پلکوں پہ سج رہے ہیں جو موتی نہ رولیے
پلکوں پہ سج رہے ہیں جو موتی نہ رولیے جوہر ہیں غم کے غم کے ترازو میں تولیے شام غم فراق کے پہلو میں بیٹھ کر آئی کسی کی یاد تو چپکے سے رو لئے موندی گئیں جو آنکھیں تو آئے وہ دیکھنے آ کر بھی کہہ نہ پائے کہ آنکھیں تو کھولیے دیکھا جو قدر غم کی نہیں ہے جہان میں لے کر وہ بیج دل میں محبت سے ...