قومی زبان

فتنہ ساماں ہی نہیں فتنۂ ساماں نکلے

فتنہ ساماں ہی نہیں فتنۂ ساماں نکلے آپ تو خانہ بر انداز دل و جاں نکلے بے خودی میں جسے ہم سمجھے ہیں تیرا دامن عین ممکن ہے کہ اپنا ہی گریباں نکلے دل پہ دھندلے سے نشاں تھے جو غم دنیا کے وہ بھی در پردہ نقوش غم جاناں نکلے پھر وہی ہم وہی بے رونقیٔ دیدہ و دل حسن کے شعبدے اک خواب گریزاں ...

مزید پڑھیے

نیم شب آتش فریاد اسیراں روشن

نیم شب آتش فریاد اسیراں روشن دھوپ سی پھیل رہی ہے سر‌ دیوار چمن یا ترے قرب کی یہ ساعت افسردہ ہے یا کبھی تیرے تصور سے سلگتا تھا بدن دل جلے روئے ہیں شاید کہیں پھر آخر شب بھیگا بھیگا ہے نسیم سحری کا دامن آج تک یاد ہے وہ شام جدائی کا سماں تیری آواز کی لرزش ترے لہجے کی تھکن دل کے ...

مزید پڑھیے

یہ اور بات ہے کہ مداوائے غم نہ تھا

یہ اور بات ہے کہ مداوائے غم نہ تھا لیکن ترا خلوص توقع سے کم نہ تھا کیا کیا فراغتیں تھیں میسر حیات کو وہ دن بھی تھے کہ تیرے سوا کوئی غم نہ تھا کچھ ہم گرفت گردش دوراں میں آ گئے کچھ دل بھی تیرے عشق میں ثابت قدم نہ تھا آئے ہیں یاد تجھ سے بچھڑ کر وہ لوگ بھی جن سے تعلقات بگڑنے کا غم نہ ...

مزید پڑھیے

کیسے شعلوں پہ چل رہا ہے دل

کیسے شعلوں پہ چل رہا ہے دل چاندنی میں بھی جل رہا ہے دل دھیرے دھیرے اسے بھلا دوں گا رفتہ رفتہ سنبھل رہا ہے دل تم نے دزدیدہ اس کو دیکھا ہے جانے کیوں پھر اچھل رہا ہے دل لاکھ ڈھائے ستم ہیں تو نے پر خامشی سے اٹل رہا ہے دل چاند ہے میرے ساتھ بستر میں چاندنی میں ٹہل رہا ہے دل ایک بچے ...

مزید پڑھیے

غم سے جب بھی آشنائی ہو گئی

غم سے جب بھی آشنائی ہو گئی یہ جو دنیا تھی پرائی ہو گئی اب دلوں کے درمیاں دیوار ہے یہ خطا تو میرے بھائی ہو گئی وقت کے حاکم کا ٹوٹے گا ستم آج مجھ سے لب کشائی ہو گئی سن کے بھی وہ سن نہ پایا مدعا مفت میری جگ ہنسائی ہو گئی آنکھ سے پوچھا پتہ تیرا کبھی دل کی جانب رہنمائی ہو گئی میں خدا ...

مزید پڑھیے

رلایا جس نے مجھ کو اشک فرحت

رلایا جس نے مجھ کو اشک فرحت وہ ذکر غم تھا یا ذکر محبت نہ جانے عشق میں کچھ خاص کیا ہے بھلی لگنے لگی ہے اپنی صورت ہمیشہ ذہن نے روکا ہے مجھ کو مگر دل کر ہی دیتا ہے بغاوت میں مل کر بات کرنا چاہتا ہوں نکالو تو کبھی تھوڑی سی فرصت جدھر سے جی کرے آ جاؤ گھر میں نہ ہے دیوار کوئی ناں کوئی ...

مزید پڑھیے

اکثر ساری رات ہوئی ہے

اکثر ساری رات ہوئی ہے خود سے میری بات ہوئی ہے بھیگ گئے دونوں کے دامن بن بادل برسات ہوئی ہے لانبی پلکوں کے پیچھے سے دل پر گہری گھات ہوئی ہے شہر میں آ کر کچھ دن میں ہی اونچی اس کی ذات ہوئی ہے میری تیری اس کی اس کی اپنوں سے ہی مات ہوئی ہے آنکھیں روئی سی لگتی ہیں گھر میں کچھ تو بات ...

مزید پڑھیے

نظم

سماں بدلا ہوا بدلی سیاہی رات کی بدلی فضا میں تیرتی اور چیختی بوئے لہو بدلی جو گردش میں ہیں تارے کیا ذرا بھی ان کی رو بدلی نہیں بدلی تمازت دن کی بدلی یا اداسی شام کی بدلی جھلستی دھوپ بدلی نہ سلگتی دوپہر بدلی صبا کی تازگی بدلی نہ خوشبو سحر کی بدلی دعا بدلی اذاں بدلی غریبوں کی فغاں ...

مزید پڑھیے

بیچ دلوں میں اترا تو ہے

بیچ دلوں میں اترا تو ہے درد ترا البیلا تو ہے روپ ترا اے راجکماری جیسے میری رچنا تو ہے چاند کو تم آواز تو دے لو ایک مسافر تنہا تو ہے سرجن ہارا سرجن ہارا تجھ بن بالک بلکا تو ہے سر عالم کچھ کچھ ہم نے سوچا تو ہے جانا تو ہے کتنی صبحیں برہم ہوں گی شعلہ امشب بھڑکا تو ہے کہنے والے ...

مزید پڑھیے

وہ شوخ دل و جاں کی تمنا تو نہ نکلا

وہ شوخ دل و جاں کی تمنا تو نہ نکلا شعلہ تو نہ نکلا وہ شرارا تو نہ نکلا محسوس کیا درد کے ہر روپ میں اس کو آواز کا افسوں کبھی جھوٹا تو نہ نکلا محرومیٔ جاوید نے دونوں ہی کو مارا یہ راز محبت کوئی گہرا تو نہ نکلا یہ دل کا خرابہ ہی تری راہ گزر تھی کعبہ تو نہ نکلا وہ کلیسا تو نہ نکلا وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4799 سے 6203