قومی زبان

آتش مینا نظر آئی حریفانہ مجھے

آتش مینا نظر آئی حریفانہ مجھے اک تغیر کی خبر دیتا ہے پیمانہ مجھے تشنۂ نازک مزاجان کنشت و دیر کا برہمن کہنے بھی دے ایک آدھ افسانہ مجھے کس قدر حیرت اثر نکلی ہے مرگ عندلیب اس سپاس جاں سے گل لگتا ہے بیگانہ مجھے اک خیال زلف جاناں اک ہوائے پیچ پیچ اک نہ اک زنجیر سر رکھتی ہے دیوانہ ...

مزید پڑھیے

ناوک تازہ دل پر مارا جنگ پرانی جاری کی

ناوک تازہ دل پر مارا جنگ پرانی جاری کی آج ہوا نے زخم کہن میں ڈوب کے تازہ کاری کی جس کیاری میں پھول کھلے تھے ناگ پھنی سی لگتی ہے موسم گل نے جاتے جاتے دیکھا کیا دشواری کی ایک طرف روئے جاناں تھا جلتی آنکھ میں ایک طرف سیاروں کی راکھ میں ملتی رات تھی اک بے داری کی کوئے بیاں کی ویرانی ...

مزید پڑھیے

فراق سے بھی گئے ہم وصال سے بھی گئے

فراق سے بھی گئے ہم وصال سے بھی گئے سبک ہوئے ہیں تو عیش ملال سے بھی گئے جو بت کدے میں تھے وہ صاحبان کشف و کمال حرم میں آئے تو کشف و کمال سے بھی گئے اسی نگاہ کی نرمی سے ڈگمگائے قدم اسی نگاہ کے تیور سنبھال سے بھی گئے غم حیات و غم دوست کی کشاکش میں ہم ایسے لوگ تو رنج و ملال سے بھی ...

مزید پڑھیے

نہ فاصلے کوئی نکلے نہ قربتیں نکلیں

نہ فاصلے کوئی نکلے نہ قربتیں نکلیں وفا کے نام سے کیا کیا سیاستیں نکلیں کھلی ہے وحشت عالم پہ آج کاکل یار کچھ اور دور خرد تیری نسبتیں نکلیں ہزار ہاتھوں کے پیمان نو کا مرکز ہے ہوا کے ہاتھ میں نادید طاقتیں نکلیں سپاہ عشق جہاں خندقوں میں جلتی تھی وہ موڑ کاٹ کے آخر محبتیں ...

مزید پڑھیے

جی ہے بہت اداس طبیعت حزیں بہت

جی ہے بہت اداس طبیعت حزیں بہت ساقی کو پیالۂ مے آتشیں بہت دو گز زمیں فریب وطن کے لیے ملی ویسے تو آسماں بھی بہت ہیں زمیں بہت ایسی بھی اس ہوا میں ہے اک کافری کی رو بجھ بجھ گئے ہیں شعلۂ ایمان و دیں بہت بے باکیوں میں فرد بہت تھی وہ چشم ناز دل کی حریف ہو کے اٹھی شرمگیں بہت پیکار خیر و ...

مزید پڑھیے

ہرے درخت کا شاخوں سے رشتہ ٹوٹ گیا

ہرے درخت کا شاخوں سے رشتہ ٹوٹ گیا ہوا چلی تو گلابوں سے رشتہ ٹوٹ گیا کہاں ہیں اب وہ مہکتے ہوئے حسیں منظر کھلی جو آنکھ تو خوابوں سے رشتہ ٹوٹ گیا ذرا سی دیر میں بیمار غم ہوا رخصت پلک جھپکتے ہی لوگوں سے رشتہ ٹوٹ گیا گلاب تتلی دھنک روشنی کرن جگنو ہر ایک شے کا نگاہوں سے رشتہ ٹوٹ ...

مزید پڑھیے

سچ بولنا چاہیں بھی تو بولا نہیں جاتا

سچ بولنا چاہیں بھی تو بولا نہیں جاتا جھوٹوں کے لئے شہر بھی چھوڑا نہیں جاتا تم کتنا ہی عہدوں سے نوازو ہمیں لیکن نفرت کا شجر ہم سے تو بویا نہیں جاتا سوچو تو جوانی کبھی واپس نہیں آتی دیکھو تو کبھی آ کے بڑھاپا نہیں جاتا دل پر تو بہت زخم زمانے کے لگے ہیں خود داری سے لیکن کبھی رویا ...

مزید پڑھیے

ہمارے چہرے پہ رنج و ملال ایسا تھا

ہمارے چہرے پہ رنج و ملال ایسا تھا مسرتوں کا زمانے میں کال ایسا تھا فضائے شہر میں بارود کی تھی بو شامل کہ سانس لینا بھی ہم کو محال ایسا تھا امیر شہر کے ہونٹوں پہ پڑ گئے تالے غریب شہر کا چبھتا سوال ایسا تھا بہ وقت شام سمندر میں گر گیا سورج تمام دن کی تھکن سے نڈھال ایسا تھا تمام ...

مزید پڑھیے

مری دنیا اکیلی ہو رہی ہے

مری دنیا اکیلی ہو رہی ہے تمنا گھر میں تنہا سو رہی ہے صدائیں گھٹ گئیں سینے کے اندر خموشی اپنی پتھر ہو رہی ہے تمناؤں کے سینے پر رکھے سر اداسی بال کھولے سو رہی ہے سنا ہے اپنا چہرہ زندگانی مسلسل آنسوؤں سے دھو رہی ہے یہاں سے اور وہاں تک نا امیدی ہمارے دل کا عنواں ہو رہی ہے

مزید پڑھیے

اس کو کوئی غم نہیں ہے جس کا گھر پتھر کا ہے

اس کو کوئی غم نہیں ہے جس کا گھر پتھر کا ہے کیا کرے گا تیز طوفاں بام و در پتھر کا ہے ایسے انساں سے کبھی امید کیا رکھے کوئی دیکھنے میں آدمی ہے دل مگر پتھر کا ہے کون سا ہے شہر جس میں میں بھٹک کر آ گیا راستے پتھر کے ہیں اور بام و در پتھر کا ہے آ گئے ہیں آگ کی زد میں ہزاروں جھونپڑے مجھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4757 سے 6203