محفل زیست میں دیکھے ہیں اندھیرے برسوں
محفل زیست میں دیکھے ہیں اندھیرے برسوں تارے گن گن کے کئے ہم نے سویرے برسوں رنج و غم عشق صنم تشنہ لبی نیم شبی دل نازک کو یہ حالات تھے گھیرے برسوں کیوں نہ ہو خوف زدہ لوگ نگہبانوں سے لوٹتے آئے ہیں سب کو یہ لٹیرے برسوں نام الفت ہی سے اب ہوتی ہے دل کو وحشت ہم کو ڈستی رہی یہ شام سویرے ...