خود سے اب مجھ کو جدا یوں ہی مری جاں رکھنا
خود سے اب مجھ کو جدا یوں ہی مری جاں رکھنا ہر گھڑی خواب کو تم خواب پریشاں رکھنا اب عبادت کی یہی ایک ہے صورت باقی آنکھ کو بند کیے ہونٹ ثنا خواں رکھنا خواب کو ذہن کہاں ہے نہ یہاں ہے نہ وہاں دل کے آنگن میں کہیں گور غریباں رکھنا برہنہ رہنے کی توفیق کہاں سے لائے خود کو آیا ہی نہیں بے ...