قومی زبان

تخلیق

نابود کے کامل سناٹے میں ذہن آفاقی شور خیالوں کا اپنے سنتا ہے اعماق کی تاریکی سے ابھر کر نور کا ایک اعظم ذرہ شق ہو کے عدم کے سناٹے کو توڑتا ہے پیٹھوں پہ ہوائے شمسی مارتی ہے درے۔۔۔ دوری حرکت میں آتے ہیں ساکت کرے افکار کا ورطہ بین النجم خلاؤں میں آواز مہیب سے گھومتا ہے سورج کے ...

مزید پڑھیے

راز

شام و سحر کے منظر گہری اداسیوں کے پردے گرا رہے ہیں واقف تو تھیں ہمیشہ ان سے میری نگاہیں اوڑھے نہ تھیں فضائیں یوں کہر کی عبائیں کچھ تھا جو کھو گیا ہے? شاخ نظر پے دہکا برگ حنا کا شعلہ یوں کانپتا ہے جیسے مٹتا کوئی ہیولیٰ شام و سحر سے کوئی مفرور ہو گیا ہے؟ سینے میں میں ...

مزید پڑھیے

جرم

اترا تھا محبت سے باطن کے اندھیرے میں تم ہی نے مگر اس کو نہ دوست کبھی جانا روشن نہ کبھی مانا اب ٹھوکریں کھاتے ہو باطن کے اندھیرے میں اور ڈھونڈتے پھرتے ہو رفعت پہ مگر بہتا ظلمات کا دھارا ہے معدوم وہ تارا ہے یہ جرم تمہارا ہے

مزید پڑھیے

تذلیل

تم نے سنا موسم نے سبزے کی زبانی کیا کہا؟ ''یہ نہیں ان کی جگہ'' یہ بھی کہا کہ ''مطربوں کا طائفہ ان کے لیے ہے صرف جن کا سامعہ معتقد ہے صبح نو کے طربیہ الحان کا'' اور طائروں نے یک زباں اس بات کی تصدیق کی گردن ہلائی ساق پر ہر پھول نے اور پیٹھ دے کر اپنی خوشبو روک لی منہ موڑ کر شاخوں نے روکی ...

مزید پڑھیے

خوف

دائم تو فلک نزدیک نہیں رہتا تو اب تو ہاتھ بڑھاتا ہے اور تارے توڑتا جاتا ہے جب دور مگر اک دن یہ فلک ہو جائے گا تب کیا اس کو سمجھائے گا یہ بھی تو ممکن ہے لیکن اس وقت دریدہ خود اس کا بھی دامن ہو اور وہ خود بھی یہ جانتی ہو کہ آخر وہ دن آتا ہے جب دور فلک ہو جاتا ہے

مزید پڑھیے

گناہ

کچی مٹی کے آنگن میں طاق بدر پتھر پہ دھرا معصوم دیا آدھے روشن آدھے تاریکی میں ڈوبے اک انساں نے شب کی آمد پر ایک ستارے کا ایما پا کر اپنے اطاق تیرہ کے اک اونچے طاق میں اس کو اجالا تھا برفاب سیاہی نے شب کی کانوں میں اس کے ایسی کیا سرگوشی کی کہ اس کا دیا اس نے کالا کمبل اوڑھا اور طاق ...

مزید پڑھیے

راز

شام و سحر کے منظر گہری اداسیوں کے پردے گرا رہے ہیں واقف تو تھیں ہمیشہ ان سے میری نگاہیں اوڑھے نہ تھیں فضائیں یوں کہر کی عبائیں کچھ تو جو کھو گیا ہے شاخ نظر پہ دہکا برگ حنا کا شعلہ یوں کانپتا ہے جیسے مٹتا کوئی ہیولیٰ شام و سحر سے کوئی مفرور ہو گیا ہے سینے میں میں تقاطر

مزید پڑھیے

موجود جو نہیں وہی دیکھا بنا ہوا

موجود جو نہیں وہی دیکھا بنا ہوا آنکھوں میں اک سراب ہے دریا بنا ہوا اک اور شخص بھی ہے مرے نام کا یہاں اک اور شخص ہے مرے جیسا بنا ہوا سمجھا رہے ہو مجھ کو مرا ارتقا مگر دیکھا نہیں ہے آدمی پہلا بنا ہوا اے انہماک چشم ذرا یہ مجھے بتا چاروں طرف زمین پہ ہے کیا بنا ہوا کرنے لگا ہے طنز ...

مزید پڑھیے

مانا کسی ظالم کی حمایت نہیں کرتے

مانا کسی ظالم کی حمایت نہیں کرتے ہم لوگ مگر کھل کے بغاوت نہیں کرتے کرتے ہیں مسلسل مرے ایمان پہ تنقید خود اپنے عقیدوں کی وضاحت نہیں کرتے کچھ وہ بھی طبیعت کا سکھی ایسا نہیں ہے کچھ ہم بھی محبت میں قناعت نہیں کرتے جو زخم دیے آپ نے محفوظ ہیں اب تک عادت ہے امانت میں خیانت نہیں ...

مزید پڑھیے

ہونٹوں کو پھول آنکھ کو بادہ نہیں کہا

ہونٹوں کو پھول آنکھ کو بادہ نہیں کہا تجھ کو تری ادا سے زیادہ نہیں کہا برتا گیا ہوں صرف کسی سیر کی طرح تونے مجھے سفر کا ارادہ نہیں کہا کہتا تو ہوں تجھے میں گل خوش نما مگر خوش رنگ موسموں کا لبادہ نہیں کہا رہتے ہیں صرف تنگ نظر لوگ جس جگہ اس شہر بیکراں کو کشادہ نہیں کہا باندھا ہر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4914 سے 6203