کرتے رہے تعاقب ایام عمر بھر
کرتے رہے تعاقب ایام عمر بھر اڑتا رہا غبار بہر گام عمر بھر حسرت سے دیکھتے رہے ہر خوش خرام کو ہم صورت طیور تہ دام عمر بھر ہر چند تلخ کام تھا ہر جرعۂ حیات منہ سے لگائے بیٹھے رہے جام عمر بھر ہر شاخ نو بہار تھی آلودۂ غبار ڈھونڈا کئے نشیمن آرام عمر بھر کچھ کام آ سکیں نہ یہاں بے ...