قومی زبان

دل کا سکون آنکھ کا تارا کسے کہیں

دل کا سکون آنکھ کا تارا کسے کہیں یہ سوچنا پڑا ہے کہ اپنا کسے کہیں یہ شور انقلاب یہ ناقوس یہ اذاں ہنگامہ کون سا ہے تماشہ کسے کہیں رہبانیت کا جسم سے فسطائیت کی روح کس کو رفیق خون کا پیاسا کسے کہیں سب ملتے جلتے چہرے ہیں دشمن بھی دوست بھی قاتل کسے بتائیں مسیحا کسے کہیں ہر ذرۂ ...

مزید پڑھیے

رنج نا آسودگی کرب ہنر دیکھے گا کون

رنج نا آسودگی کرب ہنر دیکھے گا کون نقش فریادی ہے کس کا دیدہ ور دیکھے گا کون جنبش لب ہی سے کھل جائے گا معنی کا بھرم اس کے حرف نا شنیدہ کا اثر دیکھے گا کون اپنی دنیا تک رکھو محدود پروازیں ابھی نیلگوں پہنائیوں میں بال و پر دیکھے گا کون اپنے کمرے کا کوئی گلدان خالی کیوں رہے پھول ...

مزید پڑھیے

روز وحشت ہے مرے شہر میں ویرانی کی

روز وحشت ہے مرے شہر میں ویرانی کی اب کوئی بات نہیں بات پریشانی کی میرے دریا کبھی دریا بھی ہوا کرتے تھے اب بھی آواز سی آتی ہے مجھے پانی کی آئنہ خانے کے باہر وہ مجھے پوچھتے ہیں آئنہ خانے میں کیا بات تھی حیرانی کی اب غزالاں سے کہو چھپ کے کہیں بیٹھ رہیں آمد آمد ہے کسی غول بیابانی ...

مزید پڑھیے

سامنے سب کے نہ بولیں گے ہمارا کیا ہے

سامنے سب کے نہ بولیں گے ہمارا کیا ہے چھپ کے تنہائی میں رو لیں گے ہمارا کیا ہے گلشن عشق میں ہر پھول تمہارا ہی سہی ہم کوئی خار چبھو لیں گے ہمارا کیا ہے عمر بھر کون رہے ابر کرم کا محتاج داغ دل اشکوں سے دھو لیں گے ہمارا کیا ہے ہاتھ آیا نہ اگر دست حنائی تیرا انگلیاں خوں میں ڈبو لیں گے ...

مزید پڑھیے

اڑے نہیں ہیں اڑائے ہوئے پرندے ہیں

اڑے نہیں ہیں اڑائے ہوئے پرندے ہیں ہمیں نہ چھیڑ ستائے ہوئے پرندے ہیں قفس میں قید کرو یا ہمارے پر کاٹو تمہارے جال میں آئے ہوئے پرندے ہیں ہوا چلے گی تو بچے اڑائیں گے ان کو یہ کاغذوں سے بنائے ہوئے پرندے ہیں جمے ہوئے ہیں یہ شاخوں پہ اس طرح جیسے شجر کے ساتھ اگائے ہوئے پرندے ہیں فلک ...

مزید پڑھیے

یوں ستم گر نہیں ہوتے جاناں

یوں ستم گر نہیں ہوتے جاناں پھول پتھر نہیں ہوتے جاناں کیوں مرے دل سے کہیں جاتے ہو گھر سے بے گھر نہیں ہوتے جاناں وصل کی شب جو کرم تم نے کیے کیوں مکرر نہیں ہوتے جاناں ہم تمہیں بت کی طرح پوجتے ہیں پھر بھی کافر نہیں ہوتے جاناں غم کے دیپک نہیں جلتے جب تک دل منور نہیں ہوتے جاناں ہم ...

مزید پڑھیے

اداس بام ہے در کاٹنے کو آتا ہے

اداس بام ہے در کاٹنے کو آتا ہے ترے بغیر یہ گھر کاٹنے کو آتا ہے خیال موسم گل بھی نہیں ستم گر کو بہار میں بھی شجر کاٹنے کو آتا ہے فقیہ شہر سے انصاف کون مانگے گا فقیہ شہر تو سر کاٹنے کو آتا ہے اسی لیے تو کسانوں نے کھیت چھوڑ دئیے کہ کوئی اور ثمر کاٹنے کو آتا ہے ترے خیال کا آہو کہیں ...

مزید پڑھیے

دشت و دریا کے یہ اس پار کہاں تک جاتی

دشت و دریا کے یہ اس پار کہاں تک جاتی گھر کی دیوار تھی دیوار کہاں تک جاتی مٹ گئی حسرت دیدار بھی رفتہ رفتہ ہجر میں حسرت دیدار کہاں تک جاتی تھک گئے ہونٹ ترا نام بھی لیتے لیتے ایک ہی لفظ کی تکرار کہاں تک جاتی لاج رکھنا تھی مسیحائی کی ہم کو ورنہ دیکھتے لذت آزار کہاں تک جاتی راہبر ...

مزید پڑھیے

تیری طرح ملال مجھے بھی نہیں رہا

تیری طرح ملال مجھے بھی نہیں رہا جا اب ترا خیال مجھے بھی نہیں رہا تو نے بھی موسموں کی پذیرائی چھوڑ دی اب شوق ماہ و سال مجھے بھی نہیں رہا میرا جواب کیا تھا تجھے بھی خبر نہیں یاد اب ترا سوال مجھے بھی نہیں رہا جس بات کا خیال نہ تو نے کبھی کیا اس بات کا خیال مجھے بھی نہیں رہا توڑا ہے ...

مزید پڑھیے

مجھ سے بچھڑ کے وہ بھی پریشان تھا بہت

مجھ سے بچھڑ کے وہ بھی پریشان تھا بہت جس کی نظر میں کام یہ آسان تھا بہت سوچا تو بے خلوص تھیں سب اس کی قربتیں جس کے بغیر گھر مرا ویران تھا بہت بے خواب سرخ آنکھوں نے سب کچھ بتا دیا کل رات دل میں درد کا طوفان تھا بہت یہ کیا کیا کہ پیار کا اظہار کر دیا میں اپنی اس شکست پہ حیران تھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4713 سے 6203