قومی زبان

محفل زیست میں دیکھے ہیں اندھیرے برسوں

محفل زیست میں دیکھے ہیں اندھیرے برسوں تارے گن گن کے کئے ہم نے سویرے برسوں رنج و غم عشق صنم تشنہ لبی نیم شبی دل نازک کو یہ حالات تھے گھیرے برسوں کیوں نہ ہو خوف زدہ لوگ نگہبانوں سے لوٹتے آئے ہیں سب کو یہ لٹیرے برسوں نام الفت ہی سے اب ہوتی ہے دل کو وحشت ہم کو ڈستی رہی یہ شام سویرے ...

مزید پڑھیے

فکر کر عقبیٰ کی عزت کا اگر ارمان ہے

فکر کر عقبیٰ کی عزت کا اگر ارمان ہے چار دن دنیائے فانی کا بشر مہمان ہے خیر و شر کا جائزہ لیتا رہا جو ہر نفس چشم حق آگاہ میں بے شک وہی انسان ہے آئے ہیں دنیا میں ہم تو کام بھی اچھے کریں ورنہ سمجھو زندگی گمنام ہے بے جان ہے جن کو رسوا کر رہا ہے خود پرستی کا نشہ ان سے امید وفا جو رکھے ...

مزید پڑھیے

زخم تم نے جو دئے اس کی دوا کون کرے

زخم تم نے جو دئے اس کی دوا کون کرے راس تنہائی کے آنے کی دعا کون کرے اپنی غلطی کا نہ احساس کبھی ہو جس کو ایسے نادان سے تکرار بھلا کون کرے ہیں جو گمراہ رقیبوں کی کسی سازش میں ان کی دل سوز تباہی کا پتا کون کرے خون کے ساتھ تجارت جو کرے گردوں کی اب یقیں ایسے مسیحا کا بھلا کون کرے گھر ...

مزید پڑھیے

خموشی کو کبھی گفتار کرنا

خموشی کو کبھی گفتار کرنا غم و آلام کو دستار کرنا کسی سے وصل کا وعدہ اگر ہو نبھانے سے اسے انکار کرنا دل و جاں سے جسے چاہا ہے تم نے اسی کی زندگی دشوار کرنا دئے تھے غم جسے تحفے میں تم نے اب اس کا آخری دیدار کرنا جو پل کر آستیں میں ڈس رہا ہو اسی پر سب سے پہلے وار کرنا تمنا ہے اگر ...

مزید پڑھیے

ان سے کیوں دل ملا نہیں معلوم

ان سے کیوں دل ملا نہیں معلوم عشق کیوں کر ہوا نہیں معلوم دوست بھی دشمنوں کے جیسے ہیں کون ہے با وفا نہیں معلوم جو اصولوں پہ جان دیتے تھے کیوں ہوئے پر دغا نہیں معلوم رہبری پر تھا جس کی ناز مجھے کیوں ہے بھٹکا ہوا نہیں معلوم دل کی باتیں سنا جو کرتے ہیں کیا انہیں مدعا نہیں ...

مزید پڑھیے

دل میں کچھ درد سوا ہے یارو

دل میں کچھ درد سوا ہے یارو آج رونا بھی روا ہے یارو سانس لیتا ہوں تو دم گھٹتا ہے کیسی بے درد ہوا ہے یارو میں جو ہنستا ہوں تو رو دیتے ہیں تم کو کیا آج ہوا ہے یارو کس نے احساس کی دولت پائی کون دیوانہ ہوا ہے یارو اتنی ویران نہ تھیں یہ آنکھیں ضبط کرنے کا صلہ ہے یارو اپنے دامن میں ...

مزید پڑھیے

رہ گزاروں میں روشنی کے لیے

رہ گزاروں میں روشنی کے لیے لے کے نکلے ہیں آندھیوں میں دیے ذائقہ تلخ ہے محبت کا آدمی زہر غم پیے نہ پیے دل میں یادوں کے رت جگے جیسے ٹمٹماتے ہوں مرگھٹوں کے دیے دل میں طوفان ہیں چھپائے ہوئے ہم تو بیٹھے ہیں اپنے ہونٹ سیے کوئی تجھ سا نظر نہیں آتا دل نے سو رنگ انتخاب کیے در بدر شہر ...

مزید پڑھیے

یقیں بناتا ہے کوئی گماں بناتا ہے

یقیں بناتا ہے کوئی گماں بناتا ہے جو آدمی ہے الگ داستاں بناتا ہے شکست کرتا ہے زنجیر خانہ و محراب اور ایک حلقۂ آوارگاں بناتا ہے گل وجود سے کرتا ہے کسب کوزۂ جاں خمار سود میں لیکن زیاں بناتا ہے کمال بے خبری ہے اگر بہم ہو جائے مگر یہ زیست کو آساں کہاں بناتا ہے پس چراغ ارادہ کوئی تو ...

مزید پڑھیے

رسم اندیشہ سے فارغ ہوئے ہم

رسم‌‌ اندیشہ سے فارغ ہوئے ہم اپنے داماں کی شکن میں سمٹے کف ایام کی پر پیچ لکیروں میں کہیں اپنے آئندۂ نادیدہ سے سہمے ہوئے ہم گاہ اجمال‌ گذشتہ پہ گلو گیر ہوئے جیسے دھل جائے گا بیچاری روایات کے شانوں کا غبار چند بیمار ارادوں کی عیادت چاہی گاہ نایاب دعاؤں کا شمار اور تقریر کے ...

مزید پڑھیے

افسانۂ حیات پریشاں کے ساتھ ساتھ

افسانۂ حیات پریشاں کے ساتھ ساتھ دنیا بدل گئی غم پنہاں کے ساتھ ساتھ بیتابیٔ حیات میں آسودگی بھی تھی کچھ تیرا غم بھی تھا غم دوراں کے ساتھ ساتھ اب میرے ساتھ ان کی نظر بھی ہے بیقرار نشتر تڑپ رہے ہیں رگ جاں کے ساتھ ساتھ اب امتیاز ظاہر و باطن بھی مٹ گیا دل چاک ہو رہا ہے گریباں کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4798 سے 6203