قومی زبان

وجود عشق کا کوئی سرا ملا نہیں ملا

وجود عشق کا کوئی سرا ملا نہیں ملا خودی ملی نہیں ملی خدا ملا نہیں ملا تمام شہر میں ملے گلے ہزار رات سے مگر کہیں کسی جگہ دیا ملا نہیں ملا تمہیں ہماری روح کے نشاں ملے نہیں ملے ہمیں تمہارے جسم کا پتا ملا نہیں ملا یہ عہد رد کا عہد تھا سو رسم مسترد ہوئی مسیح وقت دار پر کھڑا ملا نہیں ...

مزید پڑھیے

خاموشی کے در پردہ محسوس کیا

خاموشی کے در پردہ محسوس کیا تیری آنکھوں کو اپنا جاسوس کیا ہم پر تو اک عشق کی آفت اتری تھی دیوار و در کو کس نے منحوس کیا چوکھٹ پر بیٹھا ہے کس خاموشی سے دروازے کو دستک نے مانوس کیا تیرے ہجر کا چاقو یوں تو کاری تھا لیکن زخموں نے کتنا مایوس کیا تو نے خط میں پھول بنا کر بھیجا ...

مزید پڑھیے

وہ زندگی سے کیا گیا دھواں اڑا کے رکھ دیا

وہ زندگی سے کیا گیا دھواں اڑا کے رکھ دیا مکاں کے اک ستون نے مکاں گرا کے رکھ دیا وہ راہ سے چلا گیا تو راہ موڑ بن گئی مرے سفر نے راستہ کہاں چھپا کے رکھ دیا کسی دیے کی طرز سے گزر رہی ہے زندگی یہاں جلا کے رکھ دیا وہاں بجھا کے رکھ دیا وجود کی بساط پر بڑی عجیب مات تھی یقیں لٹا کے اٹھ گئے ...

مزید پڑھیے

پندار شب غم کا دربار سلامت ہے

پندار شب غم کا دربار سلامت ہے پر شمع فروزاں کا انکار سلامت ہے آئین زباں بندی زنداں پہ نہیں لاگو زنجیر سلامت ہے جھنکار سلامت ہے تم پا بہ شکستہ بھی افراز سری دیکھو دستور سلامت ہے دستار سلامت ہے نشہ نہیں پیمانہ آنکھیں نہیں دل دیکھو مقدار سلامت ہے معیار سلامت ہے اب جو بھی نہیں ...

مزید پڑھیے

اس قدر ٹوٹ کر ملا ہے کوئی

اس قدر ٹوٹ کر ملا ہے کوئی جیسے مجھ سے بچھڑ رہا ہے کوئی میرے آنگن میں کیسی خوشبو ہے جیسے اٹھ کر ابھی گیا ہے کوئی آج بھی چاہتوں کی آنکھوں سے قطرہ قطرہ ٹپک رہا ہے کوئی جسم بیدار ہو رہا ہے مرا میری بانہوں میں سو رہا ہے کوئی سانس ساحل کو چھوتے رہتے ہیں میرے سینے میں ڈوبتا ہے کوئی

مزید پڑھیے

شہر وحشت کو خواب گر تو ملے

شہر وحشت کو خواب گر تو ملے آئنے سے مری نظر تو ملے گھر میں سایہ تو ٹھیک ہیں لیکن دھوپ دیوار کے ادھر تو ملے میں کہیں اور دے تو دوں دستک پر مجھے اور کوئی در تو ملے وہ میرے دن کی بھی ضرورت ہے ورنہ اک شخص رات بھر تو ملے دیکھنے والا کیا کرے آخر ڈوبنے والا ہاتھ بھر تو ملے

مزید پڑھیے

شوق سرور شام غم اپنے سوا کسی کا ہے

شوق سرور شام غم اپنے سوا کسی کا ہے جام و سبو کسی کے ہیں کیف و نشہ کسی کا ہے خود تک پہنچ کے دیکھیے کیا کیا پڑے گا بیچ میں گویا قبا ہے آپ کی بند قبا کسی کی ہے خیمۂ سامری کو ہے اژدر رامسس کا خوف یعنی عصا کسی کی ہے یعنی خدا کسی کا ہے کس کس خدا کا ذکر ہو کس کس خدا سے کام ہو دل میں دعا ...

مزید پڑھیے

پیران جبہ و کلاہ سارا فساد ایک ہے

پیران جبہ و کلاہ سارا فساد ایک ہے سب کا خدا الگ سہی سب کا مفاد ایک ہے چاروں طرف ہیں مذہبی چاروں طرف ہیں نفرتیں سب کی نماز ایک ہے سب کا جہاد ایک ہے طبع شعور و فکر کی زد پر رہا ہے اختیار صدیوں سے شیخ و شاہ کو ہم سے عناد ایک ہے روشن چراغ ہو یا دل تاباں قلم ہو یا خرد گرد شب خیال سے ان ...

مزید پڑھیے

ایک ہی راہ کو عمر بھر دیکھنا

ایک ہی راہ کو عمر بھر دیکھنا کوئی آئے نہ آئے مگر دیکھنا تم ہمیں دیکھ کر کھو گئیں سوچ میں اب دوبارہ ہمیں سوچ کر دیکھنا تیرا پلکیں جھکانا ہمیں دیکھ کر پھر ادھر دیکھنا پھر ادھر دیکھنا عشق میں ٹوٹنے کا الگ لطف ہے تم کبھی عشق میں ٹوٹ کر دیکھنا ہاتھ سے اک دعا گر کے کرچی ہوئی اب مری ...

مزید پڑھیے

اوڑھ لے پھر سے بدن رات کے بازو نکلے

اوڑھ لے پھر سے بدن رات کے بازو نکلے خواب در خواب کسی خوف کا چاقو نکلے آئنے پر کسی ناخن کی خراشوں کا وہم عکس نوچوں تو وہاں بھی ترا جادو نکلے تیری آواز کی کرنوں سے تصور روشن پھول نکلے کہ ترے جسم کی خوشبو نکلے شعبدہ گر تری آغوش تلک جا پہنچا تیرے پہلو سے کئی اور بھی پہلو نکلے جشن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4852 سے 6203