قومی زبان

جنگل میں مور

ایک دن اک مور سے کہنے لگی یہ مورنی خوش صدا ہے خوش ادا ہے خوش قدم خوش رنگ ہے اس بیاباں تک مگر افسوس تو محدود ہے جب کبھی میں دیکھتی ہوں محو تجھ کو رقص میں ایک خواہش بے طرح کرتی ہے مجھ کو بے قرار کاش تجھ کو دیکھ سکتی آنکھ ہر ذی روح کی

مزید پڑھیے

کشکول

جتنی بھیک مجھے درکار تھی اس کے لیے میرا کشکول بہت چھوٹا تھا آخر میں نے توڑ دیا اپنا کشکول اور دونوں ہاتھوں سے دامن پھیلایا

مزید پڑھیے

کیسی محفل میں اے دل تجھ کو لایا ہوں دیکھ ذرا

کیسی محفل میں اے دل تجھ کو لایا ہوں دیکھ ذرا میں نے تیرے عیش کرائے اب تو میرے عیش کرا لگتا ہے یہ ناصح بھی ہے جن کی طرح کی کوئی چیز یک دم آ دھمکے گا کہیں سے جوں ہی میں نے جام بھرا گاڑی کی رفتار بھی تیز ہے رستہ بھی ہے نا ہموار دھیرے دھیرے شانت ہوا ہوں پہلے تو میں بہت ڈرا اپنی مہارت ...

مزید پڑھیے

خط میں کیا کیا لکھوں یاد آتی ہے ہر بات پہ بات

خط میں کیا کیا لکھوں یاد آتی ہے ہر بات پہ بات یہی بہتر کہ اٹھا رکھوں ملاقات پہ بات رات کو کہتے ہیں کل بات کریں گے دن میں دن گزر جائے تو سمجھو کہ گئی رات پہ بات اپنی باتوں کے زمانے تو ہوا برد ہوئے اب کیا کرتے ہیں ہم صورت حالات پہ بات لوگ جب ملتے ہیں کہتے ہیں کوئی بات کرو جیسے رکھی ...

مزید پڑھیے

ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتے

ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتے اوروں کے تو کیا ہوں گے وہ اپنے نہیں ہوتے مل ان سے کبھی جاگتے ہیں جن کے مقدر تیری طرح ہر وقت وہ سوئے نہیں ہوتے دن میں جو پھرا کرتے ہیں ہشیار و خبردار وہ میری طرح رات کو جاگے نہیں ہوتے ہم ان کی طرف سے کبھی ہوتے نہیں غافل رشتے وہی پکے ہیں جو پکے ...

مزید پڑھیے

چھوٹا سا ایک کام ہمارا نہیں کیا

چھوٹا سا ایک کام ہمارا نہیں کیا باصرؔ تمہارے یار نے اچھا نہیں کیا رہتی رہی ہے کوئی نہ کوئی کمی ضرور ایسا نہیں کیا کبھی ویسا نہیں کیا دو چار بار دیکھ لو خود جا کے اس کے پاس کچھ بے سبب تو ہم نے کنارا نہیں کیا کہتے رہے ہو تم اسے ہمدرد و غم گسار اور اس نے بات کرنا گوارا نہیں کیا گر ...

مزید پڑھیے

ہر چند میرے حال سے وہ بے خبر نہیں

ہر چند میرے حال سے وہ بے خبر نہیں لیکن وہ بے کلی جو ادھر ہے ادھر نہیں آواز رفتگاں مجھے لاتی ہے اس طرف یہ راستہ اگرچہ مری رہ گزر نہیں چمکی تھی ایک برق سی پھولوں کے آس پاس پھر کیا ہوا چمن میں مجھے کچھ خبر نہیں کچھ اور ہو نہ ہو چلو اپنا ہی دل جلے اتنا بھی اپنی آہ میں لیکن اثر ...

مزید پڑھیے

کتنا کام کریں گے

کتنا کام کریں گے اب آرام کریں گے تیرے دیے ہوئے دکھ تیرے نام کریں گے اہل درد ہی آخر خوشیاں عام کریں گے نوکری چھوڑ کے باصرؔ اپنا کام کریں گے

مزید پڑھیے

ہم الگ بیٹھ رہے چپ ہو کر

ہم الگ بیٹھ رہے چپ ہو کر اب ترے جی میں جو آئے سو کر اب تجھے کھو کے خیال آتا ہے تجھ کو پایا تھا بہت کچھ کھو کر کیا برا ہے مجھے اچھا ہونا کوئی تدبیر اگر ہے تو کر تم نے کیا کر لیا رہ کر بیدار ہم نے تو عمر گنوا دی سو کر آج تک تم نہیں سنبھلے باصرؔ کھائی تھی کس کی گلی میں ٹھوکر

مزید پڑھیے

کہاں سیاست اغیار نے ہلاک کیا

کہاں سیاست اغیار نے ہلاک کیا ہمیں تو اپنے ہی افکار نے ہلاک کیا کسی کی موت کا باعث تھی خانہ ویرانی کسی کو رونق گلزار نے ہلاک کیا کسی کے واسطے پھولوں کی سیج موجب مرگ کسی کو جادۂ‌ پر خار نے ہلاک کیا کسی کو شعلۂ خورشید نے جلا ڈالا کسی کو سایۂ اشجار نے ہلاک کیا سواد شام کسی کے لئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4648 سے 6203