قومی زبان

دم صبح آندھیوں نے جنہیں رکھ دیا مسل کے

دم صبح آندھیوں نے جنہیں رکھ دیا مسل کے وہی ننھے ننھے پودے تھے گھنے درخت کل کے نئے ساتھیوں کی دھن میں تری دوستی کو چھوڑا کوئی تجھ سا بھی نہ پایا ترے شہر سے نکل کے وہی رسم کم نگاہی وہی رات کی سیاہی مرے شہر کے چراغو یہاں کیا کرو گے جل کے نئے خواب میری منزل تہہ آب میرا ساحل تمہیں ...

مزید پڑھیے

بادل ہے اور پھول کھلے ہیں سبھی طرف

بادل ہے اور پھول کھلے ہیں سبھی طرف کہتا ہے دل کہ آج نکل جا کسی طرف تیور بہت خراب تھے سنتے ہیں کل ترے اچھا ہوا کہ ہم نے نہ دیکھا تری طرف جب بھی ملے ہم ان سے انہوں نے یہی کہا بس آج آنے والے تھے ہم آپ کی طرف اے دل یہ دھڑکنیں تری معمول کی نہیں لگتا ہے آ رہا ہے وہ فتنہ اسی طرف خوش تھا ...

مزید پڑھیے

چشم نم سے دیکھتا ہے کیوں مری چشم پر آب

چشم نم سے دیکھتا ہے کیوں مری چشم پر آب تیرے دل کی برف نے دیکھا نہیں ہے آفتاب یوں گزرتی جا رہی ہے زندگی کی دوپہر دل میں اک امید کاذب اور آنکھوں میں سراب خود سری اس تند خو کی جاتے جاتے جائے گی ایک ہی دن میں کبھی آتا نہیں ہے انقلاب تم نے ہم کو کیا دیا اور ہم سے تم کو کیا ملا مل گئی ...

مزید پڑھیے

کرنا ہے گر مجھے شکار لا کوئی جال مختلف

کرنا ہے گر مجھے شکار لا کوئی جال مختلف شاطر ہے تو اگر تو اب چل کوئی چال مختلف تیرے یہ سارے شعبدے میرے لیے نہیں نئے کر کے دکھا کبھی مجھے کوئی کمال مختلف لگتے ہیں یہ جو کامیاب ہیں جیسے آب پر حباب پیش نگہ انہیں نہ رکھ ڈھونڈ مثال مختلف جن کو ملیں بلندیاں دیکھیں انہوں نے ...

مزید پڑھیے

ہمارے ساتھ زمانہ کیا کرے کچھ بھی

ہمارے ساتھ زمانہ کیا کرے کچھ بھی ذرا ملال نہ ہو تو نہ گر کہے کچھ بھی وہ اور وقت تھے جب انتخاب ممکن تھا کریں گے اہل ہنر کام اب ملے کچھ بھی نہیں ہے وقت مرے پاس ہر کسی کے لیے مری بلا سے وہ ہوتے ہوں آپ کے کچھ بھی جو میرا حق ہے مجھے وہ تو دیجیے صاحب طلب کیا نہیں میں نے جناب سے کچھ ...

مزید پڑھیے

کتنی ہی بے ضرر سہی تیری خرابیاں

کتنی ہی بے ضرر سہی تیری خرابیاں باصرؔ خرابیاں تو ہیں پھر بھی خرابیاں حالت جگہ بدلنے سے بدلی نہیں مری ہوتی ہیں ہر جگہ کی کچھ اپنی خرابیاں تو چاہتا ہے اپنی نئی خوبیوں کی داد مجھ کو عزیز تیری پرانی خرابیاں جوں ہی تعلقات کسی سے ہوئے خراب سارے جہاں کی اس میں ملیں گی خرابیاں سرکار ...

مزید پڑھیے

گو کہ پیچھے بہت قطار میں تھے

گو کہ پیچھے بہت قطار میں تھے کسی گنتی کسی شمار میں تھے سو بلاؤں سے ہم رہے محفوظ اک پر اسرار سے حصار میں تھے خوش ہوا ہوں غموں سے مل کے یوں جیسے یہ میرے انتظار میں تھے تین میں ہیں نہ اب وہ تیرہ میں جو کبھی پہلے تین چار میں تھے اب وہ سارے خزاں میں ہیں باصرؔ رنگ جتنے کبھی بہار میں ...

مزید پڑھیے

سازش انتشار میں مصروف

سازش انتشار میں مصروف ہے خزاں بھی بہار میں مصروف ہم نے رکھا کئی طرح خود کو فرصت انتظار میں مصروف مثل سیارگاں بنی آدم اپنے اپنے مدار میں مصروف عشق روتا ہے آٹھ آٹھ آنسو حسن سولہ سنگھار میں مصروف آہ وہ وقت جب لہو میرا تھا دل بے قرار میں مصروف زندگی کٹ رہی ہے باصرؔ کی بے ثمر ...

مزید پڑھیے

منعم نہ ہاتھ کھینچ مدد سے غریب کی

منعم نہ ہاتھ کھینچ مدد سے غریب کی روزی ہے تیرے رزق میں اس کے نصیب کی حیران کن تھی چپ بھی تمہاری مرے لیے بولے ہو اب تو بات بھی تم نے عجیب کی سامان عیش دیکھ کے بزم نشاط میں رہتی ہے یاد کس کو نصیحت طبیب کی کب تک کرو گے اہل سیاست پہ اعتبار یارو کبھی سنو کسی شاعر ادیب کی ہو جن کی سب ...

مزید پڑھیے

چاہتے ہو اگر ہنر پورا

چاہتے ہو اگر ہنر پورا اس میں لگ جائے گا جگر پورا یا تو ہو جائیں اس میں پورے غرق یا کریں عشق سے حذر پورا جانتا ہوں کہ خیر خواہ ترے تجھ کو رکھتے ہیں باخبر پورا مشورہ اس مشیر سے مت کر ہو جو آدھا ادھر ادھر پورا پھول خوشبو سے بھر گئے باصرؔ چاند چمکا ہے رات بھر پورا

مزید پڑھیے
صفحہ 4649 سے 6203