قومی زبان

جن کے زیر نگیں ستارے ہیں

جن کے زیر نگیں ستارے ہیں کچھ سنا تم نے وہ ہمارے ہیں ان کے آنکھوں کے وہ کنارے دو بے کرانی کے استعارے ہیں آنسوؤں کو فضول مت سمجھو یہ بڑے قیمتی سہارے ہیں جو چمکتے تھے بام گردوں پر خاک میں آج وہ ستارے ہیں گرمی شوق نے تری آصفؔ ان کے رخسار و لب نکھارے ہیں

مزید پڑھیے

یہ دل میں وسوسہ کیا پل رہا ہے

یہ دل میں وسوسہ کیا پل رہا ہے ترا ملنا بھی مجھ کو کھل رہا ہے جسے میں نے کیا تھا بے خودی میں جبیں پر اب وہ سجدہ جل رہا ہے مجھے مت دو مبارک باد ہستی کسی کا ہے یہ سایہ چل رہا ہے سر صحرا سدا دل کے شجر سے برستا دور اک بادل رہا ہے فساد لغزش تخلیق آدم ابھی تک ہاتھ یزداں مل رہا ہے دلوں ...

مزید پڑھیے

یہ مری بزم نہیں ہے لیکن (ردیف .. و)

یہ مری بزم نہیں ہے لیکن دل لگا ہے تو لگا رہنے دو جانے والوں کی طرف مت دیکھو رنگ محفل کو جما رہنے دو ایک میلہ سا مرے دل کے قریب آرزوؤں کا لگا رہنے دو ان پہ پھایا نہ رکھو مرہم کا میرے زخموں کو ہرا رہنے دو دوستانہ ہے شکستہ جس سے اس کو سینے سے لگا رہنے دو ہوش میں ہے تو زمانہ ...

مزید پڑھیے

شجر

میں نے جڑ سے اکھاڑنا چاہا اس شجر کو جسے محبت سے میں نے خوں دے کے اپنا پالا تھا میری آنکھوں کا جو اجالا تھا جب نہ اکھڑا تو میں نے اس کا تنا تیز آرے سے کاٹنا چاہا آہ لیکن بلند چیخ اس کی میرے کانوں نے دل خراش سنی اس سے چھوٹا لہو کا فوارہ میرے آنگن میں آج بھی ہے کھڑا وہ شجر اب زمیں میں اس ...

مزید پڑھیے

شاید

''وہ جھک کے زمیں پر بغلوں میں دے کر ہاتھ ہماری ہم کو اٹھاتا ہے تاروں تک لاتا ہے پھر ہاتھ ہٹا کر ہم کو گرنے چھوڑتا ہے سرد و تاریک خلاؤں میں شاید اس کی یہ خواہش ہوتی ہے ہم اپنے دونوں بازو لہرائیں اور اوپر اٹھتے جائیں حتی کہ تنہائی کے ابد میں اس کے داخل ہوں اور ہاتھ بڑھا کر کانپتی ...

مزید پڑھیے

ماں

آوارہ گردی کرنا صبح و شام دھینگا مشتی، دشنام ہر روز یہی ہے کام نہ چین ہے نہ آرام بازار کی بھیڑ ہٹاتی اپنی کہنی سے بازو سے پکڑ کر جیسے اپنے بگڑے ضدی بچے کو فہمائش کرتی گھر واپس لے جاتی ہے ماں یوں ہی ہم کو بھی موت آ کر اس دنیا سے لے جاتی ہے بے چین ہماری روحوں کو دیتی ہے اماں شور و شر ...

مزید پڑھیے

بارش

بادل کی دھتکاری بارش روتی پھرتی ہے شانوں پہ دہکتے صحراؤں کا غم ڈھوتی پھرتی ہے وہ تیرہ پہنائی میں ساری رات بھٹکتی ہے رہ رہ کے اس کے سینے میں بجلی کی یاد تڑپتی ہے قہر سے اس کو کالے بادل گھورتے رہتے ہیں اس کے موتی جیسے آنسو پرنالوں میں بہتے ہیں

مزید پڑھیے

تلاش

غسل طہارت کے لیے ڈوبا افق میں آفتاب افروختہ قندیل اپنی ہاتھ میں اپنے لیے راہبانہ رات پھرتی ہے فلک پر سوگوار جستجو سے شل ہیں اب چپو چلاتے ہاتھ ماہ و سال کے بے صبر، جھک کر ہاتھ سے اپنے فنا وسط سمندر میں اٹھاتی ہے بھنور ہوتی ہے مہلت ختم اب تو پردۂ اخفا اٹھا میرے مقدس خواب کی تعبیر ...

مزید پڑھیے

جنگل

نسا جال کا پھیلتا سلسلا مکانوں کی چیخیں جکڑ کر شکنجوں میں بنیاد کو توڑتی ہیں جنہیں ہراول جڑیں زمیں بوس ہوتی ہیں اونچی چھتیں سبز ماہی مراتب اٹھائے ہوئے بندروں کی صفیں آب زیریں کے خوں سے ہے جس کی نمو سبز ہوتا ہے اب پھر وہی سرخ رو

مزید پڑھیے

زمیں کی رات

زمیں کی رات کی ہے حکمرانی اسی کا ایلچی سورج ہے آؤ! بجھی جو روشنی دیتی ہیں وہ شمعیں جلاؤ اسی کے یہ خزاں دیدہ چمن ہیں دمکتے آنسوؤں کے بیچ بو کر زمین خواب سے اپنا کوئی گلشن اگاؤ اسی کے ہیں یہ چشمے تلخ سارے ازل کی تشنگی کو ساتھ لے کر سر صحرا کھڑے ہو کر سرابوں کو بلاؤ

مزید پڑھیے
صفحہ 4913 سے 6203