قومی زبان

بہار میں بھی شگفتہ کوئی گلاب نہیں

بہار میں بھی شگفتہ کوئی گلاب نہیں شباب کا ہے زمانہ مگر شباب نہیں سحر تو آئی ہے پر صبح انقلاب نہیں یہ آفتاب کا دھوکا ہے آفتاب نہیں لہولہان چمن ہے تو دست پیاسا ہے کہاں کہاں پہ کرم آپ کا جناب نہیں خزاں کا دور تو گزرا خدا خدا کر کے بہار آئی تو مے خانے میں شراب نہیں عجیب ہے تری دریا ...

مزید پڑھیے

دشت و صحرا میں سمندر میں سفر ہے میرا

دشت و صحرا میں سمندر میں سفر ہے میرا رنگ پھیلا ہوا تاحد نظر ہے میرا نہیں معلوم، اسے اس کی خبر ہے کہ نہیں وہ کسی اور کا چہرہ ہے، مگر ہے میرا تو نے اس بار تو بس مار ہی ڈالا تھا مجھے میں ہوں زندہ تو مری جان ہنر ہے میرا آج تک اپنی ہی تردید کیے جاتا ہوں آج تک میرے خد و خال میں ڈر ہے ...

مزید پڑھیے

خاک چہرے پہ مل رہا ہوں میں

خاک چہرے پہ مل رہا ہوں میں آسماں سے نکل رہا ہوں میں چپکے چپکے وہ پڑھ رہا ہے مجھے دھیرے دھیرے بدل رہا ہوں میں میں نے سورج سے دوستی کی ہے شام ہوتے ہی ڈھل رہا ہوں میں ایک آتش کدہ ہے یہ دنیا جس میں صدیوں سے جل رہا ہوں میں راستوں نے قبائیں سی لی ہیں اب سفر کو مچل رہا ہوں میں اب مری ...

مزید پڑھیے

وقت کی آنکھ میں صدیوں کی تھکن ہے، میں ہوں

وقت کی آنکھ میں صدیوں کی تھکن ہے، میں ہوں دھول ہوتے ہوئے رستوں کا بدن ہے، میں ہوں پھر ترا شہر ابھر آیا ہے میرے ہر سو پھر وہی لوگ، وہی طرز سخن ہے، میں ہوں ایک تاریک ستارہ کا سفر ہے درپیش اور امید کی اک تازہ کرن ہے، میں ہوں ایک جنگل ہے، گھنے پیڑ ہیں، اک نہر ہے اور اک شکاری ہے، کوئی ...

مزید پڑھیے

کچھ دیر تو دنیا مرے پہلو میں کھڑی تھی

کچھ دیر تو دنیا مرے پہلو میں کھڑی تھی پھر تیر بنی اور کلیجے میں گڑی تھی آنکھوں کی فصیلوں سے لہو پھوٹ رہا تھا خوابوں کے جزیرے میں کوئی لاش پڑی تھی سب رنگ نکل آئے تھے تصویر سے باہر تصویر وہی جو مرے چہرے پہ جڑی تھی میں چاند ہتھیلی پہ لیے جھوم رہا تھا اور ٹوٹتے تاروں کی ہر اک سمت ...

مزید پڑھیے

وہ دکھ نصیب ہوئے خود کفیل ہونے میں

وہ دکھ نصیب ہوئے خود کفیل ہونے میں کہ عمر کٹ گئی خود کی دلیل ہونے میں مسافروں کے قدم ڈگمگائے جاتے تھے عجب نشہ تھا سفر کے طویل ہونے میں وہ ایک سنگ جو رستے میں ایستادہ تھا اسے زمانے لگے سنگ میل ہونے میں منافقین سے خطرہ کبھی غنیم کا خوف قیامتیں ہیں بہت بے فصیل ہونے میں عزیز ہونے ...

مزید پڑھیے

اس بار ہواؤں نے جو بیداد گری کی

اس بار ہواؤں نے جو بیداد گری کی پھر میرے چراغوں نے بھی شوریدہ سری کی میں نے کسی ہنستے ہوئے لمحے کی طلب میں اس شہر دل آویز میں بس دربدری کی کچھ اور وسیلہ مرے اظہار کو کم تھا سو میں نے مری جان سدا شعر گری کی اے عہد رواں میں ترا مہمان ہوا تھا لیکن ترے لوگوں نے بڑی بے خبری ...

مزید پڑھیے

میں نیند کے ایوان میں حیران تھا کل شب

میں نیند کے ایوان میں حیران تھا کل شب اک خواب مری آنکھ کا مہمان تھا کل شب کس غم میں بکھرتے رہے آکاش پہ تارے کیوں چاند پریشان پریشان تھا کل شب ہر آن کوئی یاد چمکتی رہے دل میں ہر لمحہ کوئی شور تھا، طوفان تھا کل شب کیا جانیے کیا اس کی ندامت کا سبب تھا کیا جانیے کیوں میں بھی پشیمان ...

مزید پڑھیے

شکر ہے اب کے بیکلی کم ہے

شکر ہے اب کے بیکلی کم ہے آج کل ان سے دوستی کم ہے سانس لینے میں دم نکلتا ہے ان ہواؤں میں کچھ نمی کم ہے تم اسے زخم دل دکھاتے ہو وہ جو قاتل ہے آدمی کم ہے تاب بھر اس میں ہے جلانے کی اپنے سورج میں روشنی کم ہے ہم تو دنیا کو کیا سے کیا کر دیں کیا کریں اپنی زندگی کم ہے لگ رہا ہے کہ وہ نہ ...

مزید پڑھیے

عجیب تشنگی ہر سو مرے بدن میں ہے

عجیب تشنگی ہر سو مرے بدن میں ہے کسی سراب کا آہو مرے بدن میں ہے کسی سے عشق سا ہونے کو ہے یہ تم ہو کیا نئے گلاب کی خوشبو مرے بدن میں ہے کبھی کسی سے بھی کھل کر میں مل نہیں سکتا مجھے خبر ہے کہ بس تو مرے بدن میں ہے محل کو چھوڑ کے آ جاتی ہیں زلیخائیں نہ جانے کون سا جادو مرے بدن میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4759 سے 6203