دل پر وہ نہیں یاد اب اس کا پتا یاد دہانی سے ملا ہے یہ درد کی دہلیز پہ سر پھوڑتی دنیا اس کا بھی سرا میری کہانی سے ملا ہے کھوئے ہوئے لوگوں کا سراغ اہل سفر کو جلتے ہوئے خیموں کی نشانی سے ملا ...