قومی زبان

تسبیح قمری سرو صنوبر سمیٹ لو

تسبیح قمری سرو صنوبر سمیٹ لو جانا ہے اس دیار سے منظر سمیٹ لو پرواز کامیابی کی بس اتنی شرط ہے چاہت حصار نفس کے اندر سمیٹ لو اس اشک کی تڑپ کے مقابل میں کچھ نہیں اب چاہے چشم نم میں سمندر سمیٹ لو طاقت پہ پہلے اپنی تو راضی خدا کرو پھر بازوؤں میں تم در خیبر سمیٹ لو میرا مکاں نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

یہ کم نہیں کے وہی شام کا ستارہ ہے

یہ کم نہیں کے وہی شام کا ستارہ ہے جسے فضیلت تنہائی نے ابھارا ہے کہیں سراغ نہیں ہے کسی بھی قاتل کا لہولہان مگر شہر کا نظارہ ہے میں جا رہا ہوں مکمل وجود پانے کو مجھے بھی صورت امکاں نے اب پکارا ہے وہ ہنس کے ہر شب‌ ظلمات کاٹ دیتے ہیں وہ جن کے سینے میں افلاک کا سپارا ہے چراغ جلتا ...

مزید پڑھیے

خوابوں کا انتخاب بدلتا دکھائی دے

خوابوں کا انتخاب بدلتا دکھائی دے کاش اب کہ اختیار سنورتا دکھائی دے صیاد کے ہنر کی ستائش نہیں ہو اب جس کو ہے پر نصیب وہ اڑتا دکھائی دے اتنی نہ انتشار کی حدت ہو روبرو انساں غم حیات میں جلتا دکھائی دے کیا وہ حساب درس میں رکھے گا کائنات جس کا یہاں وجود شکستہ دکھائی دے

مزید پڑھیے

شہر کو آتش رنجش کے دھواں تک دیکھوں

شہر کو آتش رنجش کے دھواں تک دیکھوں مقتل زیست کو آخر میں کہاں تک دیکھوں پھر یہ مانوں گا خموشی پہ زوال آیا ہے دل دھڑکنے کی صدا جب میں زباں تک دیکھوں یہ تمنا ہے خدا عالم ہستی میں ترے میں عیاں دیکھنا چاہوں تو نہاں تک دیکھوں جب کہ اب رابطہ رکھنے کا بہت ہے امکاں پھر بھی ویرانیاں ...

مزید پڑھیے

مسافر

وہ اچانک چل دیا گویا سفر تھا مختصر زندگی بھر جو سفر کرتا رہا چلتا رہا چھاؤں میں افلاک کی پلتا رہا ڈھلتا رہا پاس جو پونجی اجالوں کی تھی سب کچھ بانٹ کر راہ کے بے مایہ ذروں کو بنا کر آفتاب خود سے لا پروا زمانے کی نظر سے بے نیاز زہد سے فطری لگاؤ دل میں توقیر حجاز جانے کیوں اس کو ...

مزید پڑھیے

چاندنی رات میں

اور میں چاندنی رات میں سو گیا دیکھتا کیا ہوں پھیلی ہوئی چاندنی کے کنارے کنارے کئی برق رفتار پرچھائیاں جانے کب سے تعاقب کناں سمت نا آشنا کی طرف ہیں رواں اور میں آہستہ آہستہ آگے بڑھا راہگیروں سے دامن بچاتا ہوا حد آفاق سے جب گزرنے لگا دیکھتا کیا ہوں اک بے کراں بحر ہے آسماں سے زمیں ...

مزید پڑھیے

ہر آئینہ اک عکس نو ڈھونڈتا ہے

ہر آئینہ اک عکس نو ڈھونڈتا ہے سمندر کی لہریں ہوں یا دشت کی ان گنت پتیاں سب یہی سوچتی ہیں کہ کوئی نئی روح ان میں سما جائے اڑتے ہوئے ابر پارے مسلسل طلوع سحر سے نمود شفق تک کوئی سمت نو ڈھونڈتے ہیں افق تا افق چاندنی رات کے دامن بے کراں میں نئی ساعتوں کے نشاں ڈھونڈھتی ہے تلاش مسلسل کی ...

مزید پڑھیے

کہانی

بڑی لمبی کہانی ہے سنو گے؟ سحر کی آنکھ کھلنے بھی نہ پائی تھی مرے ترکش نے لاکھوں تیر برسائے شعاعوں کے کسی نے آفتابانہ ہر اک ذرے کو چمکایا کسی نے ماہتابی چادریں ہر سمت پھیلائیں کوئی جگنو کی صورت جھلملایا انہیں بکھرے ہوئے تیروں کے زیر سایہ میں چلتا رہا ہر موڑ پہ کوئی نہ کوئی ...

مزید پڑھیے

قصۂ درد

چاند نے مسکرا کر کہا دوستو قصۂ درد چھیڑے سر راہ کون پھر بھی تارے مصر تھے کہ ہم آج کی شب سنیں گے وہی ان سنی داستاں دیر تک چاند سوچا کیا دور آفاق کی سمت دیکھا کیا اور تاروں کی آنکھیں چھلکتی رہیں رات کے دامن تر کو آہستہ آہستہ لمحوں کا ٹھنڈا لہو جذب ہو ہو کے رنگین کرتا رہا ناگہاں ایک ...

مزید پڑھیے

یاد

شب کی چادر اوڑھ کر آئی ہے لمحوں کی مہکتی دھول میں لپٹی ہوئی میری جانب دھیرے دھیرے بڑھ رہی ہے اور میں اپنے بستر خاشاک و خس پر نیم وا آنکھوں سے دھندلی روشنی کو دیر سے تکتا ہوا دم بخود ہوں جھلملاتی سوچ میں کھویا ہوا وہ قریب آتی ہے میری سانس میں شعلے جگاتی ہے مری دھڑکن کی لے کو کر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4740 سے 6203