وجود عشق کا کوئی سرا ملا نہیں ملا
وجود عشق کا کوئی سرا ملا نہیں ملا خودی ملی نہیں ملی خدا ملا نہیں ملا تمام شہر میں ملے گلے ہزار رات سے مگر کہیں کسی جگہ دیا ملا نہیں ملا تمہیں ہماری روح کے نشاں ملے نہیں ملے ہمیں تمہارے جسم کا پتا ملا نہیں ملا یہ عہد رد کا عہد تھا سو رسم مسترد ہوئی مسیح وقت دار پر کھڑا ملا نہیں ...