قومی زبان

خود سے اب مجھ کو جدا یوں ہی مری جاں رکھنا

خود سے اب مجھ کو جدا یوں ہی مری جاں رکھنا ہر گھڑی خواب کو تم خواب پریشاں رکھنا اب عبادت کی یہی ایک ہے صورت باقی آنکھ کو بند کیے ہونٹ ثنا خواں رکھنا خواب کو ذہن کہاں ہے نہ یہاں ہے نہ وہاں دل کے آنگن میں کہیں گور غریباں رکھنا برہنہ رہنے کی توفیق کہاں سے لائے خود کو آیا ہی نہیں بے ...

مزید پڑھیے

ہمیں اب خواب میں جینا پڑے گا

ہمیں اب خواب میں جینا پڑے گا یہ سودا تو بہت مہنگا پڑے گا بدلنا چاہتے ہو رخ ہوا کا ہوا کے ساتھ بھی چلنا پڑے گا ابھی سے کیا بتائیں دیکھ لینا کسی دیوار کا جھگڑا پڑے گا گھروں کو اوڑھ لینے سے بھلا کیا گھروں سے دور بھی رہنا پڑے گا قدم جب لڑکھڑائیں گے تمہارے وہی رستہ تمہیں سیدھا پڑے ...

مزید پڑھیے

مجھے تم نیند سے بیدار کرنا

مجھے تم نیند سے بیدار کرنا سمندر ہے مجھے اک پار کرنا لبوں پر برف جمتی جا رہی ہے دلوں کو اب لہو گفتار کرنا اٹھانا ریت کی دیوار دن بھر اسے پھر شام کو مسمار کرنا مناظر چھین لینا روشنی کے اندھیرے کو کبھی انوار کرنا ہے جس کا اصل ہی آنکھوں سے اوجھل اسے کیا دیکھنا دیوار کرنا ابھی ...

مزید پڑھیے

کھڑکیاں کھول کے کیسی یہ صدائیں آئیں

کھڑکیاں کھول کے کیسی یہ صدائیں آئیں یاد یہ کس کی دلانے کو صدائیں آئیں ذہن کی دھند نے عمروں کو سوالی رکھا دھند کے پردے سے کتنی ہی شعاعیں آئیں توڑ کر کون سی زنجیر یہ مجرم آئے جرم تھا کون سا ان کا جو سزائیں آئیں میں تجھے بھول کے دنیا سے لپٹ جاتا ہوں ایسا کرنے سے نہ جینے کی ادائیں ...

مزید پڑھیے

عکس ہے کس کا کس کی صدا ہے

عکس ہے کس کا کس کی صدا ہے پتا پتا محو دعا ہے کتنے روشن سوچ کے لمحے ایک پرندہ نغمہ سرا ہے جی میں ہے اب اس سے کہہ دوں چاند ہمارا ڈوب چکا ہے اپنی کہنا اپنی سننا غنچہ انا کا کھلنے لگا ہے میرے حق میں کچھ تو لکھو عدل ترازو ڈول رہا ہے اک دوانہ شیر میں پنہاں درد پرایا بانٹ رہا ہے

مزید پڑھیے

تیاگ کے پتھر

دریا کے بیچ کھڑا تیاگ اور موکش کے خواب دیکھ رہا ہوں تارک الدنیا علائق سے محفوظ علائق سے آزاد لہریں جب پاؤں چھوتی ہیں یاد آتا ہے برگد کا گھنا پیڑ موسموں کی گردش بے سمت ہواؤں کے سرد گرم تھپیڑے دھیان لوٹ آتا ہے گھر کے برگد کی محافظ چھاؤں کی جانب سنہری دھوپ کی سبز اوٹ مکتی کے دوار مجھ ...

مزید پڑھیے

تمہارے نام لکھتا ہوں

سنہری دھوپ کا منظر گئے موسم کی شادابی شفق کی ریشمی گرہیں چاند کے پہلو میں لپٹی سبز شاخیں کسی ٹوٹے ہوئے تارے کی دھندلی سی لکیریں نقش جن کے ریت پر بہتے رہے برسوں سفر کی دائمی خوشبو میں جس کی آرزو لے کر تمہارے پاس آیا تھا کتاب دل کی وہ دھڑکن تمہارے نام لکھتا ہوں پروں پر تتلیوں کے ...

مزید پڑھیے

تو بھی وفا کے روپ میں اب ڈھل کے دیکھ لے

تو بھی وفا کے روپ میں اب ڈھل کے دیکھ لے اس آگ میں ہماری طرح جل کے دیکھ لے دشت طلب میں پیار کے غنچے بھی کھل اٹھیں کچھ روز میرے ساتھ کبھی چل کے دیکھ لے ممکن ہے کوئی صبح تمنا ہو اس کے بعد اے حسرتوں کی رات ذرا ڈھل کے دیکھ لے کچھ گرد باد غم کے امیدوں کے کچھ سراب منظر ہمارے دل میں کوئی ...

مزید پڑھیے

اب کون سی متاع سفر دل کے پاس ہے

اب کون سی متاع سفر دل کے پاس ہے اک روشنئ صبح تھی وہ بھی اداس ہے اک ایک کرکے فاش ہوئے جا رہے ہیں راز شاید یہ کائنات قرین قیاس ہے سمجھا گئی یہ تلخئ پیہم فراق کی اک مژدۂ وصال میں کتنی مٹھاس ہے ہر چیز آ رہی ہے نظر اپنے روپ میں اترا ہوا فریب نظر کا لباس ہے اک گردش دوام میں روز ازل سے ...

مزید پڑھیے

بڑھنے دے ابھی کش مکش تار نفس اور

بڑھنے دے ابھی کش مکش تار نفس اور اے گوش بر آواز ذرا دیر ترس اور ہم مائل پرواز رہے جتنی لگن سے اٹھتی ہی گئی اتنی ہی دیوار قفس اور یہ آتش شوق اور یہ دو چار پھواریں اے ابر سیہ مست ذرا کھل کے برس اور اک قافلۂ زیست بچھڑ جائے تو کیا غم آتی ہے بہت دور سے آواز جرس اور فردا میں بہاروں کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4744 سے 6203