ذرا سی ان بن میں روٹھ کر وہ جو دشمنوں میں ٹہل رہے ہیں
ذرا سی ان بن میں روٹھ کر وہ جو دشمنوں میں ٹہل رہے ہیں ابھی جو نوحہ بنے ہوئے ہیں کبھی ہماری غزل رہے ہیں بنا بتائے چلا گیا تھا بتا کے ملنے جو آ گیا ہوں تو روٹھ کر وہ گئے ہیں گھر میں خوشی سے چھپ کر اچھل رہے ہیں مرض ہوا ہے محبتوں کا یہ رات کیسے کٹے گی جانے ہماری نیندیں بھی اڑ چکی ہیں ...