قومی زبان

مراجعت

دہکتے سورج کا سرخ چہرہ لپیٹ کر رکھ دیا گیا ہے خلا میں سیارے بکھرے بکھرے ہیں جوف افلاک پھٹ پڑا ہے پہاڑ دھنکے ہوئے فضاؤں میں تیرتے ہیں اتھاہ ساگر کف دہن سے سلگتے لاوے اگل رہے ہیں کوئی مرے منتشر عناصر کو پھر سے پہلا سا روپ دے کر کشاں کشاں لے چلا ہے گویا جھلس رہا ہے بدن مری ہڈیاں ...

مزید پڑھیے

میری آہٹ

میری آہٹ گونج رہی ہے دنیا کی ہر راہ گزر میں اوشا میرے نقش قدم پر خوشبو کی پچکاری لے کر رنگ چھڑکتی جاتی ہے سورج کے البیلے مغنی جنبش پا کے سرگم پر سنگیت سناتے جاتے ہیں سجی سجائی شام کی دلہن شب کی سیہ اندام ابھاگن میرے من کی نازک دھڑکن ایک ہی تال پہ لہراتی ہیں چنچل لہریں سرکش ...

مزید پڑھیے

ہیولیٰ

مہ و سال کے تانے بانے کو زریں شعاعوں کی گل کاریاں میری نظروں نے بخشی ہیں آفاق کے خد و خال بہار آفریں میں مرے خوں کی سوغات شامل ہے ہر وسعت بے کراں میں مری دھڑکنیں گونجتی ہیں ہر اک لمحہ کوئی نہ کوئی بگولہ اٹھا اور مرے نقش پا کو مٹانے کی دھن میں چلا لیکن آواز پا کی گرجتی گھٹاؤں ...

مزید پڑھیے

پرچھائیاں

ذروں کے دہکتے ایواں میں دو شعلہ بجاں لرزاں سائے مصروف نزاع باہم ہیں اڑ اڑ کے غبار راہ عدم ایواں کے بند دریچوں سے ٹکرا کے بکھرتے جاتے ہیں کہرے میں پنپتی سمتوں سے نازاد ہواؤں کے جھونکے نادیدہ آہنی پردوں پر رہ رہ کے جھپٹتے رہتے ہیں اک پل دو پل کی بات نہیں ذروں کے محل کی بات نہیں ہر ...

مزید پڑھیے

صفر

گہری نیند میں سارے عناصر بکھر گئے بچی کھچی پونجی کو سوا نیزے کا سورج چاٹ گیا مجھ سے حساب طلب کرتے ہو میں تو ایک عظیم صفر ہوں

مزید پڑھیے

کون ہے قوم کا معمار چلو دیکھیں گے

کون ہے قوم کا معمار چلو دیکھیں گے کس میں ہے جذبۂ ایثار چلو دیکھیں گے جن کے سائے میں بڑا دل کو سکوں ملتا تھا کیا سلامت ہیں وہ اشجار چلو دیکھیں گے وقت کی دھند میں ممکن ہے بچھڑ جائے گا آدمی جو ہے ملنسار چلو دیکھیں گے قدرداں اس کے ہنر کے ہیں ہزاروں پھر بھی کیوں پریشان ہے فنکار چلو ...

مزید پڑھیے

پیار ہے تو گلہ ضروری ہے

پیار ہے تو گلہ ضروری ہے تلخ و شیریں مزہ ضروری ہے بے اصولی میں اطمینان کہاں زیست میں ضابطہ ضروری ہے حل مسائل کا ڈھونڈنے کے لئے باہمی مشورہ ضروری ہے دوسروں کو سمجھنے سے پہلے خود کو ہی جاننا ضروری ہے شر سے بچنے کے واسطے یارو خیر کا راستہ ضروری ہے لوگ ملتے ہیں سب محبت سے دوستی ...

مزید پڑھیے

بے وفا پائے گئے حسن کے پیکر کتنے

بے وفا پائے گئے حسن کے پیکر کتنے پھر بھی وابستہ رہے ان سے مقدر کتنے اٹھ گئے محفل دنیا سے سخنور کتنے ان میں گزرے ہیں صداقت کے پیمبر کتنے آج بن بیٹھے ہیں بت خانوں کی عظمت کے نشاں میرے ہاتھوں کے تراشے ہوئے پتھر کتنے غیر ممکن نہیں تسخیر زمانہ لیکن آپ کے پاس ہیں اخلاق کے زیور ...

مزید پڑھیے

کون کہتا ہے خار ہیں ہم لوگ

کون کہتا ہے خار ہیں ہم لوگ گلستاں کی بہار ہیں ہم لوگ خاکساری ہمارا شیوہ ہے اصل میں تاجدار ہیں ہم لوگ ہم کو ہتھیار کی ضرورت کیا جب محبت شعار ہیں ہم لوگ تخت والے تو ہو گئے معزول برسر اقتدار ہیں ہم لوگ سائلوں کی دعائیں لیتے ہیں کس قدر مال دار ہیں ہم لوگ حال و ماضی ہمارے ہیں ...

مزید پڑھیے

مرے وجود کا محور چمکتا رہتا ہے

مرے وجود کا محور چمکتا رہتا ہے اسی سند سے مقدر چمکتا رہتا ہے کسی مزار پہ چھائی ہے خاک مفلس کی کسی مزار کا پتھر چمکتا رہتا ہے یہ کیسی رسم ہلاکت بھی پا گئی ہے رواج یہ کیسے خون کا منظر چمکتا رہتا ہے مری نگاہ کو منزل کی روشنی ہے عزیز بلا سے میل کا پتھر چمکتا رہتا ہے جو اٹھ کے خاک سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4741 سے 6203