قومی زبان

مکاں سے دور کہیں لا مکاں سے ہوتا ہے

مکاں سے دور کہیں لا مکاں سے ہوتا ہے سفر شروع یقیں کا گماں سے ہوتا ہے وہیں کہیں نظر آتا ہے آپ کا چہرہ طلوع چاند فلک پر جہاں سے ہوتا ہے ہم اپنے باغ کے پھولوں کو نوچ ڈالتے ہیں جب اختلاف کوئی باغباں سے ہوتا ہے مجھے خبر ہی نہیں تھی کہ عشق کا آغاز اب ابتدا سے نہیں درمیاں سے ہوتا ...

مزید پڑھیے

ہے مستقل یہی احساس کچھ کمی سی ہے

ہے مستقل یہی احساس کچھ کمی سی ہے تلاش میں ہے نظر دل میں بیکلی سی ہے کسی بھی کام میں لگتا نہیں ہے دل میرا بڑے دنوں سے طبیعت بجھی بجھی سی ہے بڑی عجیب اداسی ہے مسکراتا ہوں جو آج کل مری حالت ہے شاعری سی ہے گزر رہے ہیں شب و روز بے سبب میرے یہ زندگی تو نہیں صرف زندگی سی ہے تھکی تو ایک ...

مزید پڑھیے

دیا نہیں ہے مجھے چھپ چھپا کے رونے تک

دیا نہیں ہے مجھے چھپ چھپا کے رونے تک نظر میں اس نے رکھے میرے گھر کے کونے تک میں کیا بتاؤں کہ بیتے ہیں کیا کڑے موسم شدید کرب سے گزرا ہوں سنگ ہونے تک وہ روشنی کی طرح تیز تیز چلتا ہے گزر نہ جائے کہیں آنکھ میں سمونے تک کوئی کرے گا نہیں دیکھ بھال پھولوں کی سب اہتمام بہاراں ہے بیج ...

مزید پڑھیے

دامن گل میں کہیں خار چھپا دیکھتے ہیں

دامن گل میں کہیں خار چھپا دیکھتے ہیں آپ اچھا نہیں کرتے کہ برا دیکھتے ہیں ہم سے وہ پوچھ رہے ہیں کہ کہاں ہے اور ہم جس طرف آنکھ اٹھاتے ہیں خدا دیکھتے ہیں کچھ نہیں ہے کہ جو ہے وہ بھی نہیں ہے موجود ہم جو یوں محو تماشا ہیں تو کیا دیکھتے ہیں لوگ کہتے ہیں کہ وہ شخص ہے خوشبو جیسا ساتھ ...

مزید پڑھیے

اک دن خود کو اپنے اندر پھینکوں گا

اک دن خود کو اپنے اندر پھینکوں گا میں شیشہ ہوں لیکن پتھر پھینکوں گا تو پھینکے گی جھیل میں پھول کلائیوں کے اور میں اپنی ذات کے کنکر پھینکوں گا تیری خوشبو بسی ہوئی ہر سلوٹ میں کھائی میں لے جا کر میں بستر پھینکوں گا خواب میں تیرے پھول بدن کو نوچوں گا اپنی چیخیں تیرے اندر پھینکوں ...

مزید پڑھیے

ریت آنکھوں میں بھر گیا دریا

ریت آنکھوں میں بھر گیا دریا کیسے آیا کدھر گیا دریا راستہ مل سکا نہ آنکھوں سے میرے اندر ہی مر گیا دریا میں تو پیاسا تھا خشک صحرا سا مجھ میں کیسے اتر گیا دریا اس کی آنکھوں کی دیکھ گہرائی خامشی سے گزر گیا دریا بات کتنی تھی مختصر اس کی وہ تو کوزے میں بھر گیا دریا پھر مقدر وہاں ...

مزید پڑھیے

کیسا طلسم آج یہ طاری ہے جسم میں

کیسا طلسم آج یہ طاری ہے جسم میں تیرا ورود شوق سے جاری ہے جسم میں تم بھی نہ جان پاؤ گے اس دل کا اضطراب تم نے تو ایک عمر گزاری ہے جسم میں اک سبز روشنی ہے جو گھیرے ہوئے مجھے آیت ضحی کی کس نے اتاری ہے جسم میں یہ میرا عشق ہے کہ جو زندہ ہے مجھ میں تو ورنہ تو ایک سانس بھی بھاری ہے جسم ...

مزید پڑھیے

صدائے قیس شوق دشت پیمائی نم دانم

صدائے قیس شوق دشت پیمائی نم دانم نہ جانے کون سی کل کھینچ کے لائی نمی دانم فقیروں کو مرے شاہانا خلعت سے نوازا ہے عقیدت ہے یا رنگ ذات آرائی نمی دانم کھڑے ہیں راستے میں ہاتھ باندھے پیڑ صف بستہ ہوا کیوں چاندنی کے دوش پر آئی نمی دانم وجود خاک سے لپٹے رہے پہلو کے انگارے بدن کی آگ ...

مزید پڑھیے

بھول کر تو سارے غم اپنے چمن میں رقص کر

بھول کر تو سارے غم اپنے چمن میں رقص کر جاگ اے درویش جاں میرے بدن میں رقص کر ڈال کر چادر وفا کی تو مزار عشق پر دار منصوری پہ آ اس پیرہن میں رقص کر تو گریباں چاک جو نکلا ہے غم کی بھیڑ میں جا چلا جا چھوڑ سب تو اس کے من میں رقص کر بارگاہ حسن میں جھک کر سلامی پیش کر باندھ کر گھنگرو گلوں ...

مزید پڑھیے

سفینہ غرق ہوا میرا یوں خموشی سے (ردیف .. ا)

سفینہ غرق ہوا میرا یوں خموشی سے کہ سطح آب پہ کوئی حباب تک نہ اٹھا سمجھ نہ عجز اسے تیرے پردہ دار تھے ہم ہمارا ہاتھ جو تیرے نقاب تک نہ اٹھا جھنجھوڑتے رہے گھبرا کے وہ مجھے لیکن میں اپنی نیند سے یوم حساب تک نہ اٹھا جتن تو خوب کیے اس نے ٹالنے کے مگر میں اس کی بزم سے اس کے جواب تک نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4915 سے 6203