قومی زبان

ذرا سی ان بن میں روٹھ کر وہ جو دشمنوں میں ٹہل رہے ہیں

ذرا سی ان بن میں روٹھ کر وہ جو دشمنوں میں ٹہل رہے ہیں ابھی جو نوحہ بنے ہوئے ہیں کبھی ہماری غزل رہے ہیں بنا بتائے چلا گیا تھا بتا کے ملنے جو آ گیا ہوں تو روٹھ کر وہ گئے ہیں گھر میں خوشی سے چھپ کر اچھل رہے ہیں مرض ہوا ہے محبتوں کا یہ رات کیسے کٹے گی جانے ہماری نیندیں بھی اڑ چکی ہیں ...

مزید پڑھیے

اک غزل تو مرے ہاتھوں سے مثالی ہو جائے

اک غزل تو مرے ہاتھوں سے مثالی ہو جائے کاش کے تو مرا محبوب خیالی ہو جائے دیکھ لے تو مری جانب جو اٹھا کر نظریں چشم پر نم جو تری ہے وہ غزالی ہو جائے چاند سے رخ پہ جو پھرتے ہو لگا کر گاگل عید کر لے نہ کوئی کچھ کی دیوالی ہو جائے سامنے اس کو میں رکھتا ہوں غزل کہتا ہوں جب اس غزل گوئی کی ...

مزید پڑھیے

شکاری ہیں بڑے شاطر بہانہ لے کے چلتے ہیں

شکاری ہیں بڑے شاطر بہانہ لے کے چلتے ہیں وہ ترچھی نظروں میں سیدھا نشانہ لے کے چلتے ہیں ہماری میزبانی سے نہ گھبرایا کرو لوگو ہم اپنے ساتھ اپنا آب و دانہ لے کے چلتے ہیں ذرا پہچان کر بتلاؤ تو یہ کون ہیں کیا ہیں کہ بادل جن کے سر پر شامیانہ لے کے چلتے ہیں کہ ہم اہل ادب ہم کیا کریں گے ...

مزید پڑھیے

سنجیو صراف کے لیے ایک نظم

عزم شاہینی لیے اک نوجواں سنجیو ہے اب مری اردو کا سچا پاسباں سنجیو ہے ریختہ کے ہو تمہیں استاد غالب آج بھی ہاں مگر اس باغ کا اب باغباں سنجیو ہے جس میں لاکھوں ہیں ستارے شاعری و نثر کے اس نئی اک کہکشاں کا آسماں سنجیو ہے خوب رو ہے خوب سیرت نرم گفتاری بھی ہے با ادب تہذیب کا سیل رواں ...

مزید پڑھیے

دریچے سو گئے شب جاگتی ہے

دریچے سو گئے شب جاگتی ہے میرے کمرے میں کیسی خامشی ہے جدھر دیکھو فسردہ زندگی ہے مجھے لگتا ہے یہ غم کی صدی ہے جو رستوں میں بھٹکتی پھر رہی ہے اسے پہچان فکر زندگی ہے سمندر کا تموج ابر و باراں زمیں کے دل میں پھر بھی تشنگی ہے ہر اک لمحہ ہمارا خون تازہ محبت جونک بن کر چوستی ہے یہ ...

مزید پڑھیے

میں اپنے شہر میں اپنا ہی چہرہ کھو بیٹھا

میں اپنے شہر میں اپنا ہی چہرہ کھو بیٹھا یہ واقعہ جو سنایا تو وہ بھی رو بیٹھا تمہاری آس میں آنکھوں کو میں بھگو بیٹھا کہ دل میں یاس کے کانٹے کئی چبھو بیٹھا متاع حال نہ ماضی کا کوئی سرمایہ ندی میں وقت کی ہر چیز کو ڈبو بیٹھا سنہرے وقت کی تحریریں جن میں تھیں محفوظ میں ان صحیفوں کو ...

مزید پڑھیے

میں محل ریت کے صحرا میں بنانے بیٹھا

میں محل ریت کے صحرا میں بنانے بیٹھا چند الفاظ کو ماضی کے بھلانے بیٹھا حادثے سے ہی ہوا غم کا مداوا میرے فلسفہ صبر کا لوگوں کو پڑھانے بیٹھا تھک کے سائے میں ببولوں کے سکوں جب چاہا اس کا ہر پتہ مجھے کانٹے لگانے بیٹھا جس نے توڑا سبھی ناطوں سبھی رشتوں کو مرے عمر بھر کا وہی اب قرض ...

مزید پڑھیے

زمیں کی آنکھ سے منظر کوئی اتارتے ہیں

زمیں کی آنکھ سے منظر کوئی اتارتے ہیں ہوا کا عکس چلو ریت پر ابھارتے ہیں خود اپنے ہونے کا انکار کر چکے ہیں ہم ہماری زندگی اب دوسرے گزارتے ہیں تمہاری جیت کا تم کو یقین آ جائے سو ہم تمہارے لیے بار بار ہارتے ہیں تلاش ہے ہمیں کچھ گمشدہ بہاروں کی گزر چکے ہیں جو موسم انہیں پکارتے ...

مزید پڑھیے

معجزے کا در کھلا اور اک عصا روشن ہوا

معجزے کا در کھلا اور اک عصا روشن ہوا دور گہرے پانیوں میں راستہ روشن ہوا جانے کتنے سورجوں کا فیض حاصل ہے اسے اس مکمل روشنی سے جو ملا روشن ہوا آنکھ والوں نے چرا لی روشنی ساری تو پھر ایک اندھے کی ہتھیلی پر دیا روشن ہوا ایک وحشت دائرہ در دائرہ پھرتی رہی ایک صحرا سلسلہ در سلسلہ ...

مزید پڑھیے

میں دسترس سے تمہاری نکل بھی سکتا ہوں

میں دسترس سے تمہاری نکل بھی سکتا ہوں یہ سوچ لو کہ میں رستہ بدل بھی سکتا ہوں تمہارے بعد یہ جانا کہ میں جو پتھر تھا تمہارے بعد کسی دم پگھل بھی سکتا ہوں قلم ہے ہاتھ میں کردار بھی مرے بس میں اگر میں چاہوں کہانی بدل بھی سکتا ہوں مری سرشت میں ویسے تو خشک دریا ہے اگر پکار لے صحرا ابل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4760 سے 6203