قومی زبان

دل اک نئی دنیائے معانی سے ملا ہے

دل اک نئی دنیائے معانی سے ملا ہے یہ پھل بھی ہمیں نقل مکانی سے ملا ہے جو نام کبھی نقش تھا دل پر وہ نہیں یاد اب اس کا پتا یاد دہانی سے ملا ہے یہ درد کی دہلیز پہ سر پھوڑتی دنیا اس کا بھی سرا میری کہانی سے ملا ہے کھوئے ہوئے لوگوں کا سراغ اہل سفر کو جلتے ہوئے خیموں کی نشانی سے ملا ...

مزید پڑھیے

وہ تنہا تھا تو پھر تنہائی کا دم ساز ہونا تھا

وہ تنہا تھا تو پھر تنہائی کا دم ساز ہونا تھا ان آنکھوں کے لیے مجھ کو ستارہ ساز ہونا تھا سبھی خاموش تھے آواز پر اس کی سو ایسے میں مجھے چپ تو نہیں رہنا تھا ہم آواز ہونا تھا جو دل میں تھا وہ اک ویران گنبد ہی میں کہہ دیتا یہ میرا عہد تھا مجھ کو اثر انداز ہونا تھا مرے لب پر زمانے کی ...

مزید پڑھیے

ذرا ذرا ہی سہی آشنا تو میں بھی ہوں

ذرا ذرا ہی سہی آشنا تو میں بھی ہوں تمہارے زخم کو پہچانتا تو میں بھی ہوں نہ جانے کون سی آنکھوں سے دیکھتے ہو مجھے تمہاری طرح سے ٹوٹا ہوا تو میں بھی ہوں تمہی پہ ختم نہیں مہر و ماہ کی گردش شکست خواب کا اک سلسلہ تو میں بھی ہوں تمہیں منانے کا مجھ کو خیال کیا آئے کہ اپنے آپ سے روٹھا ہوا ...

مزید پڑھیے

تو اب کے عجب طرح ملا ہے

تو اب کے عجب طرح ملا ہے چہرہ تو وہی ہے دل نیا ہے سنتا ہی نہیں ہے ایک میری دل تیرے مزاج پر گیا ہے تنہا بھی نہیں مگر ترے بعد شاموں کا اداس سلسلہ ہے پلکوں پہ ہے کچھ نمی ادھر بھی دل آج ادھر بھی رو دیا ہے چمکا ہے یہ کون جس کے آگے سورج سا چراغ بجھ گیا ہے فرصت اسے ہو تو اس سے ...

مزید پڑھیے

عشق ہے تو یوں نبھانا چاہیے

عشق ہے تو یوں نبھانا چاہیے جان پر اب جان جانا چاہیے بات کچھ ایسی بنانا چاہیے بوند میں ساگر سمانا چاہیے موت بھی گر دیکھ لے تو جل مرے زندگی یوں مسکرانا چاہیے مدتوں کوئی سفر ممکن نہیں زندگی کو بھی ٹھکانہ چاہیے زندگی کیا ہے تجربے کے سوا مشکلوں کو آزمانا چاہیے گھر بنا بنیاد کے ...

مزید پڑھیے

زندگی بھی عجب تماشا ہے

زندگی بھی عجب تماشا ہے دھوپ کو چھاؤں کا سہارا ہے مٹ رہے نقش اس مقدر کے میں نے صحرا سے جو بنایا ہے ہم نوا ہے نہ ہم سفر کوئی حد تلک درد بے سہارا ہے اپنی تنہائیوں سے تھک کر آج تیرگی نے مجھے پکارا ہے میرے اشعار میں چمکتا ہوں میں جب انہیں خون دل پلایا ہے

مزید پڑھیے

ساتھ رہ کر بھی جانتا کہاں ہے

ساتھ رہ کر بھی جانتا کہاں ہے وہ مرا ہے پر آشنا کہاں ہے یہ تمنا ہے دو گھڑی جی لوں زیست کا لیکن راستہ کہاں ہے مجھ میں جیتا ہے ہر نفس لیکن میں اسی کا ہوں مانتا کہاں ہے جو دعا میں عبادتوں میں رہا وہ محبت کا دیوتا کہاں ہے چوٹ گہری لگی ہے دل پہ کوئی کسی سے اس کا واسطہ کہاں ہے ساتھ خود ...

مزید پڑھیے

کوئی منزل تو راستہ ہی نہیں

کوئی منزل تو راستہ ہی نہیں ان سے اب کوئی سلسلہ ہی نہیں مدتوں سے گزر ہے خود سے ہی تیرے جیسا کوئی ملا ہی نہیں خواب رنگیں ہیں اس کی آنکھوں میں میرے غم سے وہ آشنا ہی نہیں مجھ کو منظور ہے یہ در بدری تو مرے ساتھ جب چلا ہی نہیں تیرے جانے کے بعد سے میں نے نام اپنا کبھی سنا ہی نہیں

مزید پڑھیے

کسی گلی کسی چھت پر ضرور نکلے گا

کسی گلی کسی چھت پر ضرور نکلے گا وہ چاند ابر سے باہر ضرور نکلے گا یہ حکمرانئ شب دیر تک نہیں ہوگی کہیں سے مہر منور ضرور نکلے گا اسی گرانیٔ شب کی دبیز چادر سے نمود صبح کا منظر ضرور نکلے گا خود اپنے آپ سے لڑنی پڑے گی جنگ ہمیں دلوں سے خوف کا لشکر ضرور نکلے گا یہ شہر شیشہ گراں ہے تو ...

مزید پڑھیے

تیرے پہلو میں ترے دل کے قریں رہنا ہے

تیرے پہلو میں ترے دل کے قریں رہنا ہے میری دنیا ہے یہی مجھ کو یہیں رہنا ہے کام جو عمر رواں کا ہے اسے کرنے دے میری آنکھوں میں سدا تجھ کو حسیں رہنا ہے دل کی جاگیر میں میرا بھی کوئی حصہ رکھ میں بھی تیرا ہوں مجھے بھی تو کہیں رہنا ہے آسماں سے کوئی اترا نہ صحیفہ نہ سہی تو مرا دیں ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4960 سے 6203