قومی زبان

وقت نے لوٹے ہیں ہستی کے خزانے کتنے

وقت نے لوٹے ہیں ہستی کے خزانے کتنے خاک کا ڈھیر ہوئے قصر نہ جانے کتنے خواب احساس نظر یاد تصور دھڑکن میں نے تیرے لئے رکھے ہیں ٹھکانے کتنے آج منزل پہ پہنچ کر مجھے احساس ہوا راہ میں چھوٹ گئے دوست پرانے کتنے دل وہ پنچھی ہے کبھی دام میں آتا ہی نہیں چوک جاتے ہیں نگاہوں کے نشانے ...

مزید پڑھیے

دل پہ یادوں کا بوجھ طاری ہے

دل پہ یادوں کا بوجھ طاری ہے آج کی رات کتنی بھاری ہے قید کی طرح کاٹتے ہیں سب کس نے یہ زندگی گزاری ہے سر چھپا کر ترے دوپٹے میں خوشبوؤں نے تھکن اتاری ہے ایسی بھینی مہک ہے باتوں میں جیسے تازہ گلوں کی کیاری ہے دل لگی لمحہ بھر کی ہے لیکن زندگی بھر کی بے قراری ہے زلف و رخسار کی ضیا لے ...

مزید پڑھیے

دل کو رہین لذت درماں نہ کر سکے

دل کو رہین لذت درماں نہ کر سکے ہم ان سے بھی شکایت ہجراں نہ کر سکے اس طرح پھونک میرا گلستان آرزو پھر کوئی تیرے بعد اسے ویراں نہ کر سکے مہنگی تھی اس قدر ترے جلووں کی روشنی ہم اپنی ایک شام فروزاں نہ کر سکے بچھڑے رہے تو اور بھی رسوا کریں گے لوگ تم بھی علاج گردش دوراں نہ کر سکے دل ان ...

مزید پڑھیے

دل نے چاہا تھا جسے اپنے سہارے کی طرح

دل نے چاہا تھا جسے اپنے سہارے کی طرح غم اسی شخص کا بھڑکا ہے شرارے کی طرح تیرا احسان نہ بھولوں گا غم یار کہ تو روز سجتا ہے مری آنکھ میں تارے کی طرح کتنے الہام کے رنگوں سے رنگا ہے چہرہ جس کو پڑھتا ہوں میں قرآن کے پارے کی طرح شعلہ لپکا ہے ترے حسن کا ایسے بھی کبھی شعر میرے بھی ہوئے ...

مزید پڑھیے

ہجر کا دن ہے یہ گزرنے دے

ہجر کا دن ہے یہ گزرنے دے اے غم یار شام ڈھلنے دے عمر تھوڑی ہے پیاس صدیوں کی شبنمی رت سکوں سے مرنے دے اس نے مانگا ہے مجھ سے اک تحفہ اب تو جاں ہی یہ نذر کرنے دے ہو جو ممکن تو ابر برسا دے حدت غم میں ورنہ جلنے دے جذبۂ شوق لو بھی دے گا اسے پیکر صبر میں تو ڈھلنے دے کوئی لمحہ تو ہو سخی ...

مزید پڑھیے

خود سے ملنے کی جستجو تم ہو

خود سے ملنے کی جستجو تم ہو جس پہ مرتا ہوں خوبرو تم ہو ناز کرتا ہوں آج میں دل پر دل ہے میرا تو آرزو تم ہو ہر گھڑی خود کو بھول جاتا ہوں ہر گھڑی میرے روبرو تم ہو جان مضطر کی بے قراری میں جب بھی دیکھا ہے چار سو تم ہو خامشی بھی کلام کرتی ہے گونگے سپنوں کی گفتگو تم ہو

مزید پڑھیے

آج میری پلکوں پر قدسیوں کا میلہ ہے

آج میری پلکوں پر قدسیوں کا میلہ ہے عشق تیری محفل میں دل کہاں اکیلا ہے حوریں تیری یادوں کی جنتیں سجاتی ہیں ان سے آج یہ کہہ دو زندگی جھمیلا ہے آئینہ سنورتا ہے ان کے دیکھے جانے سے رنگ و نور کہتا ہے روشنی کا ریلا ہے درد دل کو بھاتے ہیں جانے کیوں لبھاتے ہیں آنکھ کے ستاروں کا سجتا ...

مزید پڑھیے

یہ کس ادا سے چمن سے بہار گزری ہے

یہ کس ادا سے چمن سے بہار گزری ہے سلگ سلگ کے تمنا ہزار گزری ہے حیات دل کی جو اک شب شمار کر بھی لوں وہ ایک شب ہی بہت بے قرار گزری ہے اڑا کے لے جو گئی دل کی سسکیاں بلبل چمن چمن پہ قیامت ہزار گزری ہے صبا نے چھو جو لیا خوشبوؤں کے آنچل کو جبین گل پہ شکن ناگوار گزری ہے یہ کس مقام پہ ...

مزید پڑھیے

قیس صحرا نشیں سے لے آؤ

قیس صحرا نشیں سے لے آؤ عشق مجھ سا کہیں سے لے آؤ چاند کہتا تھا آسمانوں پر نور میرا زمیں سے لے آؤ ان کے نازک لبوں کو چھو جائے ایسا جھونکا کہیں سے لے آؤ رقص کرتا رہے جو ہونٹوں پر ایسا مصرعہ کہیں سے لے آؤ ہم منائیں تو مان جائیں گے ان کو جا کر کہیں سے لے آؤ خاک جن کی حیات کا ...

مزید پڑھیے

دور صحرا کی کڑی دھوپ میں چھاؤں جیسا

دور صحرا کی کڑی دھوپ میں چھاؤں جیسا وہ تو لگتا تھا مجھے میری دعاؤں جیسا اک ریاست تھی مرے پاس نوابوں جیسی اب ترے شہر میں پھرتا ہوں گداؤں جیسا اب اسے ڈھونڈھتا پھرتا ہوں بیابانوں میں جو مرے پاس سے گزرا تھا ہواؤں جیسا تو نہ تھا پاس تو روٹھی تھیں بہاریں مجھ سے جیسے موسم ہو مرے ساتھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4804 سے 6203