قومی زبان

پلکوں پہ سج رہے ہیں جو موتی نہ رولیے

پلکوں پہ سج رہے ہیں جو موتی نہ رولیے جوہر ہیں غم کے غم کے ترازو میں تولیے شام غم فراق کے پہلو میں بیٹھ کر آئی کسی کی یاد تو چپکے سے رو لئے موندی گئیں جو آنکھیں تو آئے وہ دیکھنے آ کر بھی کہہ نہ پائے کہ آنکھیں تو کھولیے دیکھا جو قدر غم کی نہیں ہے جہان میں لے کر وہ بیج دل میں محبت سے ...

مزید پڑھیے

نقش جب بھی ترا ابھارا ہے

نقش جب بھی ترا ابھارا ہے خواب نے خواب کو سنوارا ہے تیری چاہت تری وفاؤں کا قرض ہم نے کہاں اتارا ہے میرے جیون کا آسماں ہے تو میری قسمت کا تو ستارا ہے میری ناؤ کی تو ہی منزل ہے میرے دریا کا تو کنارا ہے چل پڑیں گے اویسؔ جی ہم بھی بادباں کا اگر اشارہ ہے

مزید پڑھیے

شباب آیا تڑپنے اور تڑپانے کا وقت آیا

شباب آیا تڑپنے اور تڑپانے کا وقت آیا اگر سچ پوچھئے بے موت مر جانے کا وقت آیا ابھی جی بھر کے پی لو پھر نہ جانے کس پہ کیا گزرے قریب اب شیخ جی کے وعظ فرمانے کا وقت آیا انہیں پاس حیا ٹھہرا تو اپنے پاؤں لرزاں ہیں ہماری جرأتوں کا ان کے شرمانے کا وقت آیا گھٹا چھائی برسنے کو ہیں بوندیں ...

مزید پڑھیے

رات دن جوش جنوں سے کام ہونا چاہیے

رات دن جوش جنوں سے کام ہونا چاہیے عشق کی دنیا میں اپنا نام ہونا چاہیے مٹ نہ جائے اس جہاں سے عشق کا نام و نشاں کچھ تو پاس حسرت ناکام ہونا چاہیے گل رخوں کی بات چھوڑو وہ خزاں دیدہ ہیں پھول فصل گل کا ذکر صبح و شام ہونا چاہیے زندگی مٹتی ہے مٹ جائے ادائے فرض میں فرض کی تکمیل پر انجام ...

مزید پڑھیے

ہوش و حواس جب سے ہمارے چلے گئے

ہوش و حواس جب سے ہمارے چلے گئے جو یار غم گسار تھے سارے چلے گئے اے چارہ گر وہ دیکھ ترے در سے نا مراد بیمار عشق یاس کے مارے چلے گئے احسان ناخدا کا اٹھانا تھا ناگوار اس پار ہم خدا کے سہارے چلے گئے اس بے خودی کی خیر تری جستجو میں ہم اپنا ہی نام آپ پکارے چلے گئے دل میں لیے شکایت بے ...

مزید پڑھیے

ان کی نگاہ ناز کا مستانہ ہو گیا

ان کی نگاہ ناز کا مستانہ ہو گیا میں ہوش میں کچھ اور بھی دیوانہ ہو گیا زاہد کا خوف اور نہ کچھ محتسب کا ڈر اب تو مزاج شیخ بھی رندانہ ہو گیا مرنے کے بعد کھل گئیں ساری حقیقتیں جو زندگی میں راز تھا افسانہ ہو گیا یادیں گئیں وہ شوق وہ ارمان لٹ گئے آباد تھا جو دل کبھی ویرانہ ہو ...

مزید پڑھیے

وہ حسن کیا جو کسی دل کا مدعا نہ ہوا

وہ حسن کیا جو کسی دل کا مدعا نہ ہوا وہ عشق کیا جو محبت کی انتہا نہ ہوا بچے گا کیا کوئی ان کی نظر کے تیروں سے نشانہ ان کی نظر کا کبھی خطا نہ ہوا کوئی پیام نہ ہم نامہ بر کو دے پائے سلام کہتے ہی فی الفور وہ روانہ ہوا ہمارا ذکر پہنچتے ہی ان کی محفل میں زمانہ بھر کی زباں پر چڑھا فسانہ ...

مزید پڑھیے

صبح تلک افلاک پہ اک کیفیت طاری کرتا ہوں

صبح تلک افلاک پہ اک کیفیت طاری کرتا ہوں چاند کو اپنی نظم سنا کر شب بے داری کرتا ہوں چوکیدار ہوں لیکن میرا لمبا چوڑا کام نہیں ایک ہی پھول ہے باغ میں جس کی پہرے داری کرتا ہوں گھر سے نکل آتا ہوں اکثر صبح کے تڑکے وحشت میں جھیل میں پتھر پھینک کے دن بھر وقت گزاری کرتا ہوں رات گزر جاتی ...

مزید پڑھیے

اشک کو دریا بنایا آنکھ کو ساحل کیا

اشک کو دریا بنایا آنکھ کو ساحل کیا میں نے مشکل وقت کو کچھ اور بھی مشکل کیا ایک مایوسی ہی دل میں کب تلک رہتی مرے میں نے مایوسی میں دل کا خوف بھی شامل کیا نیند کی امداد جیسے ہی بہم پہنچی مجھے آنکھ کے مقتل میں اپنے خواب کو داخل کیا ورنہ تیرا چھوڑ جانا جان لے جاتا مری کرب میں آنسو ...

مزید پڑھیے

آئنہ سے گزرنے والا تھا

آئنہ سے گزرنے والا تھا عکس ہستی بکھرنے والا تھا لفظ ترتیب دے رہا تھا میں شعر مجھ پر اترنے والا تھا دوست تصویر تو پرائی تھی میں تو بس رنگ بھرنے والا تھا ہم بھی کیا اس کے ساتھ مر جاتے مرنے والا تو مرنے والا تھا پھر اچانک بدل گیا منظر میں جسے نقش کرنے والا تھا پھر مجھے سامنے سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4805 سے 6203