قومی زبان

جس کو چلنا ہے چلے رخت سفر باندھے ہوئے

جس کو چلنا ہے چلے رخت سفر باندھے ہوئے ہم جہاں گشت ہیں اٹھے ہیں کمر باندھے ہوئے یوں تو ہر گام کئی دام ہیں دشت شب میں ہم بھی آئے ہیں پر و بال سحر باندھے ہوئے سوئے افلاک سفیران دعا جائے ہیں ڈر ہے لوٹ آئیں نہ زنجیر اثر باندھے ہوئے اہل زنداں ہیں ابھی منتظر فصل بہار شاخ فردا سے خیال ...

مزید پڑھیے

ہر ایک رنگ میں یوں ڈوب کر نکھرتے رہے

ہر ایک رنگ میں یوں ڈوب کر نکھرتے رہے خطوط نقش مصور میں رنگ بھرتے رہے خدا بچائے بگولوں کی زد میں آئے ہیں وہ برگ سبز جو موج ہوا سے ڈرتے رہے انہیں کے پاؤں سے لپٹی ہوئی ہے موج حیات جو بے کنار سمندر کے پار اترتے رہے کہاں تھی جرأت نظارۂ جمال سحر اگرچہ گیسوئے شب رات بھر سنورتے ...

مزید پڑھیے

تسمۂ پا

کب سے یہ بار گراں اپنے کاندھوں پہ اٹھائے ہوئے تنہا تنہا گشت کرتا ہوں میں حیراں حیراں میں نے ہر چند چھڑانا چاہا اور مضبوط ہوئی اس کی گلو گیر گرفت اور سنگین ہوا جسم جواں پر پہرہ سامنے فاصلۂ لامتناہی دل میں سیکڑوں من چلے ارمانوں کے رنگین چراغ جن کی خوشبو سے معطر ہے دماغ جن سے ممکن ...

مزید پڑھیے

سفر مدام سفر

زمانے کے کوہ گراں کی سرنگوں میں جلتی ہوئی مشعلیں لے کے شام و سحر ڈھونڈھتا ہوں کہ کوئی کرن کوئی روزن کوئی موج باد تازہ جو مل جائے میں ماورائے نظر کی جھلک پا سکوں اس بھیانک اندھیرے میں گھٹتے ہوئے جی کو بہلا سکوں میں جب پہلی بار ان سرنگوں میں داخل ہوا تھا مجھے کیا خبر تھی یہاں سے ...

مزید پڑھیے

مجسمہ

میں ایک پتھر میں ایک بے جان سرد پتھر جمود بے گانگی کا مظہر ازل سے حد نظر کو تکتی ہوئی نگاہیں خلا میں لٹکی ہوئی یہ باہیں زمیں مجھے ساتھ لے کے دشوار منزلیں لاکھوں گھوم آئی کروڑوں راہوں کو چوم آئی فلک کے ساحر نے کتنے افسون مجھ پہ پھونکے مرے پس و پیش ٹمٹماتے دیے جلائے دھوئیں کے گہرے ...

مزید پڑھیے

ایک خاموش صدا ہو جاؤں

ایک خاموش صدا ہو جاؤں سب کے دل کی میں دعا ہو جاؤں کوئی جگنو نہ ستارہ مجھ میں پھر بھی چاہوں کہ ضیا ہو جاؤں پہلے دیکھوں میں تجھے حیرت سے اور پھر تیری ادا ہو جاؤں مجھ پہ نازل ہو کبھی وہ لمحہ لفظ بن کر میں ادا ہو جاؤں تیرے ملنے کی تمنا کیسی ایک دن تیری قبا ہو جاؤں آج تکمیل مری لازم ...

مزید پڑھیے

سوچ کی پرچھائیاں ہیں اور میں

سوچ کی پرچھائیاں ہیں اور میں تجربوں کی سیپیاں ہیں اور میں شہر ہے خاموش جیسے ہو کھنڈر دھوپ میں جلتے مکاں ہیں اور میں تیز آندھی چیرتی جائے بدن دھند میں لپٹے جہاں ہیں اور میں خون میں لتھڑے سروں کے درمیاں دار کی خاموشیاں ہیں اور میں پھول سی چڑیا زمیں پر کیا گری ذہن میں رقصاں ...

مزید پڑھیے

میں سوچتا ہوں سبق میں نے وہ پڑھا ہی نہیں

میں سوچتا ہوں سبق میں نے وہ پڑھا ہی نہیں مرے جنوں کی حکایت میں جو لکھا ہی نہیں میں سوچتا ہوں زلیخا کی کچھ خبر آئے مرے سوا کہیں یوسف کا کچھ پتا ہی نہیں میں سوچتا ہو کہ اپنے خدا سے کہہ ڈالوں وہ سب جو میں نے کبھی آج تک کہا ہی نہیں میں سوچتا ہوں کہ سب تو تھے گوش بر آواز وہی تھا ایک کہ ...

مزید پڑھیے

ایسا کچھ مجھ کو پڑھا پھر مجھے پڑھنا نہ پڑے

ایسا کچھ مجھ کو پڑھا پھر مجھے پڑھنا نہ پڑے مجھ سے کچھ ایسا کرا کچھ کبھی کرنا نہ پڑے پاؤں رکھوں میں جہاں بھی وہ زمیں ہو میری اجنبی راہوں پہ یا رب مجھے چلنا نہ پڑے لوگ مر جاتے ہیں جینے کی تمنا لے کر زندہ رہنے کی جو خواہش ہو تو مرنا نہ پڑے چاند ہو اور نہ زمیں ہو نہ ستارے نہ فلک مجھ ...

مزید پڑھیے

صبح آتی ہے تو اخبار سے لگ جاتے ہیں

صبح آتی ہے تو اخبار سے لگ جاتے ہیں شام جو ڈھلتی ہے بازار سے لگ جاتے ہیں عشق میں اور بھلا اس کے سوا کیا ہوگا در سے اٹھتے ہیں تو دیوار سے لگ جاتے ہیں جب گھڑی آتی ہے انصاف کی دھیرے دھیرے جرم آ کر سبھی حق دار سے لگ جاتے ہیں ہجر میں تیرے تو اک چپ سی لگی رہتی ہے وصل میں باتوں کے انبار سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4743 سے 6203