ہنگام شب و روز میں الجھا ہوا کیوں ہوں
ہنگام شب و روز میں الجھا ہوا کیوں ہوں دریا ہوں تو پھر راہ میں ٹھہرا ہوا کیوں ہوں کیوں میری جڑیں جا کے زمیں سے نہیں ملتیں گملے کی طرح صحن میں رکھا ہوا کیوں ہوں اس گھر کے مکینوں کا رویہ بھی تو دیکھوں تزئین در و بام میں کھویا ہوا کیوں ہوں گرتی نہیں کیوں مجھ پہ کسی زخم کی شبنم میں ...