قومی زبان

گزر جاتے ہیں آ کر سامنے کیا کیا الم اس کے

گزر جاتے ہیں آ کر سامنے کیا کیا الم اس کے ٹھہرنے کا تکلف ہی نہیں کرتے قدم اس کے کبھی عرضی ہماری بھی سنی جاتی تھی مجلس میں کبھی ہم سے بھی تھے مانوس الطاف و کرم اس کے قیامت ہے کہ ان کو بھی عنایت کہہ رہا ہے دل ابھی تک جانتے تھے جن کو ہم ظلم و ستم اس کے سناتے تھے شکستہ دل کی آہیں ایک ...

مزید پڑھیے

خیال آیا تو رو پڑے گا بس اک فسانہ ہوا کریں گے

خیال آیا تو رو پڑے گا بس اک فسانہ ہوا کریں گے اگر ہم اک مرتبہ اٹھے تو کہاں تجھے پھر ملا کریں گے سوال ہم پر اٹھا کریں گے ہم ایسے مظلوم کیا کریں گے ہر ایک در پر جھکا کریں گے سبھی بتوں کو خدا کریں گے یہ خشک نظریں جنہیں زمانہ اجاڑ صحرا سمجھ رہا ہے کبھی نظر بھر کے دیکھو ان میں کئی ...

مزید پڑھیے

پائی ہے وہ ملکیت جس میں ملا کچھ بھی نہیں

پائی ہے وہ ملکیت جس میں ملا کچھ بھی نہیں سر پہ سارا آسماں اور زیر پا کچھ بھی نہیں اصل اپنا کھوجتا پھرتا ہے آدم عمر بھر زندگی خود کے تعاقب کے سوا کچھ بھی نہیں اب پلٹ کر پوچھتے ہو راہ میں کیا کیا ہوا ہم سیہ بختوں کو کیا ہوگا بھلا کچھ بھی نہیں عاشقی پر قول کرتے آ رہے ہیں چند لوگ لوگ ...

مزید پڑھیے

زندگی کیسے کسی مرحلے پر ٹھہری رہے

زندگی کیسے کسی مرحلے پر ٹھہری رہے یعنی چلتی بھی رہے سانس مگر ٹھہری رہے عشق کی رسم نہ بدلے کسی عاشق کے لیے راہ رو چلتے رہیں راہ گزر ٹھہری رہے وقت خود ہی ہمیں سکھلائے گا آداب سخن لب ناشاد پہ خاموشی اگر ٹھہری رہے باغ امکاں کے مناظر کا بلاوا ہے ہمیں کب تک الفت کے دریچے پہ نظر ٹھہری ...

مزید پڑھیے

جگمگاتی خواہشوں کا نور پھیلا رات بھر

جگمگاتی خواہشوں کا نور پھیلا رات بھر صحن دل میں وہ گل مہتاب بکھرا رات بھر ایک بھولا واقعہ جب دفعتاً یاد آ گیا آتش ذوق طلب نے پھر جلایا رات بھر دوستوں کے ساتھ دن میں بیٹھ کر ہنستا رہا اپنے کمرے میں وہ جا کر خوب رویا رات بھر نیند کے صحرا میں پانی کی طرح گم ہو گیا میں نے اس کو خواب ...

مزید پڑھیے

بکھرے بکھرے بال اور صورت کھوئی کھوئی

بکھرے بکھرے بال اور صورت کھوئی کھوئی من گھائل کرتی ہیں آنکھیں روئی روئی ملبے کے نیچے سے نکلا ماں کا لاشہ اور ماں کی گودی میں بچی سوئی سوئی ایک لرزتے پل میں بنجر ہو جاتی ہیں آنکھوں میں خوابوں کی فصلیں بوئی بوئی سرد ہوائیں شہروں شہروں چیخیں لائیں مرہم مرہم خیمہ خیمہ لوئی ...

مزید پڑھیے

ہر چند بے نوا ہے کورے گھڑے کا پانی

ہر چند بے نوا ہے کورے گھڑے کا پانی دیوان میرؔ کا ہے کورے گھڑے کا پانی اپلوں کی آگ اب تک ہاتھوں سے جھانکتی ہے آنکھوں میں جاگتا ہے کورے گھڑے کا پانی جب مانگتے ہیں سارے انگور کے شرارے اپنی یہی صدا ہے کورے گھڑے کا پانی کاغذ پہ کیسے ٹھہریں مصرعے مری غزل کے لفظوں میں بہہ رہا ہے کورے ...

مزید پڑھیے

نظر کو وقف حیرت کر دیا ہے

نظر کو وقف حیرت کر دیا ہے اسے بھی دل سے رخصت کر دیا ہے برائے نام تھا آرام جس کو غزل کہہ کر مصیبت کر دیا ہے سمجھتے ہیں کہاں پتھر کسی کی مگر اتمام حجت کر دیا ہے گلی کوچوں میں جلتی روشنی نے حسیں شاموں کو شامت کر دیا ہے بصیرت ایک دولت ہی تھی آخر سو دولت کو بصیرت کر دیا ہے کئی ہمدم ...

مزید پڑھیے

کسی کی دوری کا احساس کیوں دلاتی ہے

کسی کی دوری کا احساس کیوں دلاتی ہے عجب ہے چاندنی مجھ کو بہت ستاتی ہے میں اس خیال سے تنہا سفر پہ نکلا ہوں کبھی تو راہ بھی خود راستہ دکھاتی ہے کسی کا لہجہ کوئی بات چھوٹی سادہ سی کبھی کبھی تو بہت درد دے کے جاتی ہے میں تیرے خواب لئے رات بھر ٹہلتا ہوں مجھے بتا کہ تجھے کیسے نیند آتی ...

مزید پڑھیے

کچھ آرزو کے خواب دکھانے لگی ہوا

کچھ آرزو کے خواب دکھانے لگی ہوا پانی کے زندگی کو ستانے لگی ہوا ہم بھی ہوئے شکار ہیں اظہار عشق کے جب گیسوؤں کے خم کو دکھانے لگی ہوا باد صبا تمہاری مہک لے کے آ گئی روٹھے ہوئے دلوں کو منانے لگی ہوا لیلیٰ و قیس ہم کو کہنے لگے ہیں لوگ رسوائیوں کو نام بتانے لگی ہوا دل کی منڈیر کا یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4906 سے 6203