قومی زبان

محبت

تمہیں جولائی کی انیسویں تپتی جھلستی دوپہر اب یاد کب ہوگی کہ جس کی حدتیں کتنے مہینوں بعد تک ہم نے بدن کے ہر دریچے پر لکھی محسوس کی تھیں اور انہیں نظمیں سمجھ کر گنگنایا تھا تمہارے جسم کی پگڈنڈیوں پر چلتے چلتے ایک ایسا موڑ آیا تھا جہاں اوہام الہامی نظر آتے ہیں اور امکان ناکامی محبت ...

مزید پڑھیے

ریپ

میں اپنے اندر کسی خلا میں بھٹک رہی تھی ادھڑ رہی تھی مگر وہاں صرف اک بدن تھا جو ناخنوں سے وجود سے روح چھیلتا تھا ادھڑتی سانسوں پہ دانت اپنے چبھو رہا تھا میں درد زہ سے بھی سرخ رو ہو کے آنے والی میں آشنائے اذیت ذائقہء تخلیق اک تمسخر سے ایک تضحیک کے گماں سے خود اپنی آہٹ کی سسکیوں ...

مزید پڑھیے

جو سینہ پر تیری زلفوں کا ابر آتا تو بہتر تھا

جو سینہ پر تیری زلفوں کا ابر آتا تو بہتر تھا جلائے‌ قلب ہوتی دل سنبھل جاتا تو بہتر تھا کسی لیلیٰ سے کم جانا نہیں تجھ کو کبھی ہم نے تجھے بھی ہم میں کوئی قیس دکھ جاتا تو بہتر تھا نہیں پانی میسر تو ان آنکھوں کو تو دھوکا ہو سراب ریگ سے اک پل کو چین آتا تو بہتر تھا یہ کیسے دوست میں نے ...

مزید پڑھیے

نظم

رات کاغذ قلم کا عجب کھیل تھا ان کے قدموں کا نقشہ بنایا گیا اور قدموں میں دل کو سجایا گیا دل کی معراج تھے نقش پا پیار کے کیا مچلتا تھا دل زندگی وار کے اور پھر جاگ اٹھی ادا حسن کی میرا دل ان کے زیر قدم آ گیا میری جرأت تو دیکھو اے جان وفا اپنا ذوق جنوں آزماتا رہا تیرے قدموں کو میں نے ...

مزید پڑھیے

یہ کیسا شہر کا منظر دکھائی دیتا ہے

یہ کیسا شہر کا منظر دکھائی دیتا ہے ہر ایک سمت سمندر دکھائی دیتا ہے سلگتی دھوپ میں اکثر دکھائی دیتا ہے مجھے وہ شخص تو پتھر دکھائی دیتا ہے سمجھ رہا تھا جسے اپنا غم گسار بہت اسی کے ہاتھ میں خنجر دکھائی دیتا ہے خدا ہی جانے کہ رہتا ہے اس میں آخر کون مہیب دشت میں اک گھر دکھائی دیتا ...

مزید پڑھیے

پھر صدائے محبت سنی ہے ابھی

پھر صدائے محبت سنی ہے ابھی زخم نو کی سعادت ملی ہے ابھی رابطہ دل کا دل سے ہے کافی مجھے نور ہی نور میں زندگی ہے ابھی وقت بدلا ہے ہم تم تو بدلے نہیں وہ ہی چاہت وہی بے بسی ہے ابھی یہ جبیں اور کسی در پہ جھکتی ہی کیوں اس میں تیری محبت جڑی ہے ابھی کچھ تمنا سے بڑھ کر بھی پایا مگر آرزو ...

مزید پڑھیے

مری مشکل اگر آساں بنا دیتے تو اچھا تھا

مری مشکل اگر آساں بنا دیتے تو اچھا تھا لبوں سے لب دم آخر ملا دیتے تو اچھا تھا میں جی سکتا تھا بس تیری ذرا سی اک عنایت سے مرے ہاتھوں میں ہاتھ اپنا تھما دیتے تو اچھا تھا مری بیتاب دھڑکن کو بھی آ جاتا قرار آخر مرے خوابوں کی دنیا کو سجا دیتے تو اچھا تھا تمہاری بے رخی پر دل مرا بے چین ...

مزید پڑھیے

کوئی نہیں ہمارا پرسان حال اب کے

کوئی نہیں ہمارا پرسان حال اب کے پہلے سے بھی شکستہ آیا ہے سال اب کے ہمت تو آ گئی تھی دکھ جھیلنے کی لیکن آیا ہے غم ہی چل کے اک اور چال اب کے کی ہے بہت عبادت فرقت میں آنسوؤں نے یزداں تو کر لے ان کا کچھ تو خیال اب کے باتوں کی نغمگی سب آہوں میں ڈھل گئی ہے پھیلا اداسیوں کا کیسا یہ جال اب ...

مزید پڑھیے

جیون بھر کی آس ہے تو

جیون بھر کی آس ہے تو جینے کا احساس ہے تو تن سے ہے تو دور مگر من کے پھر بھی پاس ہے تو شاید تو ہے ایک سراب لیکن میری پیاس ہے تو تجھ ہی سے ہو جیسے بقاء ایسا اک احساس ہے تو بزم ہو یا تنہائی ہو ہر جا دل کو راس ہے تو

مزید پڑھیے

ان گنت عذاب ہیں رتجگوں کے درمیاں

ان گنت عذاب ہیں رتجگوں کے درمیاں درد بے حساب ہیں رتجگوں کے درمیاں بن چکا ہے دل سوال اب کسی کے ہجر میں اس پہ لا جواب ہیں رتجگوں کے درمیاں اشک روک روک اب شل ہوئے ہیں حوصلے ہر سمے عتاب ہیں رتجگوں کے درمیاں کاش وہ ملے کہیں تو بتاؤں میں اسے کس قدر سراب ہیں رتجگوں کے درمیاں سو چراغ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4851 سے 6203