قومی زبان

بے تابی

کبھی کبھی اکثر تمہاری یاد کا پہلو بڑا بے چین کرتا ہے سکوں مجھ کو نہیں آتا تمہاری یاد آتی ہے ذرا رنجور کرتی ہے ذرا خاموش رہتا ہوں ذرا سا شور سنتا ہوں سمجھ میں کچھ نہیں آتا بڑا بے چین رہتا ہوں ہوا بھی کچھ نہیں کہتی صبا بھی چپ ہی رہتی ہے ندا اکثر گلے کے آخری نکڑ تلک آ کر بہت دھیرے سے ...

مزید پڑھیے

عزم

یاد نے اپنے پنکھ پھر سے کھول لیے ایک نئی اڑان کے لیے دور بہت دور فلک کے اس کونے پر جہاں ایک ایسی بستی ہے جس کی فضا میں انگنت رنگین نظارے بکھرے ہوئے ہیں جن کو صرف چھو کے روح ان بلندیوں کا سفر طے کرتی ہے جس کی آس مجھے بھی ہے اور تمہیں بھی آؤ میرے ساتھ میں تمہیں وہ سرگوشیاں سناؤں کبھی ...

مزید پڑھیے

لباس گل میں وہ خوشبو کے دھیان سے نکلا

لباس گل میں وہ خوشبو کے دھیان سے نکلا مرا یقین بھی وہم و گمان سے نکلا ہمارے ساتھ ہی اب آندھیاں بھی چلتی ہیں یہ طرز ہم سفری بادبان سے نکلا کچھ اس طرح سے بندھے ہیں زمیں کی ڈور سے ہم کہ خوف گم رہی اونچی اڑان سے نکلا نقیب میں ڈھونڈھ رہا تھا فصیل شب میں مگر مرا غنیم مرے ہی مکان سے ...

مزید پڑھیے

آرزو پیکر و اصنام سے خالی نکلی

آرزو پیکر و اصنام سے خالی نکلی میں نے حسرت بھی نکالی تو خیالی نکلی آج سورج بھی دیا ہاتھ میں لے کر نکلا کوچۂ شب سے سحر بھی مری کالی نکلی جبر تقدیر سے ڈر جاتے تو مر ہی جاتے جب بھی جینے کی کوئی راہ نکالی نکلی اجنبی شہر میں اک دشت تمنا لے کر کاسۂ چشم سے بینائی سوالی نکلی تیری ٹوٹی ...

مزید پڑھیے

خون اتر آیا دل کے چھالوں میں

خون اتر آیا دل کے چھالوں میں بن رہے تھے محل خیالوں میں جاگتے جاگتے چڑھا سورج آنکھ دکھنے لگی اجالوں میں پنچھیوں ہجرتوں کی رت آئی برف جمنے لگی ہے بالوں میں بھوک نے کھینچ دی ہیں دیواریں ہم نوالوں میں ہم پیالوں میں مرثیہ اس صدی کا لکھنا ہے اور دو تین چار سالوں میں بجنے والی ہے ...

مزید پڑھیے

دیواروں کو دل سے باہر رکھنے والے

دیواروں کو دل سے باہر رکھنے والے ہم بنجارے کاندھے پر گھر رکھنے والے کوچ کا جب بھی گجر بجے اٹھ کر چل دیں گے بندھا ہوا ہم اپنا بستر رکھنے والے کیسی پروازیں کیسی آزاد فضائیں کنج قفس میں خوش ہیں شہ پر رکھنے والے آنچ سے جگنو کی چٹانیں سلگ رہی ہیں شعلے اگلیں موم کا پیکر رکھنے ...

مزید پڑھیے

اسیر زندگانی میں نہیں ہوں

اسیر زندگانی میں نہیں ہوں بدن ہوتا ہے فانی میں نہیں ہوں جہاں کی بد گمانی میں نہیں ہوں خود اپنی خوش بیانی میں نہیں ہوں مرا دعویٰ نہیں ہے اس کھنڈر پر یہ مٹی اور پانی میں نہیں ہوں اگر پاتے ہو میرا دخل خود میں یہاں بس تم ہو یعنی میں نہیں ہوں گماں ہے بس ہنسی ہو یا کہ آنسو یہ سکھ دکھ ...

مزید پڑھیے

دل لگی کرنے سے یہ دل کہاں مانا ہوتا

دل لگی کرنے سے یہ دل کہاں مانا ہوتا تم نہ ملتے تو کہیں اور ٹھکانا ہوتا اپنی مرضی کے موافق جو فسانہ ہوتا وہ بھی دنیا کے مطابق ہی سنانا ہوتا کاش ٹوٹی ہوئی کشتی کے کھویا بنتے ہم کو دریا کے کسی پار تو جانا ہوتا یہ کوئی بھولی کہانی ہے جو یاد آتی ہے ایسی حالت میں کوئی دوست پرانا ...

مزید پڑھیے

ستم گر کے ستم پر نوحہ خوانی کر نہیں سکتے

ستم گر کے ستم پر نوحہ خوانی کر نہیں سکتے ہے یہ اک کاروبار رائیگانی کر نہیں سکتے ذرا یہ ولولے تھامو کہ منزل آنے والی ہے ابھی ہم راستوں سے بد زبانی کر نہیں سکتے ہمیشہ اپنا مقصد بھول جانے والے یہ کردار مکمل اس طرح کوئی کہانی کر نہیں سکتے حسیں ہو با وفا ہو رسم الفت بھی سمجھتے ...

مزید پڑھیے

جانی ہوئی گلیوں میں بسر کر نہیں پائے

جانی ہوئی گلیوں میں بسر کر نہیں پائے لیکن کبھی پردیس میں گھر کر نہیں پائے ہر میل کے پتھر پہ لگائے تھے نشانات سنتے ہیں کہ تکمیل سفر کر نہیں پائے اک تم ہو جو خاموشی سے بے چین کئے ہو اک ہم ہیں جو باتوں سے اثر کر نہیں پائے شہر غم ہستی میں ہوا تیز بہت تھی کتنے ہی چراغ اپنی سحر کر نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4905 سے 6203