مراجعت
دہکتے سورج کا سرخ چہرہ لپیٹ کر رکھ دیا گیا ہے خلا میں سیارے بکھرے بکھرے ہیں جوف افلاک پھٹ پڑا ہے پہاڑ دھنکے ہوئے فضاؤں میں تیرتے ہیں اتھاہ ساگر کف دہن سے سلگتے لاوے اگل رہے ہیں کوئی مرے منتشر عناصر کو پھر سے پہلا سا روپ دے کر کشاں کشاں لے چلا ہے گویا جھلس رہا ہے بدن مری ہڈیاں ...