قومی زبان

ہر ایک راہ میں امکان حادثہ ہے ابھی

ہر ایک راہ میں امکان حادثہ ہے ابھی کہ کھو نہ جاؤں اندھیرے میں سوچنا ہے ابھی تمام عمر وہ چلتا رہا ہے صحرا میں گھنے درخت کے سائے میں جو کھڑا ہے ابھی سکون تیرے تصور سے جس کو ملتا ہے وہ تیری دید کو لیکن تڑپ رہا ہے ابھی ہر ایک شخص کے چہرے پہ خوف طاری ہے نہ جانے کون اندھیرے میں چیختا ...

مزید پڑھیے

حروف خالی صدف اور نصاب زخموں کے

حروف خالی صدف اور نصاب زخموں کے ورق ورق پہ ہیں تحریر خواب زخموں کے سوال پھول سے نازک جواب زخموں کے بہت عجیب ہیں یہ انقلاب زخموں کے غریب شہر کو کچھ اور غمزدہ کرنے امیر شہر نے بھیجے خطاب زخموں کے سروں پہ تان کے رکھنا ثواب کی چادر اترنے والے ہیں اب کے عذاب زخموں کے وہ ایک شخص کہ ...

مزید پڑھیے

حیران ہوں کہ آج یہ کیا حادثہ ہوا

حیران ہوں کہ آج یہ کیا حادثہ ہوا ہے آگ سرد دل بھی ہے میرا بجھا ہوا منزل پہ پہلے میری رسائی ہوئی تو پھر ہر نقش پا سے آگے مرا نقش پا ہوا ریکھائیں ہاتھ کی تو سوا جاگتی رہیں اے کاش میرا بخت رہے جاگتا ہوا تھی اس کی بند مٹھی میں چٹھی دبی ہوئی جو شخص تھا ٹرین کے نیچے کٹا ہوا نیرؔ کہانی ...

مزید پڑھیے

جی رہا ہوں میں اداسی بھری تصویر کے ساتھ

جی رہا ہوں میں اداسی بھری تصویر کے ساتھ شور کرتا ہوں سیہ رات میں زنجیر کے ساتھ سرخ پھولوں کی گھنی چھاؤں میں چپکے چپکے مجھ سے ملتا تھا کوئی اک نئی تنویر کے ساتھ اک تری یاد کہ ہر سانس کے نزدیک رہی اک ترا درد کہ چسپاں رہا تقدیر کے ساتھ کبھی زخموں کا بھی خندۂ گل کا موسم ہم پہ کھلتا ...

مزید پڑھیے

دل شکن صبح لگے شام دل آزار لگے

دل شکن صبح لگے شام دل آزار لگے اب سفینہ مرا اس پار نہ اس پار لگے بزم قاتل کی طرح حسن کی سرکار لگے یوں چلے بات کی چلتی ہوئی تلوار لگے بے سہارا ترے وعدوں کا محل ہے ورنہ خوب صورت تو بہت ریت کی دیوار لگے قوم کے درد سے اب ان کو سروکار نہیں خون انساں کی نمائش ہو کہ بازار لگے تھا برا ...

مزید پڑھیے

ہائے تقدیر کہ جینے کا سہارا ٹوٹا

ہائے تقدیر کہ جینے کا سہارا ٹوٹا جب کنارے لگی کشتی تو کنارا ٹوٹا دل کی دنیا میں اجالے کا کہیں نام نہیں زندگی جس سے تھی روشن وہ ستارا ٹوٹا پہلے امید میں جیتے تھے بہار آنے کی جب بہار آئی تو جینے کا سہارا ٹوٹا زندگی ہوتی ہے دم بھر کے لیے دنیا میں بلبلہ کر کے یہ حسرت سے اشارا ...

مزید پڑھیے

آنکھ سے آنسو ٹپکتا جائے ہے

آنکھ سے آنسو ٹپکتا جائے ہے ہر مسافر سر پٹکتا جائے ہے نازکی کیا کہئے نازک پھول کی بار شبنم سے لچکتا جائے ہے زخم دل ہم نے چھپایا تو مگر پھول کی صورت مہکتا جائے ہے کہہ رہا ہوں میں تو اپنی داستاں کیوں تمہارا دل دھڑکتا جائے ہے جب بجھانا چاہتا ہوں غم کی آگ اور بھی شعلہ بھڑکتا جائے ...

مزید پڑھیے

صہبا شگفتگی کی چھلکتی ضرور ہے

صہبا شگفتگی کی چھلکتی ضرور ہے کھلتی ہے جب کلی تو مہکتی ضرور ہے اٹھتی ہے جو بھی موج غم و اضطراب کی آنکھوں سے اشک بن کے ڈھلکتی ضرور ہے جو بے ثمر ہے اس کو یہ حاصل نہیں شرف پھل دار شاخ ہو تو لچکتی ضرور ہے ثابت یہ کر رہی ہے مری آہ آتشیں سینے میں غم کی آگ بھڑکتی ضرور ہے پا کر کسی کے ...

مزید پڑھیے

ہم انساں ہیں دل انساں کو تڑپانا نہیں آتا

ہم انساں ہیں دل انساں کو تڑپانا نہیں آتا کرم کی شان رکھتے ہیں ستم ڈھانا نہیں آتا مرے زخموں سے تم کب تک بچاؤ گے نظر اپنی یہ وہ غنچے ہیں جن کو کھل کے مرجھانا نہیں آتا کہوں کیسے کہ آنسو میری آنکھوں میں نہیں لیکن صدف کو گوہر نایاب بکھرانا نہیں آتا ہم اہل غم سدا سنگ الم سے کھیلتے ...

مزید پڑھیے

مرے اشکوں کی طغیانی سے پہلے

مرے اشکوں کی طغیانی سے پہلے رواں کشتی نہ تھی پانی سے پہلے ترستی تھیں نگاہیں روشنی کو چراغ بزم انسانی سے پہلے تڑپتا تھا سراپا درد بن کر چمن میری نگہبانی سے پہلے کسے حاصل تھی خوشبو عافیت کی ہماری بوئے سلطانی سے پہلے لہو انسانیت کے بہہ رہے تھے محبت کی جہاں بانی سے پہلے نہ سر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4758 سے 6203