وقت نے لوٹے ہیں ہستی کے خزانے کتنے
وقت نے لوٹے ہیں ہستی کے خزانے کتنے خاک کا ڈھیر ہوئے قصر نہ جانے کتنے خواب احساس نظر یاد تصور دھڑکن میں نے تیرے لئے رکھے ہیں ٹھکانے کتنے آج منزل پہ پہنچ کر مجھے احساس ہوا راہ میں چھوٹ گئے دوست پرانے کتنے دل وہ پنچھی ہے کبھی دام میں آتا ہی نہیں چوک جاتے ہیں نگاہوں کے نشانے ...