قومی زبان

اٹھا کے میرے ذہن سے شباب کوئی لے گیا

اٹھا کے میرے ذہن سے شباب کوئی لے گیا اندھیرے چیختے ہیں آفتاب کوئی لے گیا میں سارے کاغذات لے کے دیکھتا ہی رہ گیا ثواب کوئی لے گیا عذاب کوئی لے گیا سپرد کر کے خامشی کی مہر خوش نما مجھے لبوں سے نعرہ ہائے انقلاب کوئی لے گیا ہے اعتراف میرے ہاتھ میں جو ایک چیز تھی سنبھال کر رکھا تو ...

مزید پڑھیے

دنیا کے لئے زہر نہ کھالیں کوئی ہم بھی

دنیا کے لئے زہر نہ کھالیں کوئی ہم بھی اس بات پہ پھر شرط لگا لیں کوئی ہم بھی بہتی ہوئی گنگا ترے پانی میں نہا کر اپنے لیے نیکی نہ کما لیں کوئی ہم بھی لگتا ہے یہی ویسے گزارہ نہیں ہوگا جھوٹی ہی سہی بات بنا لیں کوئی ہم بھی ہر سال منائے گی بڑی دھوم سے دنیا اس عشق کو تہوار بنا لیں کوئی ...

مزید پڑھیے

کرنے کے سارے کام تسلی سے کیجئے

کرنے کے سارے کام تسلی سے کیجئے آغاز دن کا رات کی مرضی سے کیجئے لگتا ہے اچھا وقت پہ اپنے ہر ایک کام تاخیر جتنی کرنی ہے جلدی سے کیجئے لہروں کا جھگڑا جائے گا دونوں کناروں تک دریا کی ساری باتیں نہ کشتی سے کیجئے دیتی ہے کیوں سبھی کو کسی ایک کی سزا کچھ تو مذاکرات اس آندھی سے ...

مزید پڑھیے

کماں نہ تیر نہ تلوار اپنی ہوتی ہے

کماں نہ تیر نہ تلوار اپنی ہوتی ہے مگر یہ دنیا کہ ہر بار اپنی ہوتی ہے یہی سکھایا ہے ہم کو ہمارے لوگوں نے جو جنگ جیتے وہ تلوار اپنی ہوتی ہے زبان چڑیوں کی دنیا سمجھ نہیں سکتی قبول و رد کی یہ تکرار اپنی ہوتی ہے نہ ہاتھ سوکھ کے جھڑتے ہیں جسم سے اپنے نہ شاخ کوئی ثمر بار اپنی ہوتی ...

مزید پڑھیے

لگا کر دیر جلدی کرنی ہوتی ہے

لگا کر دیر جلدی کرنی ہوتی ہے سڑک نے اپنی مرضی کرنی ہوتی ہے ضروری ہے کہ موت اپنی مریں سارے کسی نے خودکشی بھی کرنی ہوتی ہے یقیں قسمت پہ کرتے ہیں مگر پھر بھی ہمیں اپنی تسلی کرنی ہوتی ہے کسی کی بے گھری سے ان کو مطلب کیا انہیں تو گاڑی خالی کرنی ہوتی ہے لگا کر پاس سے باتیں بھی لوگوں ...

مزید پڑھیے

ہار کو جیت کے امکان سے باندھے ہوئے رکھ

ہار کو جیت کے امکان سے باندھے ہوئے رکھ اپنی مشکل کسی آسان سے باندھے ہوئے رکھ تجھ کو معلوم سے آگے کہیں جانا ہے تو پھر خواب کو دیدۂ حیران سے باندھے ہوئے رکھ ورنہ مشکل بڑی ہوگی یہاں دنیا داری دیکھ انسان کو انسان سے باندھے ہوئے رکھ جو بھلانے پہ کبھی بھول نہیں پاتا ہے مجھ کو اپنے ...

مزید پڑھیے

کسی کے نام پہ ننھے دیے جلاتے ہوئے

کسی کے نام پہ ننھے دیے جلاتے ہوئے خدا کو بھول گئے نیکیاں کماتے ہوئے وگرنہ بات ہماری سمجھ سے باہر تھی یہ عشق ہو گیا بس روٹھتے مناتے ہوئے ہماری واپسی آساں نہیں یقیں مانو یہاں تک آئے ہیں ہم کشتیاں جلاتے ہوئے انہیں عزیز ہے جینا جو جی رہے ہیں یہاں مذاق بن کے خود اپنا مذاق اڑاتے ...

مزید پڑھیے

بے یقینی کا تعلق بھی یقیں سے نکلا

بے یقینی کا تعلق بھی یقیں سے نکلا میرا رشتہ وہی آخر کو زمیں سے نکلا مجھ کو پہچان تو اے وقت میں وہ ہوں جو فقط ایک غلطی کے لئے عرش بریں سے نکلا ایک مرے آنکھ جھپکنے کی ذرا دیر تھی بس وہ قریب آتا ہوا دور کہیں سے نکلا ایڑیاں مار کے زخمی بھی ہوئے لوگ مگر کوئی چشمہ نہیں زرخیز زمیں سے ...

مزید پڑھیے

مانگنا خواہش دیدار سے آگے کیا ہے

مانگنا خواہش دیدار سے آگے کیا ہے کبھی دیکھا نہیں دیوار سے آگے کیا ہے رات بھر خوف سے جاگی ہوئی بستی کے مکیں تو بتا آخری کردار سے آگے کیا ہے کس لئے اس سے نکلنے کی دعائیں مانگوں مجھ کو معلوم ہے منجدھار سے آگے کیا ہے کچھ بتاؤ تو سہی سولی پہ لٹکے ہوئے شخص آخر اس عشق کی بیگار سے آگے ...

مزید پڑھیے

وقت جب راہ کی دیوار ہوا

وقت جب راہ کی دیوار ہوا کوئی سیلاب نمودار ہوا اس نے پیڑوں سے ہٹا لیں شاخیں باغ میں سے تو کئی بار ہوا میں نے جو دل میں چھپانا چاہا میرے چہرے سے نمودار ہوا ساحلی شام کا پھیلا منظر کچھ لکیروں میں گرفتار ہوا رات اک شخص بہت یاد آیا جس گھڑی چاند نمودار ہوا

مزید پڑھیے
صفحہ 4745 سے 6203