قومی زبان

عشق اپنا عجب تماشہ ہے

عشق اپنا عجب تماشہ ہے اک جہاں ہے کہ ہم کو تکتا ہے جیسے بے ماں کے طفل ہو یہ دل آج کچھ اس طرح سے سہما ہے تجھ کو پا کر بھی شاد کب تھا دل تجھ کو کھو کر بھی ہاتھ ملتا ہے آؤ اس دیس میں چلیں جس جا عشق تپتا ہے روپ جلتا ہے ایک ہی روپ کے ہیولے ہیں گاہ سفیوؔ ہے گاہ میراؔ ہے کتنا نازک ہے ...

مزید پڑھیے

صحرا کا کوئی پھول معطر تو نہیں تھا

صحرا کا کوئی پھول معطر تو نہیں تھا تھا ایک چھلاوا کوئی منظر تو نہیں تھا پھر کیوں تری تصویر ڈھلی روح میں میری افسوں تری آنکھوں کا مصور تو نہیں تھا بن کر مرا اپنا وہ بنا حسرت جاوید تھا خاک کا پتلا ہی مقدر تو نہیں تھا میں بھی تری خلوت کا کوئی ناز چراتا ایسا کوئی قسمت کا سکندر تو ...

مزید پڑھیے

کرب ہجراں زبس ہے کیا کیجے

کرب ہجراں زبس ہے کیا کیجے ہم کو تیری ہوس ہے کیا کیجے نے دماغ وصال ہے ہم کو کچھ انہیں پیش و پس ہے کیا کیجے ہجر میں اس نگار تاباں کے لمحہ لمحہ برس ہے کیا کیجے نگہت گل کے آبگینوں میں مرگ شیریں کا رس ہے کیا کیجے گرچہ درویش ہے عظیمؔ مگر اس کو تجھ سے بھی مس ہے کیا کیجے

مزید پڑھیے

رم جاودانہ غزل ہی تو ہے

رم جاودانہ غزل ہی تو ہے سرود شبانہ غزل ہی تو ہے نمایاں کیا جس نے اس دور کو وہ حور یگانہ غزل ہی تو ہے نہاں جس میں صدیوں کی تشکیل ہے وہ زریں ترانہ غزل ہی تو ہے ادب کا اگر ارتقا ہے تو یہ عروس زمانہ غزل ہی تو ہے یہ سر حسیں سب کو بتلا عظیمؔ یم بیکرانہ غزل ہی تو ہے

مزید پڑھیے

سرور عشق کی مستی کہاں ہے سب کے لیے

سرور عشق کی مستی کہاں ہے سب کے لیے وہ مجھ میں جذب ہوا آ کے ایک شب کے لیے وہ ایک کرب‌ حسیں جو مجھے ہوا ہے عطا نہ تیرے رخ کے لیے ہے نہ تیرے لب کے لیے کبھی تو الٹے سر عام وہ نقاب اپنی ترس رہے ہیں سبھی بادۂ‌ عنب کے لیے ترے وصال کی کب آرزو رہی دل کو کہ ہم نے چاہا تجھے شوق بے سبب کے ...

مزید پڑھیے

یہ پھول جو مٹی کے ہیولوں سے اٹا ہے

یہ پھول جو مٹی کے ہیولوں سے اٹا ہے ماضی کا کوئی خواب ہے مانوس صدا ہے سوکھا ہوا پتا ہوں کہ بے ڈال پڑا ہوں کیا جانئے کس کے لیے یہ جوگ لیا ہے اے خار چمن زار منجم تو نہیں تو فردا کا ہر اک راز ترے لب سے سنا ہے پوچھو یہ ستاروں سے کہ توضیح کریں وہ کیوں لاش پہ یوں چاند کی ماتم سا بپا ...

مزید پڑھیے

رنگ کہاں ہے سایا سا ہے

رنگ کہاں ہے سایا سا ہے نقش کہاں ہے دھوکا سا ہے صبح کی رنگت زردی مائل شام نہیں ہے دھڑکا سا ہے دل کا خون ہوا ہو شاید دور پرے جو کہرا سا ہے سیل عشق تھما کب ہوگا دریا ہے اور چڑھتا سا ہے لب اس کے جو کھلتے دیکھے ایک جہاں کچھ ہنستا سا ہے اصل میں نقش کیف ہستی فانی سا ہے مٹتا سا ہے حسن ...

مزید پڑھیے

کرب جاوداں

نغمہ بولا میں بھی زخمی شعلہ بولا میں بھی زخمی کتبہ بولا میں بھی زخمی

مزید پڑھیے

قریۂ انتظار میں عمر گنوا کے آئے ہیں

قریۂ انتظار میں عمر گنوا کے آئے ہیں خاک بہ سر اس دشت میں خاک اڑا کے آئے ہیں یاد ہے تیغ بے رخی یاد ہے ناوک ستم بزم سے تیری اہل دل رنج اٹھا کے آئے ہیں جرم تھی سیر گلستاں جرم تھا جلوہ ہائے گل جبر کے باوجود ہم گشت لگا کے آئے ہیں پہلے بھی سر بہت کٹے پہلے بھی خوں بہت بہا اب کے مگر عذاب ...

مزید پڑھیے

سکون دل گیا نظروں سے سب قطارے گئے

سکون دل گیا نظروں سے سب قطارے گئے چمن میں کھلتے ہوئے جب سے پھول مارے گئے ہوائے موت ذرا دیر کیا ادھر آئی کہ میرے ہاتھ سے اڑ کر مرے غبارے گئے یہ کیسی کربلا برپا ہوئی پشاور میں لہو میں ڈوبے ہوئے میرے بچے مارے گئے انہیں ہی مرتبہ ملتا ہے جا کے جنت میں حصول علم کی خاطر جو جان وارے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4800 سے 6203