قومی زبان

بہت جلدی تھی گھر جانے کی لیکن (ردیف .. ے)

بہت جلدی تھی گھر جانے کی لیکن مجھے پھر شام رستے میں پڑی ہے نصاب زندگی جس میں لکھا ہے کتاب دل وہ بستے میں پڑی ہے نہیں ارزاں متاع رائیگانی مگر مجھ کو یہ سستے میں پڑی ہے وہ ایسے ڈھونڈنے نکلے ہیں باقیؔ محبت جیسے رستے میں پڑی ہے

مزید پڑھیے

تو نہیں تو تیرا درد جاں فزا مل جائے گا

تو نہیں تو تیرا درد جاں فزا مل جائے گا زندہ رہنے کا کوئی تو آسرا مل جائے گا اے مری چشم پشیماں اپنے آنسو روک لے رات کی تنہائی میں رونے سے کیا مل جائے گا زندگی کے کارواں پر کچھ اثر پڑتا نہیں اک مسافر کھو گیا تو دوسرا مل جائے گا ساری بستی میں فقط میرا ہی گھر ہے بے چراغ تیرگی سے آپ ...

مزید پڑھیے

یکساں لگیں ہیں ان کو تو دیر و حرم بہم

یکساں لگیں ہیں ان کو تو دیر و حرم بہم جو پوجتے ہیں دل میں خدا و صنم بہم دیکھا تو ایک شعلے سے اے شیخ و برہمن روشن ہیں شمع دیر و چراغ حرم بہم باریک ہیں دہن سے ترے وقت خندہ یار کرتے ہیں دید ہستی و سیر عدم بہم ناصح نہ ہم تری نہ ہماری سنے گا تو کیا فائدہ جو بحث کریں دو اصم بہم خر ...

مزید پڑھیے

اتنا ہے زندگی کا تعلق خوشی کے ساتھ

اتنا ہے زندگی کا تعلق خوشی کے ساتھ ایک اجنبی ہو جیسے کسی اجنبی کے ساتھ سورج افق تک آتے ہی گہنا گیا یہاں کچھ تیرگی بھی بڑھتی رہی روشنی کے ساتھ حکام کا سلوک وہی ہے عوام سے ابن زیاد کا تھا جو ابن علی کے ساتھ اللہ رے تغافل چارہ گران وقت سنتے ہیں دل کی بات مگر بے دلی کے ساتھ طبقوں ...

مزید پڑھیے

درد سمجھے نہ کوئی درد کا درماں سمجھے

درد سمجھے نہ کوئی درد کا درماں سمجھے لوگ وحشت کو علاج غم دوراں سمجھے دل پہ کیا گزری اچانک ترے آ جانے سے اس نزاکت کو بھلا کیا کوئی مہماں سمجھے عرش و کرسی سے پرے رکھتے ہیں جو لانگہہ فکر منظر دہر کو ہم روزن زنداں سمجھے وہ بھڑکتے ہوئے شعلے تھے نشیمن کے مرے دور سے آپ جنہیں سرو ...

مزید پڑھیے

آؤ تقدیر کو تدبیر بنا کر دیکھیں

آؤ تقدیر کو تدبیر بنا کر دیکھیں ان اندھیروں کو اجالوں سے ملا کر دیکھیں آج ظالم کو بھی مجبور بنا کر دیکھیں حشر سے پہلے ہی اک حشر اٹھا کر دیکھیں ان بتوں سے تو کوئی کام نہ نکلا اپنا خیر اب یوں ہی سہی یاد خدا کر دیکھیں چاند تاروں میں جو آباد ہوئے جاتے ہیں وہ کسی دل میں بھی گھر اپنا ...

مزید پڑھیے

حرف معنی سے جدا ہو جیسے

حرف معنی سے جدا ہو جیسے زندگی کوئی سزا ہو جیسے بعد مدت کے یہ محسوس ہوا درد ہی دل کی دوا ہو جیسے اور کیا ہوگی فضائے فردوس تیرے کوچے کی فضا ہو جیسے ان نگاہوں نے جو پرسش کی ہے آج ہر زخم ہرا ہو جیسے آپ سے مل کے تو کچھ ایسا لگا فاصلہ اور بڑھا ہو جیسے آہ کیا عمر گزاری ہم نے نقش بن بن ...

مزید پڑھیے

ہجوم یاس میں جینا بھی اک عذاب ہوا

ہجوم یاس میں جینا بھی اک عذاب ہوا یہی ہوا کہ محبت میں دل خراب ہوا چھپا ہوا ہے جو چہرہ حیا کے دامن میں نہ کوئی آئینہ اس حسن کا جواب ہوا بہم الجھتے رہے شیخ و برہمن اب تک جو ہم اٹھے تو زمانے میں انقلاب ہوا تمہارے حکم پہ ہستی مٹا چکے ہم تو مگر ہماری وفاؤں کا کیا جواب ہوا مری نوا سے ...

مزید پڑھیے

کرب میں پیار کے نغمات سنائیں کیسے

کرب میں پیار کے نغمات سنائیں کیسے غم حقیقت سے حقیقت کو چھپائیں کیسے لب و عارض کے تقاضوں کو بھلا کر یارو دور آ پہنچے ہیں اب لوٹ کے جائیں کیسے ان گنت جام پئے ذلت و رسوائی کے زندگی اور ترے ناز اٹھائیں کیسے دل جو دکھتا ہے ضیاؔ آنکھ بھی بھر آتی ہے لوگ فطرت کے تقاضوں کو چھپائیں ...

مزید پڑھیے

روداد شوق یہ ہے مری مختصر تمام

روداد شوق یہ ہے مری مختصر تمام رعنائیوں میں کھو گیا ذوق نظر تمام گزرا ہے گل بدن کوئی میری تلاش میں مہکی ہوئی ہے آج مری رہ گزر تمام وہ دن بھی کیا تھے جب تھی ہواؤں سے گفتگو اب ہم سے بات کرتے ہیں دیوار و در تمام خود اپنا احتساب گوارا نہیں انہیں اوروں میں عیب ڈھونڈتے ہیں دیدہ ور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4714 سے 6203