قومی زبان

کوئی خدشہ ہے نہ طوفان بلا کچھ بھی نہیں

کوئی خدشہ ہے نہ طوفان بلا کچھ بھی نہیں اب نہ غمزہ ہے نہ انداز و ادا کچھ بھی نہیں عشق کہتے ہیں کسے حسن ہے کیا کچھ بھی نہیں میری آنکھیں تری صورت کے سوا کچھ بھی نہیں کب سے ویران پڑی ہے مرے دل کی دنیا کوئی نغمہ کسی پائل کی صدا کچھ بھی نہیں زہر سے کم نہیں یہ ساغر مے میرے لئے تو نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

اک عمر گزاری ہے تب راز یہ سمجھا ہے

اک عمر گزاری ہے تب راز یہ سمجھا ہے جو کچھ ہے محبت ہے دنیا ہے یہ عقبیٰ ہے اک آپ کا دامن ہے معمور مرادوں سے اک میرا گریباں ہے جو خون میں لتھڑا ہے اخلاص سے عاری ہے اب پرسش غم اے دل یہ رسم ہی دنیا سے اٹھ جائے تو اچھا ہے اس دور کشاکش میں ہم ہوں کہ ضیاؔ تم ہو بکھرے ہوئے موتی ہیں ٹوٹا ہوا ...

مزید پڑھیے

دلبر کہا رفیق کہا چارہ گر کہا

دلبر کہا رفیق کہا چارہ گر کہا جو کچھ بھی تم کو ہم نے کہا سوچ کر کہا وہ تم کہ ہم کو آج بھی مخلص نہ کہہ سکے اور ہم نے ساری عمر تمہیں معتبر کہا یہ رونقیں جہان کی منسوب تم سے کیں پھر ان تجلیوں کو حریم نظر کہا پرسش تری فریب تسلی تری فریب وہ دل کی بات تھی جسے دنیا کا ڈر کہا تیرے نقوش پا ...

مزید پڑھیے

آج مائل بہ کرم اک بت رعنائی ہے

آج مائل بہ کرم اک بت رعنائی ہے ساری دنیا مرے دامن میں سمٹ آئی ہے حسن مصروف تجلی و خود آرائی ہے وہ تماشہ ہی نہیں خود بھی تماشائی ہے آپ سے پہلے کہاں غم سے شناسائی تھی مل گئے آپ تو ہر غم سے شناسائی ہے اس طرح دیکھنا جیسے مجھے دیکھا ہی نہیں یہ ادا آپ کی خود مظہر یکتائی ہے چند کلیاں ...

مزید پڑھیے

نکہت و رنگ نہ موسم کی ہوا ٹھہری ہے

نکہت و رنگ نہ موسم کی ہوا ٹھہری ہے گل کی قسمت میں بہ ہر حال فنا ٹھہری ہے زخم دل کھل اٹھے ہنستے ہوئے پھولوں کی طرح ایک لمحے کو جہاں باد صبا ٹھہری ہے موت کو کہئے علاج غم ہستی لیکن زندگی کون سے جرموں کی سزا ٹھہری ہے اور منصور کوئی مشہد ہستی میں نہ تھا لائق دار جو اک میری انا ٹھہری ...

مزید پڑھیے

نہ پوچھو وجہ میری چشم تر کی

نہ پوچھو وجہ میری چشم تر کی میاں پھر گر گئی دیوار گھر کی یہ مانا دھل گیا سورج سروں سے مرے آنگن کی دھوپ اب تک نہ سر کی جبیں تر خشک لب تلووں میں چھالے یہی روداد ہے اپنے سفر کی بدی نیکی اضافی مسئلے ہیں حکومت ہے دلوں پر صرف ڈر کی گمانوں کا مقدر ہے بھٹکتا یقیں نے ہر مہم دنیا کی سر ...

مزید پڑھیے

آج پھر دشت کوئی آبلہ پا مانگے ہے

آج پھر دشت کوئی آبلہ پا مانگے ہے خار بھی تازگئ رنگ حنا مانگے ہے ضبط غم دسترس آہ رسا مانگے ہے یہ اندھیرا ترے عارض کی ضیا مانگے ہے جاں دہی تشنہ لبی آبلہ پائی بے سود دشت غربت تو کچھ اس کے بھی سوا مانگے ہے پھنک رہا ہے غم ہستی سے وجود انساں زندگی اب ترے دامن کی ہوا مانگے ہے آپ چپکے ...

مزید پڑھیے

دست ناصح جو مرے جیب کو اس بار لگا

دست ناصح جو مرے جیب کو اس بار لگا پھاڑوں ایسا کہ پھر اس میں نہ رہے تار لگا پہنچی اس بت کو خبر نالۂ تنہائی کی مدعی کون کھڑا تھا سر دیوار لگا مرض عشق تمہارا تو یہ طوفاں ہے کہ میں جس سے مذکور کیا اس کو یہ آزار لگا جس کا ملاح بنا عشق وہ کشتی ڈوبی اس کے کھیوے سے تو بیڑا نہ کوئی پار ...

مزید پڑھیے

آہیں افلاک میں مل جاتی ہیں

آہیں افلاک میں مل جاتی ہیں محنتیں خاک میں مل جاتی ہیں صورتیں آبلہ ہائے دل کی خوشۂ تاک میں مل جاتی ہیں صید بسمل کی نگاہیں صیاد تیرے فتراک میں مل جاتی ہیں نگہیں یار کی جوں تار رفو جگر چاک میں مل جاتی ہیں پوپلے زاہدوں کی کھاتے وقت ٹھوڑیاں ناک میں مل جاتی ہیں تھلکیاں دل کی بقاؔ ...

مزید پڑھیے

دل خوں ہے غم سے اور جگر یک نہ شد دو شد

دل خوں ہے غم سے اور جگر یک نہ شد دو شد لب خشک ہیں تو چشم ہے تر یک نہ شد دو شد رسوا تو نالہ کر کے ہوئے لیکن اس نے یار دل میں ترے کیا نہ اثر یک نہ شد دو شد اول تو ہم کو طاقت پرواز ہی نہ تھی تس پر بریدہ ہو گئے پر یک نہ شد دو شد پایا نہ ہم نے سود محبت میں یار کی اس پر بھی پہنچتا ہے ضرر یک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4715 سے 6203