قومی زبان

جزیرے کی طرح میری نشانی کس لیے ہے

جزیرے کی طرح میری نشانی کس لیے ہے مرے چاروں طرف پانی ہی پانی کس لیے ہے میں اکثر سوچتا ہوں دل کی گہرائی میں جا کر زمیں پر ایک چادر آسمانی کس لیے ہے بظاہر پر سکوں اور دل کی ہر اک رگ سلامت تو زیر سطح دریا اک روانی کس لیے ہے میں ٹوٹا ہوں تو اپنی کرچیاں بھی جوڑ لوں گا بکھرنے پر مرے یہ ...

مزید پڑھیے

کچھ نہیں ہونے کے ادراک سے ڈرتا کیوں ہے

کچھ نہیں ہونے کے ادراک سے ڈرتا کیوں ہے خاک ہونا ہے تو پھر خاک سے ڈرتا کیوں ہے جب کسی دست زلیخا سے تعلق ہی نہیں اپنے دامن کے کسی چاک سے ڈرتا کیوں ہے ایسے موسم میں تو ہر شاخ پہ پھول آتے ہیں آخر اس موسم نمناک سے ڈرتا کیوں ہے کل ستاروں کو بھی خاطر میں نہیں لاتا تھا آج سیل خس و خاشاک ...

مزید پڑھیے

سکون دل کی خاطر اک سہارا ڈھونڈتے ہیں

سکون دل کی خاطر اک سہارا ڈھونڈتے ہیں جو گردش میں نہیں ہے وہ ستارا ڈھونڈتے ہیں ابھی تو تجھ سے وابستہ ہیں پچھلے زخم سارے شب رفتہ تجھے ہم کیوں دوبارا ڈھونڈتے ہیں کوئی گھر ہی نہیں تو بے گھری کا زخم کیسا سکونت کے لیے اک استعارا ڈھونڈتے ہیں زمیں اچھی لگی ہے آسماں پر جا کے ہم کو کہاں ...

مزید پڑھیے

محبت اور محبت کا شجر باقی رہے گا

محبت اور محبت کا شجر باقی رہے گا چلے جائیں گے ہم لیکن سفر باقی رہے گا کسی دستک کی کانوں میں صدا آتی رہے گی کوئی نقش قدم دہلیز پر باقی رہے گا ابھی سے کیوں بجھا دیں اپنے دل کی ساری شمعیں سحر ہونے تک امکان سحر باقی رہے گا بڑھا آتا ہے سیل بے یقینی ہر طرف سے تو اس سیلاب میں کیا میرا ...

مزید پڑھیے

وہ دوست ہے اور برا نہیں ہے

وہ دوست ہے اور برا نہیں ہے بس میرے مزاج کا نہیں ہے دل میرا بھی کب تھا ایسا سادہ وہ آنکھ بھی بے خطا نہیں ہے اس شخص نے پھیر لی ہوں آنکھیں ایسا تو کبھی ہوا نہیں ہے اک بار محبتوں کا بادل برسا ہے تو پھر رکا نہیں ہے یہ جاں سے گزرتی ساعتیں ہیں یہ درد کا مرحلہ نہیں ہے کچھ زخم وہاں لگے ...

مزید پڑھیے

یہ زمیں چاند ستاروں کا بدل کیسے ہو

یہ زمیں چاند ستاروں کا بدل کیسے ہو سوچتا میں بھی بہت کچھ ہوں عمل کیسے ہو صورت حال بدل جاتی ہے اک لمحے میں آدمی اپنے ارادوں میں اٹل کیسے ہو کن درختوں سے لگا رکھی ہے امید ثمر شاخ ہی جب نہ ہو سرسبز تو پھل کیسے ہو سوچتے کچھ ہیں عمل کچھ ہے نتیجہ کچھ ہے ایسی صورت میں کوئی مسئلہ حل ...

مزید پڑھیے

کہیں بھی جا کے بسیرا کریں ادھر ہی کے ہیں

کہیں بھی جا کے بسیرا کریں ادھر ہی کے ہیں ہمارے سارے حوالے ہمارے گھر ہی کے ہیں ہماری سانس تلک ہی ہمارا ورثہ ہے ہمارے خواب بھی آنکھوں میں رات بھر ہی کے ہیں میں ان سے ٹوٹ کے کرتا ہوں پیار کیوں نہ کروں یہ سارے پھول یہ پتے مرے شجر ہی کے ہیں وہ جس کو چاہے بنا دے کمال فن کی مثال تمام ...

مزید پڑھیے

لمحۂ تلخیٔ گفتار تلک لے آیا

لمحۂ تلخیٔ گفتار تلک لے آیا وہ مجھے اپنے ہی معیار تلک لے آیا کیا رکھے اس سے کوئی سلسلۂ گفت و شنید گھر کی باتوں کو جو بازار تلک لے آیا میں نے جو بات بھروسے پہ کہی تھی اس سے وہ اسے سرخیٔ اخبار تلک لے آیا گھر میں جب کچھ نہ بچا اس کی اعانت کے لیے میں اٹھا کر در و دیوار تلک لے ...

مزید پڑھیے

اتنا بے نفع نہیں اس سے بچھڑنا میرا

اتنا بے نفع نہیں اس سے بچھڑنا میرا انجمن ساز ہوا ہے دل تنہا میرا سرنگوں ہونے نہیں دیتا یہ احساس مجھے میں تو ٹوٹا ہوں مگر خواب نہ ٹوٹا میرا کون ہیں وہ جنہیں آفاق کی وسعت کم ہے یہ سمندر نہ یہ دریا، نہ یہ صحرا میرا ایک ہی لمحۂ موجود میں موجود ہوں میں اور اک لمحے کا ہونا ہے نہ ہونا ...

مزید پڑھیے

گرتی ہے تو گر جائے یہ دیوار سکوں بھی

گرتی ہے تو گر جائے یہ دیوار سکوں بھی جینے کے لیے چاہیئے تھوڑا سا جنوں بھی یہ کیسی انا ہے مرے اندر کہ مسلسل دیکھوں اسے لیکن نظر انداز کروں بھی کھل کر تو وہ مجھ سے کبھی ملتا ہی نہیں ہے اور اس سے بچھڑ جانے کا امکان ہے یوں بھی ایسی بھی کوئی خاص تعلق کی فضا ہو محفل میں جب اس کی نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4959 سے 6203