گزر جاتے ہیں آ کر سامنے کیا کیا الم اس کے
گزر جاتے ہیں آ کر سامنے کیا کیا الم اس کے ٹھہرنے کا تکلف ہی نہیں کرتے قدم اس کے کبھی عرضی ہماری بھی سنی جاتی تھی مجلس میں کبھی ہم سے بھی تھے مانوس الطاف و کرم اس کے قیامت ہے کہ ان کو بھی عنایت کہہ رہا ہے دل ابھی تک جانتے تھے جن کو ہم ظلم و ستم اس کے سناتے تھے شکستہ دل کی آہیں ایک ...